Featured Post

Something else

No its not writer's block Its something else Just wondering why am I not writing much these days!

Saturday, January 24, 2015

دھند 5

کبھی کبھی یوں بھی محسوس ہوتا ہے  کہ کوئی ایک خواب ہے جو ہم دوبارہ دیکھ رہے ہیں  ، کوئی دل لبھانے والا خواب یا کوئی پسندیدہ خواب، جسے آپ ارادتاً بار بار دیکھنا چاہتے ہوں 

اس رائل سویٹ  کی بالکنی میں سے نظر انے والے دل لبھانے والے پسندیدہ منظر کو دیکھتےہوے  وہ اسی کیفیت کا شکار تھی 

کئی بار یہ منظر اس کی نظر سے گزرا تھا ، ان دنوں میں جب وہ بے انتہا خوش تھی ، جب اس کے ماں باپ اوربھائی  ایک م بھرپور خاندان کی صوررت میں اس کے ساتھ تھے ، اب تو سب ٹوٹی لڑیوں  کی طرح بکھر گئے تھے اور وہ تنہائی کا بن باس کاٹ رہی تھی 

احسن شاہ بخاری ملحقہ بیڈ  روم میں جا چکے تھے اور وہ اس دھند آلود منظر میں جھانکتے ہوے نیچے سر سبز وادی کے  نظر انےوالے  حسن کو اپنے اندر اترتے ہوے محسوس کر رہی تھی

  پھر اس نے اپنے شانوں کے گرد  انکے بازو کا گھیرا محسوس کیا . کوئی کمزور لمحہ تھا شاید ، اس کا جی بھر آیا ، کچھ لمس آپ کو کب آ کر ملتے ہیں ، جب آپ انکی  آس  بھی چھوڑ چکے ہوتے ہیں . اس لمس کی کمی کو اس نے بہت محسوس کیا تھا اور آج جب وہ خود کو بہت مضبوط بہت پتھرثابت  کرنے کی کوشش کر رہی تھی تب یہ لمس اسے کمزور کر رہا تھا ، اس کا جی بھر آیا اور آنکھیں بھیگنے  لگیں 

"ہنی گھر واپس آ  جاؤ  "  انھوں نے جیسے فضا میں سرگوشی کی "

"ڈیڈ اب وہاں کچھ نہیں میرے لیے "

"تمہاری ماں ہے وہاں ، "

"وہ ماں جو مجھے پہچان بھی نہیں پاتی " اسکی آنکہ سے مچلتا ہوا ایک آنسو بالاخر بیہ  نکلا "

"مگر اسے تمہاری ضرورت تو ہے، اور تمہارے باپ کو بھی تمہاری ضرورت ہے، میرا گھر ویران ہو گیا ہے ، پہلے| جب گھر لوٹ کر اتا تھا تو پتا ہوتا تھا کہ ایک لڑکی میری منتظر ہوگی ، میری کی ہوئی شاپنگ دیکھنے کی جس کو سب سے زیادہ بےتابی  ہوگی، جو مجھے فون کر کے یہپوچھا کرتی تھی کہ میں گھر کب پنھچوں گا، مجھے میری اس پرنسیس کی ضرورت ہے "

وہ خامشی سے سنتی رہی ، ایک دم اسے لگا وہ سب لفظ جو جذبات کے کسی ابال کے تحت اس کے اندر بےقرار تھے وہ سب اس دھند آلود سرد منظر کی طرح ٹھنڈے ہو گئے ہیں، سرد اور خاموش. اس نے ایک جھرجھری سی لی.

"تمہیں ٹھنڈ  لگ رہی ہے ، چلو اندر چلیں"

وہ اسے لے کر صوفے  تک چلے اے 

"آپ کو اور مما کو میری ضرورت نہیں  ہے . مما  تو کسی کو پہچانتی بھی نہیں ، ان کے لیے میرا ہونا نہ ہونا برابر ہے. اور آپ کا خیال  رکھنے کے لیے بہت لوگ ہیں، بے بے ہیں، اور وہ سب خواتین جو مختلف اوقات میں آپ کے ساتھ ہوتی ہیں"

زینیا کو لگا وہ بہت غصّہ ہونگے مگر وہ اسی مطمئن لہجے میں بولتے رہے 

"تمہاری ماں ایک مریضہ ہے ، اسے اپنوں کی کیئر کی ضرورت ہے . تمہاری اور صبور کی ضرورت ہے "

"اور جہاں تک میری بات ہے میں بلکل نہیں کہوں گا  کہ تم نے ایسی بات کیوں کی. تم میری اولاد ہو ، تمھیں پورا حق ہے مجھ سے یہ سوال کرنے کا 

زینیا حیرت سے ان کی طرف دیکھتی رہی 

"جب اولاد سمجھدار ہوجاے تو وہ سوال بھی پوچھ  سکتی ہے اور والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ انہیں جواب دہ ہوں ." کیا تمھیں اندازہ ہے کہ تمہاری ماں کی بیماری کو کتنے سال گزر گئے ہیں ، اب تو مجھے بھی ٹھیک سے یاد نہیں 
میں کتنے سالوں سے تنہا ہوں  کیا مجھے کسی  ساتھ کی ضرورت نہیں ہے؟ ہنی زندگی اکیلے نہیں گزاری جا سکتی ہے، یہ غیر انسانی رویہ ہے، جو تم کر رہی ہو ، ، ساری دنیا سے کٹ کر یوں سری عمر نہیں کاتی جا سکتی، ہمیں ساتھ، سہارے سب درکار ہوتے ہیں ، یہ بہت قدرتی  عمل ہے. میں ساتھی  ڈھونڈتا پھرتا ہوں، اور کچھ نہیں "

"تو پھر آپ شادی کیوں نہیں کر لیتے؟ اس طرح  آپ کے افیئرز میرے اور صبور کے لیے کتنے یمبراسسنگ ہیں ڈیڈ "

"شاید میں شادی کر لوں اگر تمہاری ماں کی طرح کوئی ایسی عورت مجھے مل جے جو مجھے سمجھ سکے ، لیکن میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ پہلی تم شادی کر لو" 

زینیا نے کندھےاچکاے " میں اس موضوع  پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتی"

"بات کرنے میں کوئی حرج نہیں ہوتا  ہنی ، میں تمہارا نکاح نہیں پڑھوا رہا " وہ دھیمے سے مسکراے 

"میں خوش ہوں ڈیڈ ، مجھے کسی ساتھ کی ضرورت نہیں ہے "

"یہ تمہاری غلط فہمی ہے میری جان "

" اگر آپ کو ایسا لگتا ہے تو یوں ہی سہی ، مجھے میری غلط فہمی میں جی لینے دیں "

"ہنی کوئی دن ایسا ہوگا جب تمھیں کوئی شخص ملے گا جو تمہاری سوچ بدل دے گا، پھر تم اقرار کر لو گی کہ محبّت ، شادی سب کتنی قدرتی اور ضروری چیزیں ہیں"

"مشکل ہے ڈیڈ  ، شاید میں ایک انسان میں جو کچھ دیکھنا چاہتی ہوں وہ اب نایاب ہو چکا ہے "

 "one of these days honey you will fall in love and then only you will come to know what I meant"  
انہوں نے مسکراتے ہوے کہا اور اٹھ کھڑے ہوے 

وہ چپ بیٹھی انہیں فون پر مصروف ہوتے دیکھتی رہی 

============================================== 

No comments:

Post a Comment