Featured Post

Something else

No its not writer's block Its something else Just wondering why am I not writing much these days!

Saturday, January 31, 2015

دھند 8

بعض لوگوں  کے نصیب میں توجہ لکھی ہوتی ہے چاہے وہ اس کے   لیے دانستہ کوشش کریں یا نہیں 

وہ جب "نادیہ" میں داخل  ہوئی تو   ایک لمحے  کو سب نگاہوں کا  مرکز   ایک ہی تھا  
کسی خوبصورت موسیقی کی دھن کی طرح گو یا سب سما عتیں اس کی چاپ میں  اٹکی تھیں 
جیسے وہ کوئی سحر پھونک کر بے نیاز  ہو گئی ہو
اسے  جن   نگاہوں کی توجہ کی خواہش تھی وہ اسے آج بڑے دنوں بعد ملی تھی اس لیے ان سب غیر متعلقہ نگاہوں اور سما عتوں کے ارتکاز کی اسے  کوئی  حاجت نہیں تھی 

احسن شاہ بخاری اسے دیکھتے ہی اپنی نشست چھوڑ کر اس کے پاس چلے آے ، اس کا  بایاں ہاتھ تھام کر اپنے دائیں بازو پر رکھا اور اپنی ٹیبل کی جانب بڑھ گئے 

  تم آج اپنی ماں کی طرح دکھائی دے رہی ہو  "  انہوں نے  جیسے دھیمے سےسرگوشی  کی " 

اور اس کے لیے شاید یہ زندگی کا سب سی خوبصورت کومپلمنٹ تھا 
کیوں کہ وہ جانتی تھی کہ اس کے باپ کے معیار پر اترنے کے لیے اسے اپنی ماں جیسا ہونا چاہیے تھا 

وہ جواب میں خاموش رہی 

وہاں  کچھ اور بھی لوگ تھے جو اس کے لیے غیر ضروری تھے مگر اسے ان سب سے ملنا پر رہا تھا 

ویسے بھی وہ ڈنر پر کچھ دیر سےپنہچی  تھی ، لوگ یوں بھی مصروف تھے ، وہ یہاں وہاں دیکھتی رہی ، اسے کوئی شناسا چہرہ دکھائی نہیں دیا مگر ہر طرف ، ہر چہرے پر اسے ایک بات مشترک دکھائی دی، وہ سب خوشی سے دمک رہے تھے  

ایسا لگ رہا تھا لوگ وہاں خوشی کشید کرنے اے تھے 

بہت سالوں پہلے ، مری کونونٹ کے قدیم دالانوں اور ستونوں والے اسکول سے بھاگ کر چھٹیوں میں وہ بھی یہاں اپنے گھر والوں کے ساتھ یہاں خوشی کشید کرنے آیا کرتی تھی مگر اب  اسے خوشی محسوس کرنے کے لیے بھی تگو دو کرنا پر رہی تھی 
مسکرانا بھی کبھی کبھی یوں لگتا ہے جیسے کوئی بار ہو جو اتارا جا رہا ہو 

کافی دیر بعداسے  عمر حیات نظر آیا ، اس نے صبح بھی دیکھا تھا اور اس وقت بھی وہ کسی فارن ڈیلیگیٹ کے ساتھ مصروف   تھا 
اس نے نظریں پھیر لیں، اسے دیکھ کر بہت سے پرانے زخم تازہ ہونے لگتے تھے 

اسے محسوس ہو رہا تھا کچھ لوگوں کو اس کی مجودگی کھٹک رہی تھی . خاص طور پر ان خاتون کو جو آج کی کانفرنس میں اسکے والد موحترم کے ساتھ تشریف لائی تھیں 

وہ معذرت کر کے ریسٹورنٹ سے بہار نکل آئی .

شاید خوشی تلاشنی پڑتی ہے اور وہ کسی قسم کی تلاش کے لیے تیار نہیں تھی ابھی 

عمارت سے باہر قدم دھرتے ہی اسے ٹھنڈی ہوا نے  چھوا تھا اور وہ ایک لمحے کو کپکپائ تھی 

شال کو کچھ اور مضبوطی سے اپنے گرد لپیٹ کر وہ اوپن ائر  کی جانب بڑھ گئی  جہاں سے اب طبلے اور ستار کی واضح آوازیں آ رہی تھیں 

==================================



No comments:

Post a Comment