Featured Post

Something else

No its not writer's block Its something else Just wondering why am I not writing much these days!

Saturday, January 31, 2015

دھند 9

، اپنی ساری سنبھالتی ہائی ہیل  کی جوتی میں سہج سہج کر قدم اٹھاتی وہ اوپن ایر کی نشستوں کے قریب پہنچ گئی تھی ،  
وہاں جہاں سرخ سیڑھیاں دور نیچے اترتی  دکھائی دیتی تھیں  . بیچ میں اسٹیج بنا تھا جہاں محفل سجی تھی 
سازندے ساز چھیڑے بیٹھے تھے ، ستار ، طبلے اور ہارمونیم کی  مدغم ہوتی لے اور تان عجیب فسوں طاری کر رہی تھی 

وہ اخیر کی سیڑھیوں پر بنی نشست پر آ کر بیٹھ گئی ، یہاں سے منظر واضح دکھائی دیتا تھا ، دبیز پھیلی دھند کے باوجود . روشنی اس قدر تھی جتنی نگاہوں کو بھاتی ، روشنی اور اندھیرے کی منطق بھی کچھ عجیب ہے ، آپ اگر ان کے ملاپ اور دوری کے بندھن کو سمجھ سکیں تو منظر  خوبصورت ہی نہیں ہو جاتا ، پراسرار بھی ہو جاتا ہے 

کوئی اسرار تھا آج کی شب میں ، یا زینیا شاہ کو محسوس ہو رہا تھا 
کوئی اسرار جو راز کھول دینے کو بے قرار تھا، مگر وہ آنکھیں بند کیے  بیٹھی تھی 

کبھی کبھی خوف ہوتا ہے کہ راز کھل گیا تو کیا ہوگا ، کیا وہ سب جو اب ہے ، وہ بھی ہاتھ سے چلا جاتے  گا

کوئی موہوم سی آس ، کوئی دھیمی سی آنچ کوئی ان کہی سی  آہٹ ، کوئی ان سنی سرگوشی ، جس کی  آس  پر ہم زندگی کیے چلے جاتے ہیں ، وہ امید بھی نہ کھو  جاتے 

وہ اسی لیے آنکھیں اور کان بند  کر کے بیٹھی تھی 

رفتہ رفتہ لوگ آنے  لگے ، ہجوم ہونے لگا ، وہ موسیقی جو صرف وہ سن رہی تھی اب اس میں شراکت دار آ گئے تھے 

اس   نے عمر حیات کو مائک سنبھالتے دیکھا ، وہ کچھ کہ رہا تھا ، آج کی شام کے حوالے سے ، موسیقی کی نشست کے حوالے سے اور وہاں انے والے گائیک فنی صلاحیتوں کے بارے میں بتاتے ہوے  وہ اس ڈاکٹر عمر حیات نیورولاجسٹ سے کتنا مختلف محسوس ہو رہا تھا .زینیا کو ایک خوشگوار سی حیرت ہوئی 

باقاعدہ محفل کا آغاز ہو چکا تھا ، کافی طویل عرصے بعد وہ ایسی کسی محفل کا حصّہ بنی تھی ، اس لیے بھی اسے سب کچھ بہت اچھا محسوس ہو رہا تھا 

کچھ دیر بعد اس نے اپنے بائیں جانب کسی کو بیٹھتے ہوے دیکھا 

"واہ عمر کا انتخاب خوب ہےبھئی جبھی مجھ سے کہ رہا تھا آپ ضرور انجونے کریں گے انکل " احسن شاہ بخاری اس کے برابر بیٹھتے ہوے کہنے لگے 

"تمہیں اچھا لگا رہا ہے نہ ہنی ؟"  
، 
 جی ڈیڈ " وہ ہولے سے مسکرائی" 

"یہ جو امریکن ڈاکٹر ہے شیرل ، جس کے ساتھ عمر نظر آ رہا ہی سارا دن ، تم اسے جانتی ہو؟"

"نہیں" 

"یہ عمر کی کولیگ تھی امریکا میں ، نیوروپتھو لو  جسٹ  ہے "

"ہاں میں نے اس کی ٹاک  سنی تھی "

"دونوں انٹرسٹڈ ہیں شاید ایک دوسسرے میں ،حیات الله  بتا رہا تھا ، یہ خاص طور پر عمر کی فیملی سے ملنے آئی ہے "

"اچھا"

"هم ، شاید اس بار عمر کوئی فیصلہ لے ہی لے " 

"ہر کسی کو حق ہے ڈیڈ ، ہمیں کسی کی پرسنل زندگی سے کیا لینا دینا "

"کبھی کبھی کسی کی  پرسنل زندگی ہم پر اثر انداز ہو رہی ہوتی ہے  ہنی ، حیات اور میں اب بھی یہی چاہتے ہیں کہ تم اورعمر ایک دوسرے کو سمجھ سکو اگر......" 


وہ کسی مجسمے کی مانند بیٹھی رہی ، ایک لمحے کو شاہ صاحب کو بھی یہی لگا کہ وہ سنگ مر مر سے تراشا کوئی مجسمہ ہے ، جسے سرخ ساری  میں لپیٹ دیا گیا ہے ، جس کے چہرے پر کوئی نہ سمجھ میں آنے  والے احساسات چھا ے ہوے ہیں 
جو چھو لئے جانے پر بھی ویسی ہی سا کن رہے گی 

چند لمحوں کے لیے ان کا دل بھر آیا 

یہ ان کی خوبصورت اکلوتی بیٹی تھی جسے وہ جان سے بڑھ کر عزیز سمجھتے تھے مگر وہ ان سے کتنےفاصلوں  پر تھی  
کہ وہ اپنے دل کی بات بھی ان سے نہیں کیہ  پاتی  تھی 

کوئی ٹھمری چھیڑی گئی تھی اب ، ہر طرف خاموشی تھی ، ہوا بھی سا کن  تھی صرف موسیقی گونج رہی تھی اور دل کو گداز کے جا رہی تھی 


وہ کیسے بے اثر رہ سکتی تھی 

طبلے کی تان کے ساتھ اس کا دل ہمکنے  لگا 

"اکھیوں میں نہ آے  نندیا 
موہے نہ بھاے کاجل بندیا 
سونا پڑا  انگنا رے 
آن ملو سجنا 

چندا آے تا رے آ ے 
آ نے  والے سارےآے  
آے تم ہی سنگ  نا رے   
آن ملو سجنا 


بیتی  جاے یوں ہی عمریا 
کس رنگ سے میں رنگوں  چنریا 
بھا ے کوئی رنگ نا رے 
آن  ملو سجنا 

===================================================

دھند 8

بعض لوگوں  کے نصیب میں توجہ لکھی ہوتی ہے چاہے وہ اس کے   لیے دانستہ کوشش کریں یا نہیں 

وہ جب "نادیہ" میں داخل  ہوئی تو   ایک لمحے  کو سب نگاہوں کا  مرکز   ایک ہی تھا  
کسی خوبصورت موسیقی کی دھن کی طرح گو یا سب سما عتیں اس کی چاپ میں  اٹکی تھیں 
جیسے وہ کوئی سحر پھونک کر بے نیاز  ہو گئی ہو
اسے  جن   نگاہوں کی توجہ کی خواہش تھی وہ اسے آج بڑے دنوں بعد ملی تھی اس لیے ان سب غیر متعلقہ نگاہوں اور سما عتوں کے ارتکاز کی اسے  کوئی  حاجت نہیں تھی 

احسن شاہ بخاری اسے دیکھتے ہی اپنی نشست چھوڑ کر اس کے پاس چلے آے ، اس کا  بایاں ہاتھ تھام کر اپنے دائیں بازو پر رکھا اور اپنی ٹیبل کی جانب بڑھ گئے 

  تم آج اپنی ماں کی طرح دکھائی دے رہی ہو  "  انہوں نے  جیسے دھیمے سےسرگوشی  کی " 

اور اس کے لیے شاید یہ زندگی کا سب سی خوبصورت کومپلمنٹ تھا 
کیوں کہ وہ جانتی تھی کہ اس کے باپ کے معیار پر اترنے کے لیے اسے اپنی ماں جیسا ہونا چاہیے تھا 

وہ جواب میں خاموش رہی 

وہاں  کچھ اور بھی لوگ تھے جو اس کے لیے غیر ضروری تھے مگر اسے ان سب سے ملنا پر رہا تھا 

ویسے بھی وہ ڈنر پر کچھ دیر سےپنہچی  تھی ، لوگ یوں بھی مصروف تھے ، وہ یہاں وہاں دیکھتی رہی ، اسے کوئی شناسا چہرہ دکھائی نہیں دیا مگر ہر طرف ، ہر چہرے پر اسے ایک بات مشترک دکھائی دی، وہ سب خوشی سے دمک رہے تھے  

ایسا لگ رہا تھا لوگ وہاں خوشی کشید کرنے اے تھے 

بہت سالوں پہلے ، مری کونونٹ کے قدیم دالانوں اور ستونوں والے اسکول سے بھاگ کر چھٹیوں میں وہ بھی یہاں اپنے گھر والوں کے ساتھ یہاں خوشی کشید کرنے آیا کرتی تھی مگر اب  اسے خوشی محسوس کرنے کے لیے بھی تگو دو کرنا پر رہی تھی 
مسکرانا بھی کبھی کبھی یوں لگتا ہے جیسے کوئی بار ہو جو اتارا جا رہا ہو 

کافی دیر بعداسے  عمر حیات نظر آیا ، اس نے صبح بھی دیکھا تھا اور اس وقت بھی وہ کسی فارن ڈیلیگیٹ کے ساتھ مصروف   تھا 
اس نے نظریں پھیر لیں، اسے دیکھ کر بہت سے پرانے زخم تازہ ہونے لگتے تھے 

اسے محسوس ہو رہا تھا کچھ لوگوں کو اس کی مجودگی کھٹک رہی تھی . خاص طور پر ان خاتون کو جو آج کی کانفرنس میں اسکے والد موحترم کے ساتھ تشریف لائی تھیں 

وہ معذرت کر کے ریسٹورنٹ سے بہار نکل آئی .

شاید خوشی تلاشنی پڑتی ہے اور وہ کسی قسم کی تلاش کے لیے تیار نہیں تھی ابھی 

عمارت سے باہر قدم دھرتے ہی اسے ٹھنڈی ہوا نے  چھوا تھا اور وہ ایک لمحے کو کپکپائ تھی 

شال کو کچھ اور مضبوطی سے اپنے گرد لپیٹ کر وہ اوپن ائر  کی جانب بڑھ گئی  جہاں سے اب طبلے اور ستار کی واضح آوازیں آ رہی تھیں 

==================================



Dreamy




perfect pair of dreamy shoes

Thursday, January 29, 2015

دھند 7

وہ بستر پر پڑی کراہ رہی تھی اور  گھر میں اس کے شوہر کی دوسسری شادی کے تذکرے ہو رہے تھے . کیوں کہ زیب گل نے اس تین سالہ شادی میں شادی خان کو ایک بھی اولاد نہیں دی تھی، 
کیا اولاد ہونا نہ ہونا عورت کی ذمے داری ہے؟ کیا عورت کی زندگی کا مقصد شوہر کو خوش رکھنا ، استعمال ہونا  اور بچے پیدا کے جانا ہے؟ 
کیا عورت اپنا کوئی انفرادی وجود، سوچ اور زہن نہیں رکھتی؟ کیا اسے اپنی صلاحیتوں کو استمعال کرنے کا کوئی حق نہیں؟ کیا وہ صرف ایک پتلی ہے جس کے دھاگے کھینچ کر رکھے جاتے ہیں اور پھر اپنی مرضی سے ہلاے  جاتے ہیں؟
  کتنا سچ کہتی تھی بڑے ہسپتال کی ڈاکٹرنی، ہمارے معاشرے میں عورت کی کوئی مرضی نہیں ہوتی، اسے صرف استمعال کیا جاتا ہے، بوجھ سمجھ کر ایک کندھے سے اتار کر دوسرے کندھے پر ڈھو دیا جاتا ہے ، کاش  میں کچھ پڑھی لکھی ہوتی تو اس ڈاکٹرنی کی طرح گھر چھوڑ کر اپنی الگ زندگی گزار  سکتی 

اسے آج زینیا شاہ کی بڑی کمی محسوس ہو رہی تھی، شاید جہاں دکھ سانجھے ہوں وہاں احساس کے بندھن اور گہرے ہو جاتے ہیں 

==============================================

اس نے سرخ ساری بستر پر پھیلائی ، وہ بلکل سادہ سرخ شیفوں کی ساری   تھی ، آج کے ڈنر اور کنسرٹ کے لیے اسے یہی بہتر لگا کہ وہ ساری پہنے. ویسے بھی ایک عرصہ ہو گیا تھا جب اس نے آخری بار  ساری باندھی تھی  شاید کسی ریمپ واک میں 

ساری بھی عجیب لباس ہے ، اگر آپ کو پہننے کا ڈھنگ ہو تو  وہ آپ کے جسم کا ایک حصّہ بن جاتی ہے ، اور اگر آپ اس ڈھنگ سے نہ بلد ہوں یا آپ کا جسم اس سے مناسبت نہ رکھتا ہو تو وہ آپ کو سوتیلا بنا دیتی ہے 


اسے ساری باندھنے کا ہی نہیں ساری سنبھالنے کا ڈھنگ بھی تھا ، اسے یہ بھی ادراک تھا کہ کس موقعے پر کیسے لباس زیب تن کے جاتے ہیں، وہ عام  ماڈلز کی طرح ہر جگہ جینز  پہن کر نہیں جاتی تھی ، حالاں کہ اسے اب اپنے ماڈلنگ  کیریئر کے حوالے سے یاد کیے جانا بلکل پسند نہیں تھا ، مگر اس پروفیشن نے اسے بہت کچھ سکھایا تھا، اور یہ ادراک کہ عورت صرف ایک آبجیکٹ نہیں، دیکھنے، کھیلنے اور استعمال ہونے والی شے نہیں، ،یہ احساس اور ادراک اسے اسی پروفیشن کی بدولت ملا تھا 

اس نے بال اکٹھا کر کے جوڑےمیں لپیٹے ، کانوں میں ڈائمنڈ  کے سٹڈ اور گلے میں سونے کی چین وہ ہمیشہ پہنے رکھتی تھی 

میک اپ کرنا اس کے لیے کچھ مشکل نہیں تھا ، پلنگ کے کنارے بیٹھ کر وہ اپنی ہائی ہیلز کی جوتی پہن رہی تھی جب اس کا سیل فون بجنے لگا 

" جی ڈیڈ بس آ رہی ہوں  " 

کبھی کبھی بہت خوشی ہوتی ہےصرف  یہ سوچ کر کہ کوئی آپ کا منتظر ہے وہ کوئی جس کا آپ نے کبھی طویل انتظار کیا ہو  

ٹھنڈ بہت تھی  اور وہ شیفون کی باریک ساری میں ٹھٹھر جاتی اسی لیے اس نے سیاہی میل نیلے رنگ کی شال لے لی جس کے پلّو پر سرخ کڑھائی تھی، 

اسے دوبارہ پلٹ  کر آئینہ دیکھنے کی ضروررت نہیں تھی 

اسے معلوم تھا وہ کس قدر خوبصورت لگ رہی ہے 

============================================================== 



اسم مقدس

دل میں اک وحشت اندوہ جنوں ہے تو ہے 
اب یہاں اسم مقدس کا فسوں ہے تو ہے 
ورنہ یہ عشق کوئی دکھ ہو قیامت جیسا 
وہ تو اس دکھ میں قیامت کا سکوں ہے تو ہے 

Wednesday, January 28, 2015

To set free

Setting someone free is not easy and specially if it involves love.

It may take your heart out to let your beloved set free. Not even knowing if there is any return or it is the farewell.

But then this is how life tests you with your true emotions and false belief.


Tuesday, January 27, 2015

Reassurance

And  at times the shaky nerves and dizzy head need only a reassuring warm hug to calm down

Drunken madness

It was not just the lips that quivered
It was also the heart that trembled
The freezing fingers matched colder feet
Just as the breaths were short and tattered
The chest was heaving like never before
The eyes were drunk without even a toast
Some moments exceed beyond emotions
Renewing what has been felt before!

دھند 6

درد کوئی بھی صورت ڈھال لے، سہنا کٹھن ہوتا ہے پر  کوئی پیار سے ہاتھ تھام لے تو شدّت کچھ کم ضرور ہو جاتی ہے 

اور زیب گل  تو تنہا تھی، بہت سے نام نہاد رشتوں کی مجودگی کے .با وجود .  اس کا شوہر گھر پر موجود نہیں تھا اور اگر موجود بھی ہوتا تو اسے کوئی ہمدردی محسوس نہیں ہونی تھی 

درد اٹھانا تو عورتوں کا کام تھا ، اولاد پیدا کرنے کے لیے یہ سب تو معمول کی باتیں  تھیں اس بڑے  ہسپتال کی ڈاکٹرنی نے  زیادہ ہی زیب گل کا دماغ خراب  کیا ہوا تھا 
اسے اس بڑے ہسپتال نہی لے  جایا گیا ، مقامی دائی کی خدمات ایسے ہی وقت میں حاصل کی جاتی تھیں یہی گاؤں کا دستور تھا ، زیب گل کوئی کہانی کا انوکھا  کردار تو نہیں تھی . دائی کی دوا  کھا کر  وہ غافل  ہو چکی تھی 

=================================================================

محبّت کے اعتراف بڑے  ہی جان فضا ہوتے ہیں  چاہے زبان سے کیے  جایں یا رویوں سے . کوئی نئی  روح پھونک دی جاتی ہے ، مرجھاے ہوے چہرے کھل اٹھتے ہیں، افسردہ نگاہیں چمکنے لگتی ہیں اور ہر منظر گویا  روشن ہو جاتا ہے 

احسن شاہ بخاری کی جانب سے ہونے والے اعتراف بہت بڑے  تو نہیں تھے مگر اتنے اہم ضررو تھے کہ زینیا شاہ آج کھل کر مسکرائی تھی 
کوئی اپنی پہلی محبّت کی بےرخی  کیسے سہ سکتا ہے ، زینیا کے لیے زندگی میں کوئی سب سے شاندار، کامیاب، اور مکمّل مرد تھا تو وہ اس کا باپ تھا ، وہ ان کے لیے جتنی حسساس تھی شاید اتنی اپنی ماں کے لیے بھی نہی رہی تھی ، اس نے ہمیشہ    اپنے باپ میں اپنا آئیڈیل دیکھا تھا ،

وہ آکسفورڈ کے تعلیمیافتہ تھے ، زندگی میں کامیابی کے علاوہ انہوں نی کچھ نہیں دیکھا تھا ،   

سیاست اور دولت ان کے گھر کی لونڈی تھیں ، عورتیں ان کے آس پاس تتلیوں کی طرح منڈلاتی تھیں ، بہت مصروفیت کے با وجود انہوں نی اپنے گھر والوں کو کبھی نظر انداز نہیں کیا تھا، 

اسکے باوجود بھی زینیا کو ان سے شکایتیں تھیں 

جہاں  لگاؤ  گہرا ہو وہاں شکوہ بھی بڑا ہوتا ہے ، جذبے بن باس نہیں لیتے ، ناراضگی ہو یا دل لگی ، وہ رشتہ جوڑے رکھتے  ہیں 

  سو زینیا شاہ آج خوش تھی ، وہ ان کے رائل سویت سے اپنے کمرے میں چلی آئی تھی، شام گہری ہونے لگی تھی 

بھوربن کی شام بڑی حسین ہوتی ہے 

جہاں شام کی شفق آسمان کو گلابی رنگنے لگتی ہے وہیں ہوٹل کے اندر اورباہر  ڈھلوانوں والے گھاس کے قطوں ، سوئمنگ .  پولس اور اوپن ایئر کی سیڑھیوں پر زندگی جاگنا شروع ہو جاتی ہے 
ایسا لگتا ہے لوگ وہاں صرف خوشیاں کشید کرنے آتے ہیں

وہ اپنے کمرے کی کھڑکی سے نیچے نظر انے والے منظر میں خوشی کو گنگناتا سنتی رہی 

دور اوپن ایئر کی سرخ  سیڑھیوں کے پاس اس نے عمر حیات کو کھڑے دیکھا ، رات کے کنسرٹ کا اہتمام تھا شاید ، وہ لوگوں کو ہدایات دیتا انتہائی پروفیشنل لگ رہا تھا ،صبح کے فارمل سیٹ کی نسبت  ، براؤن لیدر  جیکٹ اور جینس میں ملبوس زینیا کو وہ زیادہ جاذب نظر لگا 

وہ بلا وجہ مسکرائی اورتیار  ہونے چل دی  

============================================================
   

Sunday, January 25, 2015

Anew

To part is painful 
but then pain too has
beautiful attributes
the attitudes, emotions
feelings, intensities
all grow anew

witness

And the longest night seems shortest
When it witnesses the lovers together

Winter romance

cold wind
crescent moon
endless walk
and solitude
an aura of
winter romance

Saturday, January 24, 2015

دھند 5

کبھی کبھی یوں بھی محسوس ہوتا ہے  کہ کوئی ایک خواب ہے جو ہم دوبارہ دیکھ رہے ہیں  ، کوئی دل لبھانے والا خواب یا کوئی پسندیدہ خواب، جسے آپ ارادتاً بار بار دیکھنا چاہتے ہوں 

اس رائل سویٹ  کی بالکنی میں سے نظر انے والے دل لبھانے والے پسندیدہ منظر کو دیکھتےہوے  وہ اسی کیفیت کا شکار تھی 

کئی بار یہ منظر اس کی نظر سے گزرا تھا ، ان دنوں میں جب وہ بے انتہا خوش تھی ، جب اس کے ماں باپ اوربھائی  ایک م بھرپور خاندان کی صوررت میں اس کے ساتھ تھے ، اب تو سب ٹوٹی لڑیوں  کی طرح بکھر گئے تھے اور وہ تنہائی کا بن باس کاٹ رہی تھی 

احسن شاہ بخاری ملحقہ بیڈ  روم میں جا چکے تھے اور وہ اس دھند آلود منظر میں جھانکتے ہوے نیچے سر سبز وادی کے  نظر انےوالے  حسن کو اپنے اندر اترتے ہوے محسوس کر رہی تھی

  پھر اس نے اپنے شانوں کے گرد  انکے بازو کا گھیرا محسوس کیا . کوئی کمزور لمحہ تھا شاید ، اس کا جی بھر آیا ، کچھ لمس آپ کو کب آ کر ملتے ہیں ، جب آپ انکی  آس  بھی چھوڑ چکے ہوتے ہیں . اس لمس کی کمی کو اس نے بہت محسوس کیا تھا اور آج جب وہ خود کو بہت مضبوط بہت پتھرثابت  کرنے کی کوشش کر رہی تھی تب یہ لمس اسے کمزور کر رہا تھا ، اس کا جی بھر آیا اور آنکھیں بھیگنے  لگیں 

"ہنی گھر واپس آ  جاؤ  "  انھوں نے جیسے فضا میں سرگوشی کی "

"ڈیڈ اب وہاں کچھ نہیں میرے لیے "

"تمہاری ماں ہے وہاں ، "

"وہ ماں جو مجھے پہچان بھی نہیں پاتی " اسکی آنکہ سے مچلتا ہوا ایک آنسو بالاخر بیہ  نکلا "

"مگر اسے تمہاری ضرورت تو ہے، اور تمہارے باپ کو بھی تمہاری ضرورت ہے، میرا گھر ویران ہو گیا ہے ، پہلے| جب گھر لوٹ کر اتا تھا تو پتا ہوتا تھا کہ ایک لڑکی میری منتظر ہوگی ، میری کی ہوئی شاپنگ دیکھنے کی جس کو سب سے زیادہ بےتابی  ہوگی، جو مجھے فون کر کے یہپوچھا کرتی تھی کہ میں گھر کب پنھچوں گا، مجھے میری اس پرنسیس کی ضرورت ہے "

وہ خامشی سے سنتی رہی ، ایک دم اسے لگا وہ سب لفظ جو جذبات کے کسی ابال کے تحت اس کے اندر بےقرار تھے وہ سب اس دھند آلود سرد منظر کی طرح ٹھنڈے ہو گئے ہیں، سرد اور خاموش. اس نے ایک جھرجھری سی لی.

"تمہیں ٹھنڈ  لگ رہی ہے ، چلو اندر چلیں"

وہ اسے لے کر صوفے  تک چلے اے 

"آپ کو اور مما کو میری ضرورت نہیں  ہے . مما  تو کسی کو پہچانتی بھی نہیں ، ان کے لیے میرا ہونا نہ ہونا برابر ہے. اور آپ کا خیال  رکھنے کے لیے بہت لوگ ہیں، بے بے ہیں، اور وہ سب خواتین جو مختلف اوقات میں آپ کے ساتھ ہوتی ہیں"

زینیا کو لگا وہ بہت غصّہ ہونگے مگر وہ اسی مطمئن لہجے میں بولتے رہے 

"تمہاری ماں ایک مریضہ ہے ، اسے اپنوں کی کیئر کی ضرورت ہے . تمہاری اور صبور کی ضرورت ہے "

"اور جہاں تک میری بات ہے میں بلکل نہیں کہوں گا  کہ تم نے ایسی بات کیوں کی. تم میری اولاد ہو ، تمھیں پورا حق ہے مجھ سے یہ سوال کرنے کا 

زینیا حیرت سے ان کی طرف دیکھتی رہی 

"جب اولاد سمجھدار ہوجاے تو وہ سوال بھی پوچھ  سکتی ہے اور والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ انہیں جواب دہ ہوں ." کیا تمھیں اندازہ ہے کہ تمہاری ماں کی بیماری کو کتنے سال گزر گئے ہیں ، اب تو مجھے بھی ٹھیک سے یاد نہیں 
میں کتنے سالوں سے تنہا ہوں  کیا مجھے کسی  ساتھ کی ضرورت نہیں ہے؟ ہنی زندگی اکیلے نہیں گزاری جا سکتی ہے، یہ غیر انسانی رویہ ہے، جو تم کر رہی ہو ، ، ساری دنیا سے کٹ کر یوں سری عمر نہیں کاتی جا سکتی، ہمیں ساتھ، سہارے سب درکار ہوتے ہیں ، یہ بہت قدرتی  عمل ہے. میں ساتھی  ڈھونڈتا پھرتا ہوں، اور کچھ نہیں "

"تو پھر آپ شادی کیوں نہیں کر لیتے؟ اس طرح  آپ کے افیئرز میرے اور صبور کے لیے کتنے یمبراسسنگ ہیں ڈیڈ "

"شاید میں شادی کر لوں اگر تمہاری ماں کی طرح کوئی ایسی عورت مجھے مل جے جو مجھے سمجھ سکے ، لیکن میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ پہلی تم شادی کر لو" 

زینیا نے کندھےاچکاے " میں اس موضوع  پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتی"

"بات کرنے میں کوئی حرج نہیں ہوتا  ہنی ، میں تمہارا نکاح نہیں پڑھوا رہا " وہ دھیمے سے مسکراے 

"میں خوش ہوں ڈیڈ ، مجھے کسی ساتھ کی ضرورت نہیں ہے "

"یہ تمہاری غلط فہمی ہے میری جان "

" اگر آپ کو ایسا لگتا ہے تو یوں ہی سہی ، مجھے میری غلط فہمی میں جی لینے دیں "

"ہنی کوئی دن ایسا ہوگا جب تمھیں کوئی شخص ملے گا جو تمہاری سوچ بدل دے گا، پھر تم اقرار کر لو گی کہ محبّت ، شادی سب کتنی قدرتی اور ضروری چیزیں ہیں"

"مشکل ہے ڈیڈ  ، شاید میں ایک انسان میں جو کچھ دیکھنا چاہتی ہوں وہ اب نایاب ہو چکا ہے "

 "one of these days honey you will fall in love and then only you will come to know what I meant"  
انہوں نے مسکراتے ہوے کہا اور اٹھ کھڑے ہوے 

وہ چپ بیٹھی انہیں فون پر مصروف ہوتے دیکھتی رہی 

============================================== 

Thursday, January 22, 2015

Fate

We don't usually understand. Things turn out eventually to how they are meant to be. For better or for worse
But we don't understand.

Wednesday, January 21, 2015

Rain

some wishes are heard at the right time

Yeah its raining
making this winter night
more denser
more dreamy

Tuesday, January 20, 2015

دھند 4

  بوجھ جدائی کا ہو یا کوکھ میں پلنے والی اولاد کا ، دونوں ان دیکھے ہوتے ہیں . آپ کے خون پر پلتے  اور  پروان چڑھتے ہیں اور پھر بھی کس  قدر  عزیز ہوتے ہیں.
 کپڑے دھوتےہوے اس کے لبوں سے بے اختیار  ایک کرا ہ  نکلی اور اس نے اپنی کمر کو تھا ما . اسے شبہ تھے کہ ایک بار پھر اس کی کوکھ میں کوئی پھل  اپنی جڑ کھود  چکا ہے. مگر  ابھی تو وہ خود بھی لا علم تھی. اسے زور  دار چکّر آیا .  ابھی اسےکئی  ایسےپر  مشقّت کام کرنے تھے . آرام تو اس کے نصیب میں تھا ہی نہیں.

  اچانک اسےبڑے  ہسپتال کی ڈاکٹرنی   بڑی شدّت سے یاد آئی . کتنی سختی سے پچھلی بار اس نے زیب  گل کو مشقّت والے کام نہ کرنے کی ہدایت کی تھی. پچھلی دو بار بھی تو یہی ہوا تھا . اسے خبر بھی نہ ہو سکی تھی اور اس کا  بچہ اس دنیا      میں آنے  سے قبل ہی رخصت ہو گیا تھا . اولاد پیدا  نہ کر نےکا الزام ایک بار پھر اسے زخم زخم کرنے والا تھا.

درد کی شدّت اور کمزوری کے چکّر  نے اسے اس لمحے ایسا ہوش سے بیگانہ کیا کہ وہ وہیں دراز ہو گئی . ٹونٹی کا   بہتا  پانی بند  کرنے والا کوئی نہیں تھا.



=======================================


وہ لوگ اب  ٹیریس پر تھے . وہاں سے نیچے جھانکتے ہوے کئی بار اس نے   زندگی کی خوبصورتی کو قریب   سے محسوس کیا تھا. منظر آج بھی وہی تھا، خوبصورتی آج بھی وہیں تھی مگر وہ اسے محسوس نہیں کر پا رہی تھی 

"کیا سوچ رہی ہو ہنی "

"یہ کہ یہ سب کچھ کتنا حسین   تھا پہلے  جب ہم ایک مکمّل فیملی تھے"

"ہم اب بھی مکمّل فیملی ہیں ہنی"

وہ خاموشی سے ہنس دی . اس ایک ہنسی میں کیا کچھ نہیں تھا ، دکھ، یاد، طنز. 

"کیا لو گی"

"نو فورملیتی ڈیڈ "


"مجھے پتا ہے تم نے  لنچ بھی نہیں کیا ہوگا پریزنٹیشن کی ٹینشن  میں، کچھ منگوا لو ہم دونوں کے لیے "

وہ ایک لمحے کو انہیں دیکھتی رہ   گئی. انکو کیسے پتا تھا یہ سب، انہوں نے تو کبھی اسے سٹریس کے لمحوں میں دیکھا بھی نہیں تھا 

  بہت خاموشی تھی وہاں ، وہ دونوں چپ تھے ، جب کہنے کے لیے بہت کچھ ہو تو کبھی کبھی الفاظ بھی کھو جایا کرتے ہیں 


کلب سندویچ اور کافی کی آمد نے بھی کچھ نہیں بدلہ ، وہ خاموشی سے  خواہش نہ ہونے کے باوجود  کھاتی رہی 

آس پاس لوگ تھے، گہما گہمی تھی ، وہ ایک مشورشخصیت تھے اور ان دونو باپ بیٹی کے درمیان بہت سے گلے شکوے تھے ، وہ یہ ساری  باتیں یہاں نہیں کر سکتے تھے ،اسی لیے انہوں نے زینیا کو اپنے کمرے میں چلنے کو کہا 

وہ انکار نہ کر سکی ، وہ اپنے باپ سے ایک سال سے بھی زاید عرصے کے بعد مل رہی  تھی ، اختلافات کے باوجود وہ یہ جانتی تھی کہ وہ دنیا میں پہلا شخص تھا جس  سے اس نے شدید محبّت کی تھی، اور انہی شیددتوں کی وجہ سے وہ ان سے اب شدید خفا بھی تھی ، جذبے حددود نہیں دیکھتے ، وہ ہوتے ہیں یا نہیں ہوتے  ، خون کے رشتے ہوں یا خود ساختہ جوڑے گئے تعلّق، شدّتیں جذبوں کی معراج ہوا کرتی ہیں 

انکا سیل فون بجنے لگا 

"کوئی نام دیکھ کر انہیں یاد آیا  " اوہ کانفرنس کو تو میں بھول ہی گیا

پھر انہوں نے فون پر بات کرتے ہوے کسی کو ٹیریس پر بلایا تھا 

چند لمحوں بعد جو شخص زینیا کے مقابل تھا وہ اب اجنبی نہیں رہا تھا 

" آؤ عمر " شاہ صاھب  بولے" میری بیٹی سے تو تم مل چکے ہوگے  ڈاکٹر زینیا شاہ"

"آپ کی بیٹی؟"

"ہنی یہ عمر ہے حیات الله کا بیٹا ، نیورولوجسٹ، امریکن بورڈ "

ہنی؟" وہاں عمر  اب تک شدید الجھن میں تھا " اوہ" تو اسے  کیوں محسوس ہوتا رہا کہ وہ اسے پہلے کہیں دیکھ چکا ہے. تو یہ تھیں ہنی شاہ ، ، احسن شاہ بخاری کی مشہور ماڈل بیٹی جو اب کافی عرصے سے میڈیا سے غائب تھی   

"عمر میں اپنے سویٹ میں جا رہا ہوں ، ہم دونوں باپ بیٹی کو کچھ تنہائی چاہیے ، شام کو ملتے ہیں پھر ڈنر پر. رات یہی "  ٹھہر رہا ہوں، بائی دی وے  ولل ڈن فور کانفرنس ارنج منیس

"نو پرابلم انکل لیکن صرف ایک شرط ہے ، رات کا کنسرٹ ضرور اتٹنڈ کریںگے  آپ"

 اگر میرے ٹیسٹ کے مطابق  ہوا" وہ مسکرا کر بولے" اور اٹھ کھڑے ہوے 

زینیا ہنوز خاموش تھی 

عمر انہیں لفٹ تک چھوڑر کر رخصت ہو گیا 

اور وہ سوچتی رہی کہ وہ عمر حیات جو اس کے گھر چھوڑ کر جانے کی ایک وجہ تھا وہ اسے کہاں آ کر ملا تھا 

====================================
 

 ،

  

Non-stop

Monday, January 19, 2015

دھند 3


وہ قسمت کی ستم ظریفی پر حیرت زدہ سی ہوٹل کی لابی کی  جانب   بڑھتی چلی گئی 

اس کی پریزنٹیشن کا وقت   قریب  تھا اور اسے ایک بار پھر اپنی پریزنٹیشن  دہرانی تھی. وہ کانفرنس کے میڈیا سنٹر چلی آئی جہاں بہت سے کمپیوٹرز رکھے تھے اور لوگ اپنی پریزینٹیشنز دہرا بھی رہے تھے اور ساتھ ساتھ ایڈٹ بھی کر رہے تھے 

اسے اندازہ تھا کہ  مہمان خصوصی کی تقریر اور دیگر پر تکلّف تقاریر   جاریہوں گی  اس لیے دانستہ طور پر وہ ہال میں جانے سے گریز کرتی رہی  اور کوئی سو بار دہرائی ہوئی پریزنٹیشن کو  ایک بار پھر دہرانے لگی 


اسے لوگوں کے مقابل ہونا کبھی مشکل نہیں لگا تھا ، اسے کچھ خاص لوگوں کے مقابل ہونے سے گھبراہٹ ہوتی تھی ، وہ چند لوگ جو اس کی زندگی میں اہم تھے، جن سے دل کے تعلّق جڑے تھے، جن سے دل ہی دل میں وہ سخت  خفا تھی ، سو اس وقت بھی وہ کوئی جادو گری کا ورد جاننا چہ رہی تھی جس کی وجہ سے وہ ان دو نگاہوں کی زد میں آنے  سے بچی رہے
اسٹیج پر کھڑے ہو کر بولنا تو اس کے لیے کوئی مسلہ نہیں تھا 

اور پھر جب پینل انچا رج  نے اس کا نام پکارا تھا اور وہ اسٹیج پر جانے لگی تھی ، وہ جانتی تھی کہ کسی ایک شخص کے لیے یہ اس دن کا سب سے برا سر پرا یز  تھا   

اس کا مقالہ نہایت اہم تھا، اس نے گلیات کے علاقوں میں مجود چند ہسپتالوں میں جا کر یہ ریسرچ کی تھی کہ ان  علاقوں میں  بچوں کی پیدائش کے وقت ما وں کی اموات کی تعداد ، قدرے زیادہ تھی اور اس نے ان اموات کی ممکنہ وجوہات کو زیر بحث لانے کی کوشسش کی تھی.

یہ مقالہ اس لیے بھی حاضرین کی دلچسپی کا بایس تھا کیوں کہ اس کانفرنس میں بڑے  شہروں اور دیگر ملکوں کے تو بے شمار پیپر تھے مگر پسماندہ علاقوں سے  ایسی ریسرچ ابھی تک سامنے نہیں آئی   تھی 

اس نے اپنی  پریزنٹیشن کو  مقررہ دس منٹوں میں  تیس سیکنڈز کم میں ختم کر لیا. حاضرین نے بہت سے سوال پوچھے  اور اس کی محنت کو کافی سرا ہا  گیا خاص طور پرغیر  ملکی اداروں کی جانب سے اسے مزید کام کرنے میں مالی مدد کی پیشکش بھی کی گئی. ڈاکٹر زینیا شاہ کے لیے یہ ایک انتہائی اہم موڑ تھا . وہ جو کچھ ثابت کرنے کے لیے پہاڑوں میں زندگی بسر کر رہی تھی  وہ پورا ہوتا نظر آ رہا تھا.


اسے ڈاکٹر عمر مسکراتے ہوے ملے، وہ بھی مسکرا دی .

"میں نی کہا تھا نہ آپ کے پیپر کا یہاں انتظار ہو رہا تھا،ویل  ڈان 

کچھ دیر تو اسے وہاں بیٹھنا ہی تھا ، وہ خاموشی سی دوسرے  لوگو ں کی ریسرچ سنتی رہی ، کوئی آدھے گھنٹے بعد جب وہ ہال سے باہر  کی طرف نکل رہی تھی اور اس کا ارادہ اپنے کمرے میں جا کر آرام کرنے کا   تھا .

"ہنی"
اسے پکارا گیا تھا 

نہیں شاید وہم تھا ، ہنی صرف اس کا نک نام نہیں تھا، اور ویسے بھی اس  جگہ اسے کون اس طرح پکارتا 

وہ ایک پل ٹھہری تو مگر پھر آگے بڑھ گئی 

"ہنی"

اس بار آواز بہت نزدیک سے آئی تھی 

،   اس نے مڑ  کر دیکھا، وہ وہی تھے ،بلکل  وہی کوئی تبدیلی نہیں تھی 

"کیسے ہیں آپ" ٹھہرے ہوے لہجے میں اس نے پوچھا 

ٹھیک ہوں، تم کہاں ہو ، سیل فون بند  کیوں ملتا ہے تمہارا؟ کیا نمبر بھی بدل لیا ہے؟ ، اسے غلط فہمی جوئی تھی شاید  ، ان کے لہجے میں ناراض گی کیوں تھی؟

"نہیں ووہی نمبر ہے،  مصروفیت زیادہ ہی سرجری میں بھی وقت لگ جاتا ہے اس لیےشاید   

"واپس کب آنا ہی؟|"

"واپس؟ کہاں؟"

"زینیا ، مجھے بھول گئی ہو مگر اس گھر میں کوئی اور بھی ہے تمہارا " 

"گئی تھی میں گھر "

"کب "

"جب آپ نہیں تھے شاید سنگاپور گئے ہوے تھے "

وارڈروب دیکھی تم نے  اپنی؟. کبھی دیکھا بھی کیا کچھ لے کر رکھا ہوا ہے   میں نی تمہارے لیے ؟"

کیا وہ واقعی شکوہ کر رہے تھے ، اسے خوا مخوا ہنسی انے لگی 


اس کی ضرورت نہیں تھی، میں اسلو شاپنگ کے لیے ہی گئی تھی ، یہاں کانفرنس میں آنا تھا اس لیے "

پہلی بار زینیا کو لگا انہوںنے اسے سر سے پیر تک دیکھا تھا 

یہ ڈیزانر ویر تو نہی ہے 

" لیکن میں اس میں خوش ہوں  شاہ صاھب "

اس نے انہیں زچ کرنے کی انتہا کر دی تھی ، اسے دکھ ہونے لگا ، وہ اب انہیں اس طرح پکارے گی؟

دونوں جانب دکھ برابر تھا 
    
دور کھڑا عمر کچھ حیرت سے ڈاکٹر زینیا شاہ کو مہمان خصوصی کے ساتھ باتیں کرتے ہوے دیکھتا رہا 

وہ شاندار سی خاتون جو شاہ صاھب  کے ساتھ ہر وقت نظر آ رہی تھیں ، وہ اچنک سے چلی آئیں 

"شاہ صاھب ہمارا بھی تو تعرف کر  واین کافی مصروف لگ رہے ہیں آپ"

زینیا کا جی چاہا وہاں سے بھاگ جاے   

"مریم یہ میری بیٹی ہیں ڈاکٹر زینیا شاہ،"

مریم بلا شبہ حیرت زدہ تھی 

" اور پلیز ہم کچھ وقت ساتھ گزاریںگے 

وہ خوبصورتی سے معذرت کرتے ہوے زینیا کا ہاتھ تھام کر آگے بڑھ گئے 

زینیا خاموش تھی ، مگر آج بہت دنوں کے بعد اپنی ذات پر کسی کا استحقاق اسے بہت اچھا لگ رہا تھا 

==========================================،  


Saturday, January 17, 2015

wet wood

They say the wet wood is difficult to ignite fire from
It sparks slowly, quietly and deeply
And then when it burns to the fullest it produces more smoke than others

Sometimes, rarer of the times
I can relate myself to the burning wet wood

دھند 2

 ہوٹل کے باہر طویل گھاس کے قطوں کے پار ، اونچے پہاڑوں کے درمیان اونچی نیچی پگڈنڈیاں گھنے تناور درختوں کے درمیان راستہ بناتی جنگل کے کسی اندروں کو جاتی  تھیں اور اس وقت گہری دھند میں ڈھکی  ہوئی تھیں وہیں لنچ کے طور پر جنگل بار بی کیو  کا اہتمام تھا  

برقی  قمقمے کسی حد تک روشنی  کا سامان تو کرتے تھے مگر کوئی چہرہ بہت واضح نہیں  ہوتا تھا . وہ تنہا ایک  تنے کے ساتھ لگ کر کھڑی تھی موسم کی شدت اور لوگوں کی  جولانیوں کو محسوس کر رہی تھی.. اکثر ایسی محفلوں میں لوگ پرانی دوستیاں نبھاتے دکھائی دیتے ہیں ، اس کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا بلکہ وہ تو یہ دعا مانگتے یہاں آئی تھی کہ اسے کوئی جاننے والا نہ ملے

کھانا کھانے  سے زیادہ اسے کافی میں دلچسپی تھی. وہ اپنا کافی کا کپ سنبھالتی ، شال کو ہونے گرد کچھ اور اچھی طرح لپیٹ تی ،بھیڑ سے کچھ دور نکل آئی تھی

تنہائی کبھی کبھار بڑا لطف دیتی ہے، اور خاص طور پر جب آپ ایک حسین منظر کا حصّہ بننے جا رہے ہوں.

مگر ہر دعا کب پوری ہوا کرتی ہے

وہ وہی ڈاکٹر عمر تھا جو اسے ڈھونڈتے وہاں چلا آیا تھا

"ہم نے آپ کی پریزنٹیشن کو آخری سیشن کی ابتدا میں ایڈجسٹ کر دیا ہے ، تین بجے کے قریب"

"تھنک یو سر "

"ویسے نتھیا گلی سے پہلے آپ کہاں ہوتی تھیں، اگر آپ برا نہ مانیں تو" وہ شائستگی سے انگریزی میں پوچھنے لگا

زینیا نے ایک نہ سنائی دینے والی طویل سانس کھینچی

"پتا نہیں کیوں مجھے محسوس ہو رہا ہے میں نے  آپ کو کہیں دیکھا ہے

یہی وہ جملے تھے جن سے بچنے کی وہ دعا مانگ رہی تھی اور جن کی وجہ سے اس نے شہری محفلوں میں جانا ختم کیا تھا

"میں ہمیشہ سے وہیں ہوں، اتنا عرصہ  ہو چکا اب تو" بہت مبہم جواب تھا " عمر مسکرا دیا

"ماننا تو مشکل ہے مگر ماں لیتا ہوں ، دراصل آپ کو دیکھ کر لگتا ہے آپ بہت ریفائنڈ سی شہری خاتون ہیں، بل کہ پہلی بار |
آپ کو دیکھ کر تو یہ بھی نہیں  لگتا کہ آپ پاکستانی ہیں، نتھیا گلی تو بہت چوٹی سی جگہ ہی "

|"میرے پاس اب ہی ووہی جواب ہی" وہ دھیمے سے مسکرائی "

"چلیے  ٹھیک ہے ، مان  لیتا ہوں " آپ کہ رہی ہیں تو یہی سچ ہوگا " وہ کھل کر مسکرایا " کھانا تو کھایا آپ نی؟ " میں چلوں |گا اب ، ہمارے چیف گیسٹ  آنے  والے ہیں"

" اوہ ایک اور بات، رات میں ہونے والا کنسرٹ مس مت کیجئے گا، یہیں اوپن ایئر میں "

|جی بلکل. میں کوئی ایونٹ مس کرنے آئی بھی نہیں " اس نے شائستگی سے کہا اور اپنا رخ جنگل  کی جانب کر لیا "

عمر اس عجیب سی مختلف شخصیتوں والی اس لڑکی پر آخری نظر ڈال کر پلٹ  گیا

چند لمحوں بعد اس نے ہوٹل لابی کی جانب قدم بڑھاے ، دھند اب کچھ حد تک چھت  گئی تھی ، کچھ منظر واضح ہونے لگے
تھے.
اونچی نیچی ڈھلوانوں والے اس ہوٹل کےبہت  سے لان اور سوئمنگ پول اور ریسٹورنٹس پار کر کے وہ اندر کی جانب جا رہی تھی جب اس نے کافی سا رے لوگوں کو ایک جگہ جما دیکھا ، یہقیناً یہ مہمان خصوصی کا استقبال ہو رہا تھا

اسے یہ جاننے کی خواہش نہیں تھی کہ وہ کون تھا ، یقینن کوئی اہم شخصیت ہوگی مگر بے ارادہ سی ایک نظر نے اسے وہیں ٹھہرا دیا تھا

کبھی کبھی دعا الٹ پلٹ کر بھی قبول ہو جاتی ہے ،کاش  ہمیں مانگنے کا سلیقہ بھی آ جاے

جیسے کسی نے مٹھی میں لے کر اس کا دل بھینچا تھا

اچانک سے ہی اس کے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوئی تھی

جس شخص کے ساے سے بھی وہ بچتی پھرتی تھی وہ آج اس کے مقابل ہونے جا رہا تھا

اور کچھ بھی تو نہیں بدلہ تھا اس کچھ سالوں میں ، وہ اب تک وہی تھااتنا  ہی  ، گریس فل ، اتنا ہی شاندار ، بالوں  میں سفیدی کچھ نمایاں تھی مگر یہ تو گریس میں ایک اور اضافہ تھا

وہی لوگوں کی بھیڑ  تھی اس کے گرد ، اور ساتھ چلتی ایک شاندار سی خاتون ،

زینیا نے صرف چند سیکنڈز میں کیا کچھ نہیں دیکھ لیا تھا

وہ لوگ اب اس کے پاس سے گزر کر اندر جا بھی چکے تھے ، اور وہ وہیں کھڑی رہ گئی تھی

جہاں اٹوٹ رشتے ہوں ، جہاں نازک جذبے ہوں ، جہاں دل کے تعلّق ہوں، جہاں محبّت ہو،

رد کی جانے والی انکاری محبّت
زندگی کی پہلی محبّت  وہاں صرف چند سیکنڈز ہی درکار ہوتے ہیں اور  برسوں کے طویل سفر یونہی لمحوں میں طے  کر لئے جاتے ہیں

-----------------------------------------------------------

The Fajr prayer

Some love never fail you
Like the eternal love of Lord
For whatever I ever asked for
Have always found in sujood

Thursday, January 15, 2015

دھند (1)

 








 صبح کے دھندلکوں میں لپٹے سرو اور چیڑ کے طویل قامت درختوں کےساے  میں اوجھل ہوتے، گہری سبز ڈھلوانوں .و.
 الے اس کاٹیج کے برآمدے میں کھڑی وہ اس کہر  آلود منظر کا حصّہ بن چکی تھی 
دھند دبیز تھی ، اس قدر کہ بلکل نزدیک کھڑے درخت بھی آنکھ سے اوجھل تھے . یوں ہی ہوا کرتا ہے . 
 دھند کے چہرے بدلتے ہیں ، فطرت ایک سی رہتی ہے  وہ کوئی کہر  آلود منظر ہو ، دھند سےبوجھل ہوتا احساس ہو، یا موت کے وقت آنکھوں میں اترآنے  والا دھواں
    ہو  ، دھند ڈھانپ لیتی ہے . پردہ گرتا ہے. منظر تبدیل ہو جاتا ہے 

=============================================================

وہ بھی کوئی اور دھند آلود صبح تھی جب اسے سویر  کے اولین لمحوں میں نتھیا گلی سے بھوربن روانہ  ہونا تھا . ٹھنڈ کافی تھی ، اتنی ضرور تھی کہ اسے ایک سویٹر کے ساتھ شال بھی اوڑھنی پڑ  رہی تھی 

، اسے جلدی نکلنا تھا کیوں کہ فاصلہ کافی تھا اور دھند نے  اسے طویل تر بنا دینا تھا مگر ڈرائیور غایب  تھا ، وہ بے چینی سے انتظار کے  لمحے کاٹتی چہل قدمی کر رہی تھی، اور کوئی حل اس کے پاس تھا بھی نہیں 

کلائی پر بندھی گھڑی اسے بتا رہی تھی کہ وہ کانفرنس میں  بلا شک اور شبہ دیر سے پنہچے گی . اپنی پابندی وقت کی عادت . اسے یونہی کوفت میں مبتلا کر دیتی تھی.

 حالاں کہ یہ بھی نہیں تھا کہ اس کی غیر موجودگی  کانفرنس پر اثر انداز ہونا تھی. 

پی سی بھوربن میں ہونے والی بینالاقوامی کانفرنس میں ڈاکٹر زینیا شاہ کو اپنی ریسرچ پر مبنی مقالہ پڑھنا تھا. یہ ایک سہ روزہ کانفرنس تھی جس میں اندروں اور بیرون ملک سے بہت سے مندوبین شریک ہو رہے تھے . نتھیا گلی کے سرکاری ہسپتال کے  محدود ماحول سے شہری گہما گہمی کی جانب یہ سفر  کافی عرصے بعد ہو رہا تھا، اس لیے وہ خوشی اور کچھ فکر کے ملے جلے احساسات سے دو چار تھی 

راستہ اتنا طویل تو نہیں تھا، بھوربن وہ  پہلی بار   نہیں جا رہی تھی، یادوں کے بے شمار سلسلے  ان راستوں اور اس مقام سے جڑے تھے، لمحے جو کھو گئے تھے اور جنھیں اب واپس آنا بھی نہیں تھا. لیکن کبھی کبھی ہم پرانے راستوں پر صرف اس لیے چل پڑتے ہیں کہ ہم  ماضی   کے ساحلوں کو حال کی لہروں سے  چھونے کی خواہش کرنے لگتے ہیں 

======================================================================

تاخیر ہو چکی تھی ، صبح  ددوپہر میں ڈھلنے  لگی تھی جب وہ اپنے مطلوبہ مقام تک پنہچی. اس کے مقالہ پڑھنے کا جو وقت مقرر تھا   وہ گزر چکا تھا اور استقبالیہ پر موجود لوگوں کو وہ اپنے تاخیر سے پہنچنے کی معذرت کر رہی تھی.

"میم  آپ ٹھیک کہ رہی ہیں لیکن آپ کا سیشن مس ہو چکا ہے ، اب ہم نہیں جانتے کہ آپ کو دوبارہ ایڈجسٹ کیا جا سکے گا یا ، نہیں زینیا سمجھ رہی تھی وہ کیا کہنا چہ رہا ہی مگر وہ اپنی اتنی محنت سے تیا رکئے  ہوے   پریزنٹیشن کوضا یا  ہوتے ہوے بھی نہیں دیکھ سکتی تھی.

کیا میں کسی آرگنائزر سے بات کر سکتی ہوں پلیز ؟"

کسی گزارتے ہوے شخص  کے ساتھ اسے ہال کی جانب روانہ کیا گیا اس پیغام کے ساتھ کے اسے ڈاکٹر عمر سے ملوا دیا جاتے 

کانفرنس ہال میں محفل برخاست ہو چکی تھی . لوگ ٹولیوں میں کھڑے گفتگو کر رہے تھے، کچھ لوگوں کا رخ لابی کی جانب تھا. کسی نے اس کا تعارف ڈاکٹر عمر سے کروایا 

oh dr. zeeniya shah from nathia gali hospital? and your paper on maternal mortality in galiyat region? 
آپ کہاں تھیں ? آپ کی پریزنٹیشن کے لیے تو یہاں انتظار ہو رہا تھا 

|راستے میں دھند بہت تھی" وہ کچھ  حیرت زدو سے لہجے میں گویا ہوئی " 

|ہم نے  کوشش کی تھی کے مندوبین ایک شام پہلے پہنچ جایں شاید آپ تک ای میل نہیں پہنچی تھی ؟"

میرے لیے یہ ممکن نہیں تھا" ، وہ دھیمے سےبولی " 
 ،
"کوئی بڑا مسلہ نہیں ہے ، ہم آپ کی پریزنٹیشن کو  ری ایڈجسٹ کرتے ہیں،تب  تک آپ لنچ سے لطف اندوز ہوں "
زینیا کو لگا جیسے  اتنا  خوش اخلاق ڈاکٹر اس نے زندگی میں پہلی بار دیکھا ہو

 یہ امید نہیں تھی اسے  کہ اتنی آسانی سے یہ مسلہ حل ہو جاتے  گا    ،وہ پر سکوں ہو کر لوگوں کی بھیڑ میں شامل ہو گئی

===================================================================      

Tuesday, January 13, 2015

preservation

 
Intend to preserve all
Lovely lively moments
Breathing memories
Sweetest tendencies
Like a fluttering
Butterfly in a jar

Sunday, January 11, 2015

A soft melody

If you could, then imagine
a girl running aimless
with her hair and long dress
flowing through the windy waves
as if to leave behind everything
all gestures, moments, memories
all dreams, bliss and delicacies
as if to seek refuge in the horizon
as if to hide from realities
but then  surprisingly
somebody began to play
a soft melody in the language
unknown, bringing her to a halt
melting her heart through her ears
stopping she looked for all
all gestures, moments, memories
all dreams, bliss and delicacies

Preference

I am not still sure which love I would prefer
Love that is fireworks or
Love that comes softly

Friday, January 9, 2015

Moving on

Moving on though seems difficult
But one has to move on
Or else life will do that for you. 

Thursday, January 8, 2015

A missing moment

At times we have to work hard to keep the burning flame of memories alive.
To keep away the moment when images are blurred, voice is dull and the feel is low.
And the moments when the smiles were the brightest and the images being reflected in the mirror were the most beautiful of all times,are being missed the most.

Merger

Dreams are like shadows
they follow you until they
merge into your being

Wednesday, January 7, 2015

One ness

There is this One artery that pulsates with enormous pressure causing migraine.
Just one.
This one-ness is killing sometimes

Tuesday, January 6, 2015

The doomed city (3)

banno rey banno meri
chali susral ko 
ankhiyon main pani de gaee
du'a main meethi gurkhani ley gaee

wedding songs were being played in the background, girls and boys wearing colorful traditional clothes, some of them are dancing on the tunes, others are clapping, whistling and commenting.

At some distance from the dance floor was the sofa which was traditionally covered with canopy of deep yellow marigold flowers. There was fragrance, colors, happiness and beauty all around. The couple to tie the nuptial knot was seated on this specially decorated sofa.

 And what a beautiful couple they made. He, so tall and handsome with a smiling face and intelligent eyes behind the rimless spectacles. He was wearing a white shalwar suit with a deep green stole around his neck

She comparable to any princess both in beauty and charms, with her long hair covering most of her back and shining skin radiating the utter happiness she was experiencing in the happiest moments of her life. She was clad in a traditional yellow and pale orange hyderbadi dress and was adorned with the yellow floral ornaments.

There was not a single moment they were taking their eyes off from each other. True love birds as they were already famous among family and friends. Just one more day and they were going to be together , never to be apart.

Hisham could not even wait for that one day and as he told the same to her, she blushed scarlet red. As if it was easy for her to wait. But then this was the charm of a traditional wedding and she wanted to enjoy each and every moment to the fullest.

Guriya ri guriya tera gudda perdesiya
jori aasmani ho gaee
shagun pe dekho shadmani ho gaee

And then the sound of the songs and music and laughter began to transform.

There was a disturbing noise all around and then she heard someone taking her name

"Serena"

She felt her heart beating faster. there was perspiration all over her body, she was taking his name.

"Hisham"  he was just here a while ago he was holding her hands, where was he now?

she was calling him and was weeping simultaneously

Someone was shaking her shoulder.  

Just then her closed eyes opened up and she found herself to be in her bed. Buwa was wiping off sweat from her face with a tissue paper.


Yes it was a dream and it was over now. 

But it wasn't over for her yet. 

The tragedy, the pain, the agony was not over yet!







The doomed city (2)

"Serena, come join us for tea", she was busy writing notes in a file when she heard Ali calling her name.

"Thanks Ali but not now" she refused politely

"Not now then when? its evening already" he raised and sat on the working station near her

"You know I can not leave the station, there is no other doctor around, And Dr. Hammad can come anytime".

This was city's most advanced and busy tertiary care hospital. Dr. Serena Hassan and Dr. Ali Mohib were part of the pediatrics emergency team.

"Waqar brought fresh chicken patties from the cafe, will you really miss it all? Just because of Dr. hammad? dont be a coward!" he was now teasing her

"Its not just him, its the patients too, I am on call, they are my responsibility" she replied soberly

"Oh come on I checked them all only sometime ago, they are stable. Serena come, it will just take a few minutes" he was insisting, :"You can safely come back before dr, Hammad's here"

 But he could not see what Serena was seeing behind his back. Dr, Hammad was already around and even overheard Ali's taking his name so loudly.

"I think Ali was waiting for me eagerly, is there something I am missing huh?" on hearing dr. hammad's voice Ali jumped down the station and was on his feet in few seconds. Serena could not stop smiling, so she turned away her face for a brief moment. Ali was caught red handed.

"Actually I was telling Serena how good it would be if dr. hammad can join us for evening tea"

"Hmm.did you give over to Serena yet?" He was looking around at the patients now.

"Yes sir, most of them are stable, We made five admissions, three of them have already been sent to the ward"

Then he turned to Serena," did you have lunch?"

"I do not usually have lunch sir, specially not when I am on call" she replied politely

"Then you must take evening tea. Go and have some snacks too while Ali will go on the round with me" He moved towards bed no 1 then and Serena could not stop laughing looking at Ali's facial expressions.

Just at the moment dr. hammad turned around " Serena, bring along zara and waqar to the station after tea break, if they are on call, they should be around here taking care of patients."

"Yes sir" she moved quickly to the duty room where the gang was gathered.







"




The doomed city (1)

It was neither a full circle nor a crescent tonight, somewhere in between, but the luminosity radiated by the moon was enough to light up her bedroom through that huge glass window. There were long shadowy tress in the lawn below, the shadow of their leaves was being drawn on the wall by the illuminating moonlight in the backdrop of darkened night. All the artificial light sources were turned off. It was just the moon and her. Besides the presence of someone most magnanimous.

She was on prayer mat. The night had fallen deep beyond its half life. Clad in a white chadar which was covering her from head to toe. Her palms were raised for du'a. Head bowed in silence. Like so many other nights, she was not sure what she wanted, but she was sure He knew. So she was quiet. Knowing her tears and her heart were already speaking for her.

Sometimes the pain is too deep, too huge to explain. It is simply felt and transmitted across to someone who accepts. Accepts and realize. Hear and console. Comforts and remedies.

She was in safe hands so it was easier to weep, to cry her heart out, even then she could not forget what happened. She could not stop to miss the bliss she had and no more. The happiness that was gone afar. The companion she had lost and survived. And the pain of survival was grandiose.

You weep when the pain is more than you could bear. Sometimes it feels you will not survive, you will give in the struggle to carry on and sometimes even the struggle is lost but life goes on.

After a whole year after losing him , she was surviving. That is where she felt helpless. Because that is where she was losing the battle.

Sunday, January 4, 2015

Undone

A few withered flowers
Some scattered dried leaves
and bent shady branches
of an age old fatherly tree
last night the wind was cruel
it dispersed everything
the paper sheets and pens
the glowing skin and hands
the flowing hair and bands
the hidden tears shunned
the poem stayed undone

Saturday, January 3, 2015

In

And then
a time comes
when we realize
its already too late
to step back

Friday, January 2, 2015

Topsy turvy

Sometimes we miss some people so dearly and religiously that it becomes a routine.
Anything to alter it makes life Topsy turvy.

Excuse

Honestly I want to concentrate... ahh but there are distractions!
(A good excuse while finalizing a research paper)

Thursday, January 1, 2015

خوشی/غم

اور خلیل جبران نے کہا ہے 
جو درد ہے وہ محبّت ہے اور جو محبّت ہے وہی درد ہے 
بس وہی چیز جو ہمیں خوشی  دیتی ہے وہی غم بھی دیتی ہے