Featured Post

Something else

No its not writer's block Its something else Just wondering why am I not writing much these days!

Sunday, November 30, 2014

Don't

Don't run
I may remain behind
Don't fear
I believe in your strengths
Don't weep
I can not see you cry
Don't go
I may not wait forever
Don't worry
Things may change for better
Don't think
It won't make a difference
Don't forget
Love is condemned to survive

Saturday, November 29, 2014

Quoting Elif Shafak

"Tell me, mahout, have you ever been in love?"

Jahan said, a little uncertainly,"all I know about love is that it brings heartache , your highness"

From the howdah came the saddest melody fluttering in the breeze like a feather from a bird long gone. The poet recited : Behold the beauty that expands the heart within the mirror of the rose-

Quote: The Architect's Apprentice
Elif Shafak

Beyond superficial

Is it about beiñg beautiful with a trim figure, fair skin, silk perfectly cut hair, nicely manicured hands, softly protected feet?

Is it only about looking sexy, wearing sleeveless off the shoulder dress, exposing skin to be caught by someone's eyes?

Or when it comes to guys is it about being tall dark and handsome with perfect eyes, branded clothes , luxurious cars  or the most latest gadgets?

Yes to many and most.

But there are still a few for whom these are secondary or added charms
 The true  attraction lies deep and beyond the superficial standards

For the temporary charms will go away shortly while the deep bonding stays beyond boundaries.

existence

In the end its all a matter of existence vs non-existence 

Friday, November 28, 2014

Thursday, November 27, 2014

Wednesday, November 26, 2014

Monday, November 24, 2014

Doctor's dilemma

Its one thing to report malignancy , its another to communicate the news to a patient.
Telling someone that you have a deadly disease which would make your life shortened is such a horrific thing.

And the dilemma is when you find out that the same deadly disease is effecting one of your dear family member and you being a pathologist know so much more than an otherwise ordinary doctor could have known.

The next step is even more traumatic when out of all mature people in family , the responsibility of breaking out the news to the patient is given to you.

All you strive for is to pose to be the strongest and logical amd sympathetic at the same time while in privacy of the night or a flight ,you break down and cry.

And pray with tears rolling down your cheeks.

Its difficult to be strong and fragile at the same time.

Remembering Parveen Shakir



Dua ka toota hua harf sard aah mein hai 
Teri judayi ka manzar abhi nigah mein hai 

Tere badalne ke bawasf tujhko chaha hai 
Yeh aitraaf bhi shamil mere gunah mein hai 

Azaab dega toh phir mujhko khwab bhi dega 
Mein mutmaeen hoon mera dil teri panah mein hai 

Jise bahar ke mehman khali chodh gaye 
Wo ek makan abhi tak makiin ki chah mein hai 

Yahi woh din the jab ek dosre ko paya tha 
Hamari salgirah theek ab ke maah mein hai 



Mein bach bhi jaoon toh tanhayi maar daalegi 
Mera qabila ka har fard, Qatl gaah mein hai



Remembering Parveen shakir on her birthday.

comfort

Comfort could be
Your hand on my shoulder
Or My fingers in your hair
Comfort would be
Sleeping in your arms
Or Your head in my lap
Comfort could be
Hearing your soft whispers
Or telling you all my tales
Comfort would be
Feeling you close in this darkness
Or seeing you in my dream

Sunday, November 23, 2014

Big tests

It isn't easy to be strong, it puts you through more tests than the norm.

At times those who pose to be the strongest need to have a sympathetic ear to vent out, a tender heart to provide comfort and a big shoulder to cry on.

while flying

Whispers sent into air
For someone who could hear
Feelings left in the clouds
To sprinkle on you in showers
I may not be there again
The air and clouds will remain

Friday, November 21, 2014

Thursday, November 20, 2014

Wednesday, November 19, 2014

شام شہر یاراں ......5

 زین نےگھڑی  دیکھی  . دس بجنے  میں ابھی ایک گھنٹہ بارہ منٹ باقی تھے . وہ جیسے ایک ایک پل  گن رہا تھا . 

ازمینہ اب تک موسیقی کے  پھیلاے ہوے سحر میں گم تھی، شاید اسی لیے اسے وقت کے اتنے تیزی سے گزرنے کا احساس نہیں ہو رہا تھا 

وہ لوگ اب اوپر لے جانے والے گول چکر دار زینے پر تھے . ازمینہ اپنی اونچی ایڑی کے جوتوں کی وجہ سے سہج سہج   کر قدم اٹھا رہی تھی. زین اس کے بلکل پیچھے تھا. جب اچانک سے  سمندر کی لہروں میں کوئی تلاطم اٹھا اور کشتی ڈول اٹھی. ازمینہ کا پیر سیڑھی میں موجود خلا میں اٹکا اور وہ بری طرح لڑکھرائی. 

زین نے اسے سہارا دینے کی کوشش کی مگر اس سے پہلے وہ خود کوگرنے سے بچا چکی تھی 

 کچھ دیر ریلنگ تھامے وہ دونوں یوں ہی کھڑے  رہے . شاید کوئی موج بے قرار تھی   

کہیں طوفان تو نہیں آ رہا زین؟

وہ سچ مچ میں خوف زدہ  تھی

"کاش " وہ کھل کر ہنسا تھا . مگر تم بے فکر ہو جاؤ ، نہ یہ ٹائی ٹینک ہے اور نہ تم روز !

 "زین تم بھی حد کرتے ہو یہاں خوف سے میری جان  نکل رہی ہے وہاں تمھیں مذاق سوجھا  ہے "

"کچھ نہیں ہو رہا تمھیں، ابھی بہت جینا ہے تم نے، چلو اوپر چلو شاباش، اور پہنو ہائی ہیل ! بدلنا نہیں ہے نہ تم نے . وہاں اسلومیں سب   جوتوں کی دکان والے تمھیں پہچانتے تھے اب یہاں کراچی میں بھی یہی صورت حال ہوگی ہے نہ؟"

"جی نہیں . میں صرف مخصوص دکانوں سے جوتے خریدتی ہوں"

باتیں کرتے کرتے وہ اپنا خوف بھلا کر اب اپر عرشے پر آ چکی تھی

"وہ بھی سر پکڑ لیتے ہونگے جب تم دکان میں داخل ہوتی ہوگی اور میچنگ کے کپڑےنکال کر کہتی ہوگی اس کلر کا جوتا چاہیے."

ازمینہ نے گھور  کر اسے دیکھا تھا

"تم کچھ بھولتے ہو؟؟"

"اتنی خواری کون بھول سکتا ہے. وہ میچنگ کے کپڑے اور سویٹر کے شاپنگ بیگز اٹھانا میرا کام ہوتا تھا. ایک بار تو تنگ  آ کر امی  سے میں نے  تمہاری شکایات بھی لگائی تھی"

"کتنے فضول ہو تم زین، آنٹی سے میری شکایتیں کرتے تھے تم!"

"اس دن جو تم نے حد کر دی تھی، کیوں کہ میرا ٹریک سوٹ پرپل رنگ کا ہے اس لیے مجھے جوگرز بھی اسی رنگ کے چاہیے، ماں کے پاس جا کے دکھڑے نہ روتا تو اور کیا کرتا "

ازمینہ بے ساختہ ہنسی تھی

"یہ تو  واقعی زیادتی کری دی تھی میں نی تمہارے ساتھ. آئ یم سوری !"

وہ دونوں عرشے کی ریلنگ سے جھک کر سمندر میں اترنے  والے مدو جزر کو دیکھ رہے تھے . چاند  چپ چاپ تھا مگر ستارے جھلملا رہے تھے اور اپنے ہونے کا احساس دلا رہے تھے

":ہاں بالکل . کچھ تو شرمندگی ہونی چاہیے تم کو، جس دن تم آ کر کہتی تھیں زین  "شو شاپنگ" اس دن میری حالت تباہ ہو جاتی تھی. مگر امی کہتی تھیں ساری  زندگی تم نے یہی کام کرنا ہے اس لیے عادت ڈال لو"

ازمینہ نے مڑ  کر اسے دیکھا تھا . صرف ایک لمحے کے فرق سے زین کو احساس ہوا تھا کہ وہ کیا کہ گیا ہے . اس بات کا یہ کوئی مناسب  مقام تو نہیں تھا

ازمینہ ایک بار پھر  رخ موڑ کر سمندر کی جانب دیکھنے لگی، زین نے  اپنے بالوں میں بے اختیار  ہاتھ پھیرا

دونوں کے درمیان اب بہت دور تلک ایک شور مچاتی خاموشی  تھی

"ازمینہ " اس نے ریلنگ پر رکھے ازمینہ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا

وہ مستقل سمندر کی جانب رخ کے کھڑی رہی

"مجھے اندازہ ہے  کہ تمہارے لیے یہ ذکرتکلیف  دہ ہے مگر کچھ باتوں کو دہرانا ضروری ہوتا ہے میں نے سارا سے شادی کا فیصلہ کر کے صرف تمھیں دکھ نہیں دیا تھا ، سب سے زیادہ تکلیف تو میری ماں کو ہوئی تھی.. حالاں کہ کچھ بھی طے نہ ہونے کے باوجود کم از کم میری فیملی میں سب کو یہ اندازہ تھا کہ جب کبھی میری شادی کی باری آئی تو انہیں کسی لڑکی کو ڈھونڈنا نہیں ہوگا. یہ سب  اتنا صاف اور شفاف تھا جیسے کتاب میں لکھے حرف  جو طے  شدہ ہوتے ہیں."

"زین پلیز . ہم کوئی اور بات کر سکتے ہیں؟" اس کی آنکھوں میں درد کی لہر تھی ، وہ ٹھیک سے بول بھی نہیں پا رہی تھی

"میں نے  سات سال انتظار کیا ہے اس موقع کا، پلیز میری بات سن لو "

 "ازمینہ  مجھے کہ لینے دو کہ جب تک سارا سے نہیں ملا تھا ، مرے پاس تمہارے سوا کوئی دوسرا آپشنز نہیں تھا. ہم بہترین دوست تھے، ہر وقت کے ساتھی ، childhood sweethearts. "

"لیکن نصیب اور تقدیر پھر اور کیا ہوتی ہے کہ تمہارے ہوتے ہوے میں سارا سے ملا اور سب کچھ بدل گیا. وہ میرا نصیب تھی اور تم نہیں. شاید اسی لیے صرف چھ مہنوں میں میں اسے پرو پوز کر چکا تھا ، تم سمیت اپنے سب گھر والوں کو ناراض کر کے "

ازمینہ کی آنکہ ایک لمحے کو بھر آئی تھی، سب بھولے بسرے دکھ یاد انے لگے تھے

"تم ٹھیک کہتی ہو میں نی کیمپس کی سب سے خوبصورت لڑکی کو پسند کیا تھا ،  اور اس بات کا احساس سارا کو مجھ سے بھی کہیں زیادہ تھا ، اسے اپنے حسن پر  بہت ناز تھا "

"تھا؟" ازمینہ چپ نہ رہ سکی 

"تھا . کیوں کہ پھر اس سے وہ ناز چھین  لیا گیا|

"زین؟" اس نے جیسے سانس روک کر پوچھا تھا 

" ہم بہت خوش تھے ازمینہ، کوئی خوبصورت ساتھی ساتھ ہو تو سب کچھ خوبصورت لگنے لگتا ہے . تین سال   گزرے پتا ہی نہیں لگا، میں دبئی میں بہت اچھی طرح  سیٹ  ہو چکا تھا . ہم اپنی پہلی اولاد کے دنیا میں انے کا انتظار  کر رہے تھے جب وہ خوفناک حادثہ ہوا جس نے ہماری زندگی بدل دی. اور یہ سب میری لاپرواہ ڈرائیونگ کا نتیجہ تھا، میرا تو صرف بازو فریکچر ہوا مگر سارا کو بہت خراب زخم لگے، شیشے کے ٹکڑے اس کے چہرے میں چلے گئے، ہمارا بچہ اس دنیا میں نہ آ سکا، سارا کوما میں چلی گئی . لیکن جس بات نی سب سے زیادہ اس پر اثر ڈالا وہ یہ تھا کہ اس کا چہرہ بہت  خراب ہو گیا تھا. اس کی خوبصورتی کہیں غایب  ہو گئی تھی، وہ آئینہ دیکھ کر چیخیں مارنے  لگتی، اور اب وہ ایک ڈپریشن  کی مریضہ بن چکی ہے. "

ازمینہ کے ہاتھ پر رکھا اس کا ہاتھ کانپنے لگا 

اسنے  زین کا ہاتھ مضبوطی سے اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا . اس کا دل رو رہا تھا ، وہ تو نہیں جانتی تھی  کہ زین اتنے کڑے  حالات  سے گزر رہا ہے 

"زین میں آنٹی سے بھی تو ملی تھی ، انہوںنے  تو کوئی ایسا ذکر نہیں کیا "

"وہ میری ماں ہیں ازمینہ . وہ مجھے مجھ سے زیادہ جانتی ہیں. اس مشکل وقت میں اگر وہ مجھ سے تمارا اور تم سے میرا ذکر کر دیتیں تو شاید یہ ایسے ہوتا کہ ہمارے گزرے خواب پھر سے جاگ اٹھتے ، میں تم کو پھر سے ڈھونڈنے لگتا . اور تمہاری زندگی الگ متاثر ہو جاتی. وہ بجھی ہوئی چنگاری کو کیوں کریدتیں "

"وہ چنگاری جو کبھی بجھی ہی نہیں " ازمینہ نے جیسے ہواؤں میں سرگوشی کی 

"یہ بات شاید تم جانتی ہو یا  شاید میں. لیکن ہم دونوں کے سوا اور کوئی نہیں. یہ تو ایک راز ہے ازمینہ جس کا  گواہ ہمارے دلوں کے علاوہ اور کوئی ہو نہیں سکتا"

کب سے مچلنے والا اس کی آنکہ کا آنسو اب بہ نکلا تھا. اتنے سالوں کو فرقت میں وہ اسی آگ میں تو جلتی رہی  تھی  کہ وفا کے اس سفر کی ووہ تنہا مسافر تھی  اور وہ کہیں نہیں تھا 

مگر آج زین منصور نے جیسے اسکے چھالوں پر کوئی مرہم رکھ دیا تھا 

وہ صرف childhood sweethearts نہیں تھے .

ان کا ساتھ  تو ابدی تھا 

کچھ مسافتیں بے انت ہوتی  ہیں . کچھ ساتھ ہمیشگی کے ہوتے ہیں ، کچھ کہانیاں  ابتدا تو ہوتی ہیں مگر ان کا کوئی اختتام نہیں ہوتا 

کچھ کردار مکمّل ہو کر بھی ادھورے رہتے ہیں 

وہ دونوں اپنے اپنے مقام پر چپ اوڑھے کھڑے تھے. صرف سمندر شور کر رہا تھا 

زین جانتا تھا کشتی اپنا رخ واپسی کے لیےموڑ  چکی ہے ، دس بجنے والے تھے اور وہ اسے مزید رو کنے کا کوئی حق نہیں رکھتا تھا 

 ازمینہ وقت کی آہٹ کے احساس سے کافی دور اب تک سوچوں میں کھوئی ہوئی تھی ، زین کا ہاتھ اب بھی اس کے ہاتھوں میں تھا 

کچھ دور اب ہوٹل کی روشنیاں جھلملاتی ہوئی نظر انے لگی تھیں 

صرف چند لمحوں کا ساتھ اور تھا اور پھر اس نے چلے جانا تھا 

"ازمینہ " وہ جیسے اسے جگانے لگا 

"هم " وہ لوٹی 

"دس بجنے والے ہیں "

"اتنا جلدی؟" وہ بے ساختہ بولی. اس کے لہجے میں بے یقینی تھی 

"ہاں اتنا جلدی" وہ مسکرایا 

کشتی ساحل سے آ لگی تھی اور لنگر انداز ہو رہی تھی. 

ازمینہ کی سانسیں ایک بار پھر بے ترتیب ہونے لگیں . مگر وقت تو بے رحم تھا

زین نے  اپنا ہاتھ اس کی گرفت سے آزاد کیا اور اور اسے شانوں سے تھام کر اس کا رخ اپنی جانب موڑا 

"جاؤ  سنڈریلا . اس سے پہلے کہ گھڑی  کا کانٹا بارہ پر آ جاتے  اور تمھیں ان ہائی ہیلز کے ساتھ بھاگنا پڑے اور تم اپنا ایک جوتا یہیں چھوڑر جاؤ   " وہ مسکرایا . مگر اس کی آنکھوں میں عجیب تھکن تھی " میں پرنس چارمنگ تو نہیں ہوں "

وہ کچھ نہ کہ سکی ، یہ بھی نہیں کہ اس کے لیےووہی پرنس چارمنگ تھا. یہ بھی نہیں کہ  وہ اپنا ایک جوتا یہاں  جان بوجھ کر بھول جانا چاہتی ہے. اگلی ملاقات کے لیے کوئی توامید   مل سکے 

زین نے  اپنے ہاتھ اس کے شانوں سےہٹا ے اور کچھ دور ہو کر اسے دیکھنے لگا 

"جاؤ" 
 "خدا حافظ" وہ سر جھکا کر بولی اور زینے کی جانب چلنے لگی 

وہ زینے تک پنہچ چکی تھی  جب اس نے اک آس  پر پلٹ  کر دیکھا 

زین نے  خدا حافظ کا جواب نہیں دیا تھا . وہ حیرت زدہ تھی 

وہ اس کی جانب دیکھ بھی نہیں رہا تھا ، وہ صرف اس کی پشت دیکھ سکتی تھی 

 بھیگی پلکوں کو صاف  کرتے ہوے وہ  سیڑھی اترنےلگی 

. اسے آخری لمحے تک یہ بات سمجھ نہیں آ سکی تھی کہ کچھ کہانیوں کا اختتام نہیں ہوتا . وہ جاری رہتی ہیں، 



Tuesday, November 18, 2014

Let me


Before the eyes are glazed
before the lips are dried
before the skin withers down
before the memories fade out
let me catch my breath
let me see you once again

Question

Why it had to be you
Why it had to be me
Why you are not ordinary
Why am I such a dreamer

Monday, November 17, 2014

Untitled

And sometimes
on a night like this
I need you close
Not just your memory!

I fear

I fear uncertainty
The unseen that has yet to come
The unknown that has yet to be dealt with
The undeniable that is to be accepted
The unfinished that will reach to an end
I fear so much I feel helpless 

شام شہر یاراں .......4

 افق پر پھیلی شفق کی لالی دھیرے دھیرے اندھیرے میں گم ہو رہی تھی. سمندر کی لہروں کے مدو جزر سے ٹکرا کر آنے  والی ہوا  کچھ اور   خنک ہوگئی  تھی 

ازمینہ نے سر اٹھا کر آسمان کی جانب دیکھا. اسے لگا کہ ایک عرصے کے بعد وہ اس قدر کھلا  اور شفاف آسمان دیکھ رہی ہے. شہر کے ہنگامے اور بھیڑ  سے دور اور بلکل الگ تھلگ ، ایسی تنہائی اسے پہلے کب نصیب ہوئی  تھی، 

چاند بھی موجود تھا ، مگرادھورا  تھا. ان دونوں کی طرح.

"نہیں صرف میری طرح." ازمینہ نے فورا   ہی اپنے خیال کی تردید کی. "وہ تو مکمّل تھا."

 آپ اپنی میڈی ٹیشن  سے باہر آنے کا کوئی ارادہ رکھتی ہیں؟" اسے زین کی مسکراتی آواز اس سمندری کشتی کے عرشے پر واپس لے آئی

ریلنگ سے کچھ پڑے ، آرام دہ نشستوں کے ساتھ گاؤ  تکیے رکھے تھے اور اس وقت وہ دونوں وہیں بیٹھے ہوے تھے.

میں یہیں ہوں." وہ دھیرے سے بولی "  

"کیا سوچ رہی تھیں. مجھے پتا لگ گیا تم اتنا اچھا کیسے لکھ لیتی ہو"

"کیسے؟"

"کیوں کہ تم سوچتی بہت ہو"

"یہی تو ایک ایسا  کام ہے جس میں کوئی مداخلت نہیں کر سکتا" وو کہنے لگی".

"ورنہ یہاں تو سانس لینےکے  لیے بھی اجازت لینا پڑتی ہے "

"سو لکھنا تمہارے لیے کتھارسس ہے؟"

"ہاں بالکل . جو میں کہ نہیں پاتی ، جو میں کر نہیں سکتی ، وہ میرے کردار کر لیتے ہیں "

وہ مسکرائی 

"چلو اچھا ہے ، تم نے کوئی راستہ تو ڈھونڈ نکالا ہے، بہت سے لوگ یہ بھی نہیں ڈھونڈ پاتے " وہ شانےاچکاتے  ہوے بولا  

"مجھے نہیں لگتا تم سمجھ سکتے ہو جو میں کہناچاہ ہ رہی ہوں. 

"وہ کیسے؟ "

:جب آپ اپنے پنسدیدہ حالات میں جی رہے ہوں جہاں ہر چیز وہ میسّر ہو جو آپ کی اپنی خواہش ہو، پھر آپ ان لوگوں کو کیسے سمجھ سکتے ہیں جو مسلسل محرومی  کے احساس کا شکار ہوں "

  اور میرا یہ خیال تھا کہ تم ایک مکمّل زندگی گزر رہی ہو اور بہت خوش ہو؟" زین کے  لہجے میں پہلی بار فکرمندی"
 تھی
" اور تم شاید یہ خیال کر رہی ہو کہ میں زبردست قسم کی آئیڈیل زندگی گزر رہا ہوں"   

وہ چپ  رہی . مگر اس کی خاموشی میں سو سوال تھے جنہیں اس لمحے میں صرف وہ سن رہا تھا  

"کبھی کبھی ہم تصویر کا وہ صرف  رخ دیکھ رہے ہوتےہیں  جو ہم دیکھنا چاہتے ہیں" 

کیوں کہ وہی رخ سب سے زیادہ واضح ہوتا ہے" ازمینہ نے کہا "

"مگر ہر تصویر مکمّل نہیں ہوتی. اس کی خامی یا کمی ہر کسی کو دکھائی نہیں دے سکتی."

کم سے کم تم تو یہ بات نہیں کیہ  سکتے زین منصور، تمہاری تصویر تو ہر انگل سے مکمّل ہے. تم جسے خوبصورتی اور کاملیت سب کچھ چاہیے  ہوتا ہے. تم جو پرفیکشنسٹ ہو. تم جو اعلی برانڈ سے کم کچھ منتخب نہیں کرتے. تم جس نے شادی کے لیے کیمپس کی سب سے خوبصورت لڑکی کو چنا تھا. تم میری بات کیسے سمجھ سکتے ہو؟

وہ سر جھکا ے خاموشی سے اس کی باتیں سنتا رہا. چند لمحوں کے وقفے کے بعد جب اس نے سر اٹھا کر ازمینہ کی طرف دیکھا تو وہ مسکرا رہا تھا، مگر اس کی مسکراہٹ من کوئی تھکن تھی جسے سمجھنے ک لیے ازمینہ کو ابھی بہت محنت کرنا تھی،

"مجھے لگتا ہے ازمینہ یہ تین گھنٹے بہت کم ہونگے اگر میں نی تمھیں یہ بتانا شروع کر دیا کہ کبھی کبھی پرفیکشنسٹ لوگوں کے لیے زندگی بڑے  کڑے امتحان لے کر آتی ہے . بہت بے دلی سے وہ مسکرایا تھا.

جو مل گئیں ہیں یہ گھڑیاں انہیں غنیمت جانے": وہ مسکرائی" 

 "ہم کو ملی ہیں آج یہ گھڑیاں نصیب  سے؟"

زین کی بر جستگی پر وہ کھلکھلائ تھی 

تمہاری مسکراہٹ سمیت کوئی چیز نہیں بدلی ازمینہ . ایسا لگتا ہے تم وہیں کھڑی ہو اور میں کہیں بہت آگے نکل گیا ہوں " 

"ہاں میں وہیں کھڑی ہوں ، حالاں کہ مجھے یہ بھی پتا ہے کہ تم پلٹ  کر دیکھنے والوں میں سے نہیں ہو"

وہ کچھ نہیں بولا. خاموشی سے اسے دیکھتا رہا. وہ اس کے سب شکوے ہی تو سننےکے لیے یہاں لے آیا تھا اسے.

 چلو ایسا کرتے ہیں، میں تمہاری سب شکایتیں سنوں گا اور کچھ نہیں کہوں گا، مگر اس سے پہلے بہت اچھے موڈ میں کھانا کھا لیا جاے ؟ :

"مجھے بھوک نہیں ہے زین 

مگر میرا تو یہ ڈنر ٹائم ہے. میرا ساتھ دینے کے لیے ہی چلو.

وہ کہتے ہوے اس اونچی سی نشست سے نیچے اتر گیا. اور ازمینہ کو وہاں بلانے کے لیے  اپنا ہاتھ آگے بڑھایا 

اس نے اس کے بڑھے ہوے ہاتھ کو دیکھا ، اسے کچھ  یاد آیا تھا.  

بہت مشکل سے اس بھولی بسری یاد کو واپس دھکیلتے ہوے وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور اس کا ہاتھ تھام کر نیچے آ گئی.

ایک منزل نیچے ریسٹورنٹ تھا ، بہت پرتکلف انداز میں سجا ہوا. دھیمی روشنی، لائیومیو زک ، دیواروں پرآراستہ خوبصورت پینٹنگز اور میز پر رکھے تازہ پھول 

سب کچھ مکمّل تھا، زین کی طرح،
"میں ایک بار پہلے بھی یہاں آئی تھی زین، اس وقت یہ سب اتنا اسپیشل نہیں لگا تھا"

وہ کسی ٹین ایجر   کی طرح خوش ہوتے ہوے بولی.

"کس کے ساتھ آئی  تھیں؟" زین نے آنکھیں گھماتے ہوے پوچھا  


کسی  نیوز چینل والوں نے دعوت نامہ بھیجا تھا. تمہارے خیال میں میں ڈیٹ پر آئی تھی؟"

"نہیں، وہ تم آج آئی ہو. اسی لیے سب اتنا اسپیشل لگ رہا ہے "  وہ شرارت سے مسکراتے ہوے بولا."
ازمینہ کھل کر ہنسی. وہ بلکل بھی نہیں بدلہ تھا 

وہاں مختلف لوازمات تھے مگر زین نی جتنا شور مچایا تھا اسی قدر کم کھا رہا تھا 

ازمینہ کی تو بھوک آج اسے دیکھ کر ہی اڑ چکی تھی.

موسم خوش گوار  تھا،  اور موسیقی دل نواز.

مجھے یہ وائلن پسند آ رہا ہے ازمینہ. کتنا اچھا بجا رہا ہے نا " زین نے اچانک کہا. "
وہ لوگ اب کافی پی رہے تھے 

"بالکل ، میں ابھی یہی کہنے لگی تھی تم سے."

"کوئی خاص گیت جو تم سننا چاہو. any remote memory? we can ask him to play for us. For you and for me?"

وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوے پوچھ رہا تھا اور ازمینہ کو سوچنے میں کوئی دقّت نہیں ہوئی.

وہ آج صرف ایک گیت  سننا چاہتی تھی 
Norah Jones کا گیت Nearness of you

It's not the pale moon that excites me
That thrills and delights me, oh no
It's just the nearness of you

It isn't your sweet conversation
That brings this sensation, oh no
It's just the nearness of you

وائلن پلیئر دھن بجا رہا تھا اور وہ دونوں اس ایک خاص لمحے میں پھر سے جی رہے تھے 
وہ لمحہ جو صرف ان دونوں کے لیے تھا 
جسے ختم نہیں ہونا تھا بل کہ ایک خوش گوار یاد بن کر ہمیشہ زندہ رہنا تھا 

Some

Over the passing years
some dreams do not sleep
some fire do not extinguish
some feelings do not fade
some wishes do not die

Saturday, November 15, 2014

شام شہریاراں ..... 3

بہت خاموشی تھی. بہت کچھ بولتی ہوئی  خاموشی.آ س پاس کا ہنگامہ، شور، گہما گہمی سب کہیں پاس منظر میں چلے گئے تھے . ان دونوں کے درمیان خاموشی گفتگو بن کر گونج رہی تھی . ازمینہ کو لگا یہ چند لمحے بہت قیمتی ہیں ، شاید انہی لمحوں  نے آیندہ انے والے وقت کا رخ طے   کرنا تھا. پھر اس نے زین کو کہتے ہوے  سنا 

"کیا ہم کچھ دیر بات کر سکتے ہیں؟ "

" اس نےاثبات  میں سر ہلاتےہوے پیچھے   موجود طویل قطار  کو دیکھتےہوے کہا  " مگر شاید کچھ دیرہوجا ے  .

 میں انتظار کر رہا ہوں" وہ جتنی خاموشی  سے پیش منظر میں آیا تھا اتنی ہی خاموشی سے  پس  منظر کا حصّہ بن گیا " 

وہ کسی روبوٹ کی طرح آٹوگراف لکھتی رہی، تصویریں بنواتی رہی، انٹرویو دیتی رہی. مگر اس کا دھیان اب بٹ  چکا تھا .وہ . اس ساری گہما گہمی سے اب اکتا گئی تھی.  زین منصور نی اس کی توجہ بانٹ لی تھی . اور وہ ہمیشہ ہی ایسا کیا کرتا تھا  

 وہ ہال سےباہر آئی تو کافی دیر ہو چکی تھی. اس کی متلاشی نظریں زین کو ڈھونڈ رہی تھیں. عجیب خدشے تھے . یہی کہ وہ انتظار سے اکتا کر واپس نہ جا چکا ہو. 

ہیلو" اپنے عقب  سے آتی آوازپر اس نےپلٹ  کر دیکھا  . نہیں وہ واپس نہیں گیا تھا "

"سوری کافی وقت لگ گیا مجھے  "

آپ تو اب سیلبرٹی ہیں، وقت تو لگنا تھا جی " اس کہ لہجے میں شرارت  تھی  "  

وہ مسکرادی 
"کراچی میں کب سے؟" 
".  کل ہی پنہچا ہوں. میٹنگ تھی ایک  "

"مجھے اب تک یقین نہیں آ رہا. ایک لمحے کو لگا تھا خواب دیکھ رہی ہوں" 

تم جاگ رہی ہو اور میں حقیقت ہوں " اس نے دھیرے سے ایک انگلی سے ازمینہ کے ہاتھ کو چھوا " 

وہ چپ سی رہ گئی . ادھر وہ بھی خاموش

طویل مدّت کے بعد کسی ہمدم دیرینہ سے ملتے ہوے لفظ یوں ہی گم ہو جایا کرتے ہیں. سو وہ دونوں بھی لفظ ڈھونڈ رہے تھے 

بہت مبارک ہو. مجھے بہت فخر محسوس ہوا تمہیں یوں دیکھ کر." زین نے  کہا"

شکریہ" وہ ہولے سے بولی " 

"مگر باقی سب کہاں ہیں ، تمہاری فیملی، شوہر، بچے؟. اتنے اہم موقے پر سب کو ہونا چاہیے تھا "

کسی کو دلچسپی نہیں ہے مرے اس کام سے . وہ سمجھتے ہیں یہ میرا شوق ہے تو سب نے یوں ہی مجھے شوق   پورا کرنے کے لیے اکیلا چھوڑا ہوا ہے   

زین ابھی کچھ کہنے ہی لگا تھا جب کسی ادھیڑ امر شخص نے آ کر ان دونوں کی گفتگو میں مداخلت کی. وہ کوئی سینئر ادیب . 
 تھے جو ازمینہ کو کتاب کی رو نمائی پر مبارک باد  دے رہے تھے 

ازمینہ نے معذرت خواہانہ نظروں سے زین کیطرف دیکھا. وہ ویسے ہی پر سکوں کھڑا تھا جیسے چند لمحے پہلے تھا . کافی دیر وہ بزرگ ادیب ازمینہ سے باتیں کرتے رہے. زین خاموش کھڑا اسے دیکھتا رہا. کتنی پر اعتماد تھی وہ. اسے معلوم تھا کہ    کب کہاں کس سے کس انداز میں گفتگو کرنا ہے 
رکھ رکھاؤ تو اس میں شروع سے ہی تھا . وقت کے ساتھ ساتھ اس کے آداب اور انداز سب میں مزید نکھار آ گیا تھا.ا 

"کہیں اور چل کر بیٹھتے ہیں زین . یہاں کھڑے رہے تو پھر سب سے ملنا پڑے گا"

"کوئی ایسی جگہ ہے یہاں جہاں آرام سے بیٹھ کربات چیت ہو سکے ؟"  

"مشکل ہے ویسے . مگرڈھونڈتے  ہیں"

"وہ ہوٹل لابی سے ہوتے ہوے اب باھر  لان کی جانب آ گئے تھے مگر  کوئی ایسا کونہ نہیں تھا جہاں تنہائی اور سکوں میسّر ہوتا . وسیع لان کے کنارے جہاں سمندر شروع ہوتا تھا وہاں سفید رنگ کی ریلنگ لگی تھی . وہ دونوں اس ریلنگ کے ساتھ آ کر کھڑے ہو گئے. وہیں ساتھ ہی پنڈال میں اسٹیج بنا تھا ،بڑی بڑی  سکرینز لگی تھیں اور چند غیر ملکی اور ملکی ادیب بیٹھے گفتگو کر رہے تھے
ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع تھے. جن کو کرسی مل گئی تھی وہ بیٹھ چکے تھے باقی سب کھڑے ہو کر اسٹیج کی جانب متوجہ تھے . زین کو لوگوں کے ادبی جوش و خروش کو دیکھ کر از حد حیرت ہو رہی تھی. وہ خود کوئی ادبی انسان نہیں تھا نہ اسے کتابوں سے کوئی خاص شغف تھا. شاید اسی لیے دوسروں کی دیوانگی اس کی سمجھ سے با لا تر تھی 


اور اسلام آباد میں سب کیسے ہیں " ازمینہ نی پوچھا "   

"سب ٹھیک ہیں . مگر میں اور میری فیملی اب وہاں نہیں ہیں. مجھے دبئی گئے ہوے بھی اب چار سال ہو گئے ہیں "
 "جانتی ہوں:"

جانتی ہو؟ . کیسے؟ " زین کو حیرت ہوئی. وہ ہمیشہ ایسے ہی اسے حیرت زدہ کرتی تھی "

"وہ مسکرائی " میں گئی تھی اسلو پچھلے دو سالوں سے جا رہی ہوں آنٹی   سے ملی تھی .

"    تم امی  سے ملی تھیں؟. لیکن انہوں نے تو کبھی ذکر نہیں کیا" 

ضروری نہیں سمجھا ہوگا" وہ ہولے سے مسکرائی . اسے زین کو حیرت زدہ کرنا ہمیشہ سے اچھا لگا کرتا تھا " 

ہوا کچھ اور تیزی سے چلنے لگی تھی  ، ازمینہ کے بال اڑ  کربار  بار اس کے چہرے پرآتے تھے اور وہ انہیں کان کے . . .  پیچھے کر  تی  تھی.  ہر تھوڑی دیر بعد وہ مڑ  کر وہاں دیکھنے لگتی جہاں اسٹیج بنا تھا اور کوئی ادبی سیشن جاری تھا.  


وہ کچھ دیر خاموش کھڑا اسے دیکھتا رہا  . اسے لگا وہ پہلے سے کہیں زیادہ پرکشش ہو گئی ہے . اس کے مزاج میں ایک عجیب سا ٹھہراؤ تھا ، کوئی مختلف  سا تاثر تھا اس کی شخصیت  میں جو اسے چند سال پہلے والی ازمینہ سے بھی زیادہ خوبصورت بنا رہا تھا 

وہ کسی نیوز چینل کا نمائندہ تھا جو ازمینہ کو فارغ کھڑے دیکھ کر اس کا انٹرویو کرنے وہاں چلا آیا تھا .

ان کی گفتگو پھر سے ادھوری رہ گئی تھی .

کافی دیر بعد وہ پھر اس کے پاس چلی آئی . 
"یہ سب یونہی چلے گا شاید ہم سکوں سے بات نہیں کر سکیں گی.آئی ایم  سوری" وہ شرمندگی سے بولی.

کیا ہم کہیں اور جا سکتے ہیں؟" وہ جانتا تھا اتنے سالوں بعد یہ سوال کچھ مناسب نہیں تھا مگر پھر بھی اس  نےپوچھ  لیا " 

نہیں. یہ ممکن نہیں ہے میرے لیے"  اس کی آنکھوں میں بے چینی تھی" 

"یہاں کب تک ہو "

رات دس تک . آج کے دن کے لیے خصوصی اجازت لے کر آئی ہوں " وہ مسکرائی "

وہ جانتا تھا اس  کے شوہر کی اجازت کے بغیر وہ کہیں نہیں جاتی تھی  
اسی ہوٹل کی پرمسس میں ، اگر میں کوئی ایسا انتظام کر لوں جہاں ہم سکوں سے بات کر سکیں تو کیا رات دس تک   تم مجھے وقت دے سکتی ہو؟ 
ازمینہ کو لگا ایک بار پھر اس کی سانس تھامنے لگی ہے 

اتنے سالوں کے بعد آج اگر وہ ملا بھی تھا تو صرف رات دس بجے تک. پھرجہاں  اس کے پیروں میں زنجیریں تھیں، وہاں آزاد تو وہ بھی نہیں تھا . وہ یہ موقع کیسے گنوا سکتی تھی. مگر اسے یہ بھی معلوم تھا کہ اس ہوٹل کی پرمسس میں ایسا کوئی موقع انہیں میسّر نہیں آ سکے گا . اسے عجیب بے نام اداسی نے ان گھیرا.

"میں یہیں ہوں زین منصور. رات دس بجےتک. دیکھتے ہیں ہم آج بھی بات کر سکتے ہیں یا نہیں" .

وہ اسے وہیں سمندر کنارے تیز ہوا میں اڑتے ہے بالوں سمیت چھوڑ کر جا چکا تھا 

 ----------------------------------------------------------------------------------------------------

اسے واپس انے میں آدھا گھنٹہ لگ گیا. ازمینہ کو لگا وہ مایوس ہی لوٹے گا . اتنے ہزاروں کی تعداد میں موجود لوگوں کے درمیان کوئی تنہائی کا گوشہ کیسے مل سکتا تھا . مگر پھر بھی ایک موہوم سی اس پر وہ اسی جگہ کھڑی رہی جہاں وہ اسے  چھوڑ کر گیا تھا . 
وہ خاموش کھڑی اسے اپنی جانب اتا دیکھتی رہی 

سیاہ ٹی شرٹ اور نیلی جینز میں وہ یونیورسٹی کے دنوں والے زین سےکچھ کم ہینڈ سم  تو نہیں لگ رہا تھا . مگر اس کی آنکھیں تھکی تھکی سی تھیں. اور اس کے بالوں میں کہیں سرمئی رنگ جھلکتا تھا  

"چلیے  مادام "   

"کہاں"

"جہاں میں لے جا رہا ہوں"

"مگر کہاں:"

"DO you trust me azmeena? If yes then do not ask questions"

پھر اس سے کچھ نہیں بولا گیا . وہ خاموشی سے اس کے پیچھے ہو لی 


وہ اسے وہاں لے آیا جہاں سے سمندر کی سیر کے لیے کشتیاں لی جاتی تھیں. مگر وہ کوئی چھوٹی  سی کشتی تو نہیں تھی. وہ تو کوئی جہاز نما کشتی تھی جس پر ڈنر پارٹیز دی جاتی تھیں. ایسے ہی کسی کشتی میں وہ ایک پارٹی میں شامل ہو چکی تھی 

مگر اس نے اب کوئی سوال نہیں کرنا تھا. وہ زین کو ناراض نہیں کر سکتی تھی. اس لیے خاموشی سے  اس کے ساتھ کشتی میں چلی آئی 

اوہ اسے اپر لے آیا تھا وہ کوئی گول چکر دار سیڑھی تھی جو کشتی کے عرشے پر لے کر جاتی تھی. ازمینہ اس کے ساتھ اپر آ گئی. اس کی نظریں اس پاس لوگوں کو ڈھونڈتی رہیں لیکن ابھی تک اسے وہاں کوئی اور دیکھے نہیں دیا تھا. 

ان کےاوپر آ تے ہی کشتی چل پڑی بہت  آرام سے، دھیرے دھیرے وہ دونوں ہوٹل میں موجود ہجوم سے دور ہوتے جا رہے ازمینہ نے پلٹ  کر زین کو دیکھا 

یوں جیسے وہ کچھ کہنا چاہ رہی ہومگر کہ نہ پا رہی ہو 

وہ بے ساختہ مسکرایا تھا 

"کیا کہنا ہے کہو، نہیں ڈانٹوں  گا:اب "

اسے پتا تھا وہ اس کے غصّے سے بہت ڈرتی تھی 

"اور سب لوگ کہاں ہیں؟"

اور سب کون؟"

"اتن یبڑ ی بوٹس یوں خالی تو کبھی نہیں جاتیں . اس میں تو ہمیشہبہت  لوگ ہوتے ہیں." 

نہیں جاتی ہونگی لیکن آج ایسا ہی ہے. آج اس بوٹ میں صرف ہم دونوں ہیں" اب ازمینہ کو حیرت زدہ کرنے کی باری  اس کی تھی ، وہ مستقل مسکرا رہا تھا 

زین" وہ حیرت کے باع ث کچھ کہ نہ سکی" 

تم پاگل تو نہیں ہو؟ . کیسے کیا تم نے یہ؟"

تمہارے ساتھ ہوٹل کی حدود میں پرسکون وقت گزا رنے کے لیے میں بس اتنا ہی کر سکتا تھا ازمینہ . ہمارے پاس صرف تین گھنٹے ہیں اور ہم نہیں جانتے یہ لمحے پھر کبھی ملیں گے  یا نہیں

اس کی آواز میں کوئی خلش تھی  جو ازمینہ کے دل تک پنہچ رہی تھی. اور سمندر گواہ ہو رہا تھا  




Memoirs

In the end it does not matter
who you are and who am I
two wandering souls whose
paths crossed for sometime
leaving behind memoirs
akin to engraved imprints

Thursday, November 13, 2014

Of aches and masks

You know how people take off their face mask to reveal their hidden self?

Wish I could do the same with the persistently aching half of my head!

شام شہر یاراں .......2

اور اگر وہ یہ سمجھ  رہا تھا کہ  ہوٹل کارلٹن پہنچتے ہی اسے وہ نظر آجاتے  گی تو وہ کتنا غلط تھا. وہاں تو ایک جم غفیر تھا. اور گویا ایک ہیجان بپا تھا . صرف کراچی سے تعلّق رکھنے والے ، ادب کے شوقین وہاں نہیں تھے ، وہاں تو ملک کے مختلف    کونوں سے لوگ آ پنہچے تھے
بیرون ممالک سے آنے   والے مہمان ان کے علاوہ تھے. 

کارلٹن کی وسیع اور خوبصورت عمارت کئی ہزار گز پر پھیلی تھی، اور اس عمارت  کو  چاروں جانب سے سبزے کے قطعوں نے گھیرا ہوا تھا. مگر جو بات اسے دیگر ہوٹلوں سے مختلف بناتی تھی وہ ہوٹل سےجڑا  سمندر کا کنارہ تھا  جہاں سے ایک تو پرلطف ہوا کے نرم جھونکے آتے تھے اور دوسری جانب اس  کے کنارے لنگر انداز وہ مختلف کشتیاں بھی تھیں جو آپ کوسمندر  کی سیر کی دعوت دیتی دکھائی دیتی تھیں.   

ہرعمر  ، ہر طبقے ، ہر رنگ ، ہر تناسب کے لوگ . اور صرف لوگ ہی لوگ. 
طرح دار خواتین ، نیک سک سے درست مرد حضرات ،نوجوان نسل کے نمائندہ افراد ، کون نہیں تھا وہاں . اور سب ہی مصروف، 
   ایک ہال سے دوسرے ہال میں آتے  جاتے ہوے ،کتأبو ں کے سٹالز پر بھاؤ تاؤ کرتے ہوے یا فوڈ سٹالز سے لطف اندوز ہوتے ہوے.

کچھ لمحوں کے لیے تو زین منصور کو یہ بھی بھول گیا کہ وہ وہاں آیا کیوں تھا. اسےبہت  خاموشی اور پر تکلّف  سی میٹنگ    کے بعد یہ ماحول نہایت دلچسپ لگا تھا شاید یہی وہ کراچی تھا جسے  ازمینہ شمس چھوڑر کر پھر اسلام آباد  واپس نہیں .آ سکی تھی  

شام کے چار بجنے والے تھے ، ازمینہ کی کتاب کی رونمائی "مہاراجہ"  ہال میں  ہو رہی  تھی ، وہ ہوٹل کے نیم دائرے نما لابی میں گھومتا ہوا مہاراجہ تک پہنچ چکا تھا . مگر اندر پہلے  ہی اس قدر رش تھا کہ بیٹھنے کو تو کجا کھڑے ہونے کو بھی .جگہ مشکل سے ہی بن پا رہی تھی.کافی جدو جہد  کے بعد اسے ہال  کے دائیں کونے میں کھڑے ہونے کی جگہ مل پائی. 
سامنے اسٹیج بنا تھا جہاں تین کرسیاں، میز اورمائیک  رکھے تھےمگرابھی تک وہاں کوئی  نہیں تھا. زین کو لگا اس کی سانسیں کچھ بے ترتیب ہو رہی تھیں. اس نے ایک بار پھر ہاتھ میں پکڑا میلے  کا پروگرام دیکھا .یہ وہی مہاراجہ حال تھا جہاں اس نے آنا تھا. 
فرش پر بیٹھنے والے لوگوں میں زیادہ تعداد نوجوان لڑکے  لڑکیوں کی تھی. شاید وہ پہلے ہی کافی مشور نوولسٹ تھی . اسے اپنی بےخبری پر افسوس ہونے لگا. 

چند لمحے مزید گزرے تھے اور ایک خواب کی سی کیفیت میں اس نے ازمینہ  کے ساتھ ایک اور خاتون کو اسٹیج پرآتے  ہوے دیکھا. وہ دونوں اب اپنی اپنی کرسی سنبھال چکی تھیں. ہال  میں شور اب بہت  بڑھ چکا تھا، کیمرے فلش جگ مگا رہے تھے ، میزبان خاتون مائیک پر لوگوں سے خاموش ہونے کی درخواست کر رہی تھی. مگر وہ یہ سب نہ تو دیکھ رہا تھا نہ سن رہا تھا . اس کی ہر حس صرف اس کی جانب متوجہ تھی جو اس کے  عین سامنے برا جمان گہرے سبز اور براؤن رنگ کے   خوبصورت سے کپڑوں میں  انتہائی پروقار لگ رہی تھی .شانوں کے گرد براؤن شال لپٹے پوری توجہ سے میزبان کے سوال سن رہی تھی. زین نے اس کے پیروں کی جانب دیکھا . وہی میچنگ جوتے جو اس کی کمزوری تھے.
کتنا وقت گزر گیا تھا وہ آج بھی کچھ نہیں بھولا تھا . اسے اپنے آپ پر حیرت ہو رہی تھی 

اور پھر ہال  کے ہر کونے میں اس کی آواز گونجنے لگی . وہ بول رہی تھی اور سب سن رہے تھے  اور ایسا تو ہمیشہ ہوا کرتا تھا، اسکول کالج یونیورسٹی جہاں بولنے کی بات آتی تھی سب تمغے ازمینہ کے نام ہی ہوا کرتے تھے. اس نے اب اپنے ناول کے کچھ حصّے پڑھ کر سنانے تھے . ہال میں جہاں پہلے جس قدر شور تھا ، اس وقت اسی قدر سکوت تھا، صرف اس کی آواز کی بازگشت تھی، زین نے چند لمحوں کے لیے آنکھوں کو بند  کیا ہاں وہ یہ آواز بھول گیا تھا ، سات سال بہت طویل عرصہ ا ہوا کرتا ہے.اور وقت تو ازل سے بے رحم  ہی تھا   

تالیوں کی گونج اسے ہال کے ماحول میں واپس لے کر آئی . اب حاضرین کے سوالات کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا اور وہ نہایت شگفتگی  سے جواب دے رہی تھی. اسکی مسکراہٹ اب بھی اتنی ہی پر کشش تھی. اس کی آنکھوں میں اب بھی جگنو چمکتے تھے. وقت شاید ازمینہ شمس کے لیے ٹھہر گیا تھا 

ایک گھنٹہ جسے چند لمحوں میں بیت گیا تھا .اس کا سیشن ختم ہو گیا تھا  میزبان خاتون لوگوں سے درخواست کر رہی تھی کہ جن لوگوں نے ازمینہ شمس سے کتاب پر دستخط لینے ہیں وہ ایکقطار  بنا کر کونے والی میز کے پاس پہنچ جایں  
مگر لوگوں نے تو پہلے ہی اسٹیج کو گھیر رکھا تھا ، وہ سب ازمینہ کے آٹوگراف لینا چاہتے تھے اور اس کے ساتھ   تصویر بنوانا چاہتے تھے.
 پتا نہیں کتنا وقت گزرا . دوسرے سیشن کے لیے میزبان آ چکے تھے. ازمینہ اب کہیں نظر نہیں آ رہی تھی، لوگ ادھر    ادھر ہونے لگے تھے. اچانک زین کو لگا کہ اسوقت  اسے  ازمینہ کو ڈھونڈنا اور اس سے ملنا تھا . وہ یہ موقع کیسے گنوا سکتا تھا.

٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠        

 وہ میز کے ایک طرف بیٹھی کتابیں  سائن کر رہی تھی . ساتھ ساتھ تصویریں بھی بن رہی تھیں لوگوںکی  ایک طویل قطار تھی  .ٹی وی  چینلز  کے نمائندے الگ اس کے آس  پاس انٹرویو کے لیے منڈلا رہے تھے، وہ تھکنے لگی تھی. لیکن کیا یہی وہ وقت نہیں تھا جو اس کی ان تمام برسوں کی محنت کا ثمر تھا . اس نے اپنی کہانیاں یوں ہی تو نہیں لکھ ڈالی تھیں. کہاں دل جلا تھا کہاں زخم لگے تھے   اور اب یہ سب شاید مداوا تھا؟ 

وہ سر جھکا ے لوگوں سے ان کا نام دریافت کر کے کتاب پر دستخط کرتی جا رہی تھی . اور اب ایک اور کتاب کا پہلا   صفحہ اس کے آگے کر دیا  گیا  تھا . اس نے نام پوچھا .آس  پاس   شور کافی زیادہ تھا . اسے ٹھیک سے نام سنائی نہیں دیا  تھا شاید . اس نے دوبارہ نام دریافت کیا اور ساتھ ہی سامنے کھڑے شخص کو دیکھنے کے لیے سر اونچا کیا.

"زین......زین منصور" 

نہیں ، شور زیادہ نہیں تھا . اس نے پہلی بار ہی یہ نام بلکل ٹھیک سنا تھا . اور کوئی اس کا ہم نام ہو بھی کیسے سکتا تھا ؟. 

ہاتھ میں تھاما  قلم، دل کی دھڑکن، تھکی ہوئی سانسیں ، اور اس کو دیکھتی ہوئی آنکھیں، اس ایک لمحے میں سب کچھ تھم  گیا تھا 
اس نے بار ہا ان گزرے برسوں میں یہ خواب دیکھے تھے کہ وہ اس سے کہیں نہ کہیں تو ضرور ملے گی مگر یوں.؟ 

چند لمحے لگے تھا بس چند لمحے . پھر اس نے خود کو سنبھال لیا تھا . ان کچھ برسوں میں یہ سب کچھ ہی  تو  سیکھا تھا . اس نے سر جھکایا اور کتاب پر کچھ لکھنے لگی 

اس کا نام. پہلی بار تو نہیں لکھ رہی تھی وہ، مگر ہاتھ پہلی بار کانپ رہے تھے 

اس نے اب تک جتنی کتابیں سائن کی تھیں سب پر صرف ایک پیغام لکھا تھا 

"لو .... ازمینہ "

پھر اس کتاب پر وہ کچھ اور نہیں لکھ سکتی تھی. فرق صرف یہ تھا کہ اس بار وہ الفاظ لکھتے ہوے اس کا دل بھر آیا تھا.

٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠ 

Wednesday, November 12, 2014

Endless stories



Life is an amazing teacher

years ago when I was fascinated by stories, I used to imagine the story is always being divided into three portions
the beginning
the climax
the end

The stereotype!

Comparing to what I believe now is that some stories in real life may begin
Go through climax
all ups and downs
but not necessarily suffer an ending

May be not till one of the characters die.

In those unusual stories, some moments are important,
 some hours, some days and some moments

And those are some special moments which at times compel me to write. So I began writing a story just recently. It will not have a definitive ending I'm sure about that, because its about those two characters whose story is endless.

شام شہر یاراں ....1

   بعض نام اور چہرے بھولے نہیں جاتے . وقت اور فاصلے یاد رکھنے کا پیمانہ نہی ہوتے. شاید اس   لیےبھی کہ 
کچھ لوگ  ہماری زندگی کا حصّہ بن جاتے ہیں ، پھر انہیں یاد کرنے کے  لیے بہانوں کی ضرورت نہیں ہوتی
.
کراچی کے موونپیک ہوٹل کے کمرے میں صبح کا اخبار دیکھتےہوے اسے بے اختیارازمینہ شمس  یاد آئی تھی

 آج ایک بڑے ادبی میلے کا افتتاحی دن تھا اورازمینہ  شمس کسی ادبی میلے  میں شریک نہ ہو یہ کچھ نہ ممکن سی بات تھی. 

زین منصور نے  ایک لمحے کو اپنی دھڑ کن  کو بڑھتا ہوا سا محسوس ہوا . سات سال کاعرصہ  کچھ کم نہیں ہوتا . کیا سات سال  کے بعد وہ واقعی اسے دیکھ پاے  گا؟ اور تب کیا ہوگا اگر اس نے اسے پہچاننے سے ہی انکار کر دیا  یا پھر پہچان لینے کے باوجود وہ اس سے گفتگو کی ہی روادار نہ ہو ؟ 

بہت سے خود رو سوالوں کے جواب ڈھونڈتے اس نے میٹنگ میں جانے کے  لیے تییار  ہونا شروع کیا.بہر  حال یہ میٹنگ وہ   وجہ تھی جس کے لیے وہ کراچی آیا تھا . ت 

اسے اس شہر سے کچھ خاص انسیت بھی نہیں تھی مگر جب بھی وہ ائیرپورٹ سے باھر  نکلتا اسے ی احساس گھیر لیتا تھا کہ وہ اس شہر میں کہیں موجود یہاں کی ہواؤں میں سانس لیتی ہے  


میٹنگ کے طے شدہ سنجیدہ ماحول میں بھی وہ اس امکان کو نہیں بھولا تھا . 

اپنے آئی پیڈ پر ادبی میلے کا پورا پروگرام کھولے وہ سکرین پر زیادہ اور میٹنگ کی طرف کچھ  کم متوجہ تھا 

شام چار بجے اس کے لکھے انگریزی ناول کی افتتاحی تقریب تھی. وہ لکھتی تھی مگر اسے اندازہ نہیں تھا کہ وہ پروفیشنل ادیب بن چکی ہوگی 
اس نے سکرین  پر نظر انے والا وقت دیکھا . بارہ بج چکے تھے اور اسے کسی بھی حال میں چار بجے کارلٹن ہوٹل پنھچنا تھا.
سات سال بعد ہی سہی اس نے ازمینہ شمس کے رو بہ  رو جانے کا  فیصلہ لے کر لیا تھا. 

Tuesday, November 11, 2014

Next to You

I do not have images to cherish
No solid memories to hold on to
yet I remember every thing
All the lands and seas you crossed
All the bridges and paths you walked on
All the fragrance and fabrics you wore
All the music you played and danced on
All the portraits you sketched and stored
For I was there in those moments
somewhere right next to you

Monday, November 10, 2014

exception

There are good days and bad days
And then there are some exceptions 

Absence

“Absence is to love what wind is to fire; it extinguishes the small, it inflames the great.” 

― Roger de Bussy-Rabutin

Sunday, November 9, 2014

Reflection

Call me nonsense for I tend to seek your reflection in someone else
Such worthless effort!

Restless moments

I have figured out that if it let's you sleep peacefully through the night without giving you restless moments of wakefulness, its not Love.

Saturday, November 8, 2014

Search

Do not look for me in whereabouts
across the distance of miles
if you could not feel me yet
within the expanse of your being
You would not fine me anywhere

venue

Some venues may be reminders

Musings

It isn't about comings or goings
being there or not being there
truthfulness or forgetfulness
its something unfathomable,
more profound and unavoidable

Friday, November 7, 2014

Thursday, November 6, 2014

The Moon & You


The brightened Moon
is so annoying
it wont let me hide
behind the tallest tree

It sees through me
like an illuminating lamp
like a hidden mirror
like your penetrating eyes

Fire

Some fire do not need oil
They keep on burning 

Time

In these hectic routines , time has evolved as a critical entity.

Time decides everything.

Time is being demanded and being always lacking.

So if we can donate sometime to someone that means they really matter

They are significant.


Tuesday, November 4, 2014

Intimate dream......Just one dance

She was in his arms, so close  that she could hear his heart beating and could feel his ragged breaths on her skin. In a state unbeknownst to her, she was shivering with cold, was it the weather or was she ill? And where was she and why was she in such an intimate state with him? She refused to think of answering any of such questions. It was this moment she wanted to live-on. This time forever.

She was shivering uncontrollably now. In the distance she was hearing a noise that was disturbing her intimacy and privacy. Wasn't it a moment of silence?

She was semi conscious the day she was caught in the thunderstorm in the university, the car's headlights, the opening doors, she was remembering everything now. They were not kidnappers, they were her friends. Sila,  Saba and Saba's brother Shaheer. She was just saved from being fainted but she was badly effected by cold then, they turned on the car's heating system for her and came all the way to drop her home, the driver was too surprised and followed suit.

And since last two days she was home, in bed, caught with flu and high grade fever. Drowsy and in delirium. Whenever fever subsides a little she would walk up to the window to get some fresh air but most of the time she was too weak and semi conscious because of the raising temperature.

And now as she was feeling his warm skin next to her cold shivering body, it was this noise that was annoying her. She did not want to wake up but she had to. It was her very own cellphone.

With trembling hands and eyes semi-closed she answered the phone call. It had a pause of few seconds enough to tell her who was at the other end.

"So hows the post adventure situation amiga?" His tone was certainly not sympathetic.

"Im good, how are you"

"I am too good after knowing your condition and and your zealous adventures. You know what I think, girls like you should either stay home or be sent everywhere with a security person" , his aggressive tone was making her shiver a bit more.

"It was an accident and I was caught in thunderstorm, you have no right to judge me like this"

"Why on earth all the accidents are meant to happen with you? Why did you go alone on a walk on the secluded path. For heaven's sake you should realize you live in Karachi and any harm could occur to you any moment, why did you have to send your driver away?"

"If you know so many things, you should also know that I am running fever at the moment and can not answer your questions. And do not try to be my guardian angel because you are not."

"Ah even in the state of fever you are as crispy, I like that amiga" his laughter was instantaneous.

"Thank you so much for your call and now if you please let me have some sleep". She was obviously annoyed and the abandoned connection with him for the last month were getting back to her now.

"Yes sure, you should go back to rest but before that can you tell me if you took medicine", his concern was obvious

"No I did not, not yet, I am shivering badly" she felt like weeping.

"Somebody should stay with you Mawra. Ill ask Bibi jan, sleep if you wish to but remember one thing, guardian angel or not, I am not away. And I care. Beunas noches"

He was gone and so was her intimate dream. The realities were harsh.

She closed her eyes to forget reality and wished to get back to her dream.









Sadness

No I am not sad but
this sadness prevailing around
In the days and in the nights
Is slowly enveloping me
Like a thick fog

Orbits

At one moment
You are so close
While at others
We belong to a
different universe
Where stars are separate
And the moon too
And air that I breath
Would never cross thee
And dreams that you see
Are farthest from me
And this is the truth
That we meant to deny
The orbits are different
Beyond you and I

kabhi

کبھی یوں بھی توہو 
دریا کا ساحل ہو 
پورے چاند  کی رات ہو 
اور تم آؤ  

Monday, November 3, 2014

Fasting

Fasting is much more than avoiding foods and drinks.

Its more like meditation.

It transcends inner peace and a harmony to the soul that may lead to strengthen your connection with the Creator.

A step towards purifying the soul which is so often needed.

I never understood why in all religions they have rituals which include fasting and prayers together. It comes naturally. De-bulking the body may make you lighter but purifying the soul may help you re-build your inner connections, be it with your Lord or the fellow humans.

Happy Fasting!



Crafting



If love was a craft I would have worked hard to learn it




Sin

At one glance I loved you with a thousand hearts
..... Let the zealots think loving is sinful

Never mind
Let me burn in the hell fire of sin


Elif Shafak
The Architect's Apprentice

Sunday, November 2, 2014

Finding

To find you seems so easy
Yet that's the only thing
That keeps me wondering
That keeps me awaiting

Thought of the night

The abstinence decides the value of one's presence

Not being there tells you how much being there means

And the intensity of the missing factor expresses the intensity of intimate connection