Featured Post

Something else

No its not writer's block Its something else Just wondering why am I not writing much these days!

Thursday, February 26, 2015

Final abode

All our life we fear many fears
The loss of the loved one is
The greatest of all
And still when they leave
To their final abode
Though there is no returning back
We still wait for them
With as much as a tiny hope
To keep us moving ahead

Tuesday, February 24, 2015

Sandstorm

The forceful wind today
Knocks at every door
Slams them all shut
Grating window sills
And while moving stubbornly
Takes away with it
Fallen leaves and dust storm
The tiny sand particles
Burn my drying eyes
Block my skin pores
Make a home in my hair
As I walk on aimless
On this dust stricken path
For moving ahead is life
For stopping would make me dead

Monday, February 23, 2015

Surrender

Surrender brings ecstasy
To give in wholly and completely
Where there is no objection or denial
Its as if swimming in the river and leaving yourself completely to the flow of waves, whether they be kind or angry, no matter where they take you or how they keep you
But if you notice this type of surrender won't come easily
It is only a true emotion that builds up this connection
Either with another soul or the Creator
Its only a strong bond that would make you give in
Only true love where there is denial of self and acceptance of beloved
And this type of surrender brings an ecstasy that lasts a lifetime.

Arms

Some nights bring dreams
Akin to reality
When you are sheltered by
the arms that are intangible
But then in the arms of the beloved
You may see the dreams most wonderful
You may find the sleep most peaceful

Thursday, February 19, 2015

دھند 11

اس نے اتنے  تواتر سے گھڑی شاید ہی کبھی دیکھی ہو . انتظار بھی عجیب ہے ،مختصر   ہو تو پر لطف لگتا ہے ، طویل تر ہو تو لذت کی جگہ اذیت لے لیتی ہے 

 ناشتے کی میز پر اس کا خیال تھا وہ مل جاتے  گی ، کیوں کہ گئی رات اپنے کمرے میں واپس جانے والوں میں وہ  سر فہرست تھی 

 کانفرنس کا دوسرا دن شروع بھی ہو چکا تھا اور وہ ہنوز غایب تھی. عمر حیات کو الجھن ہونے لگی ، وہ کیوں اس کے بارے میں سوچ رہا تھا ؟

کانفرنس ہال کے اندر باہر وہ کئی چکر کاٹ چکا تھا ، شاید اسے رات محسوس ہونے والی زینیا کے  لہجے کی تلخی نے اچھا خاصا پریشان  کیا تھا، کبھی کبھی اپنے آپ کو بھی جواز پیش کرنا پڑتے ہیں اور وہی لمحے سب سے مشکل ہوتے ہیں ، سب لوگوں سے چھپایا بھی جا سکتا ہے اور جھوٹ  بھی بولا جا سکتا ہے ، اپنے آپ سے نہیں  ، سو وہ خود کواپنی ہی بے   چینی کے جواز دے رہا تھا 

کوئی دس بجے کے قریب انکل شاہ سے ملا قات  ہوئی ، وہ واپس جانے کے لیےتیار  تھے

"میں چلتا ہوں عمر،  بہت خوبصورت شام کے لیے شکریہ " 

وہ مسکرا دیا 

"دعوت قبول کرنے کا شکریہ انکل "  
"ہنی تو جا چکی ، اس کا فون آیا تھا وہ  صبح سویرے ہی روانہ ہو گئی نتھیا گلی کے لیے "

"اوہ اچھا،  مگر ابھی کافی کچھ باقی تھا کانفرنس میں " اس نے اپنے لہجے کی مایوسی چھپاتے ہوے کہا" 

" آ گیا ہو گا کسی ضرورت مند مریض کا فون ، وہ ایسی ہی ہے . کل بہت عرصے بعد میں نے  اسے یوں خوش دیکھا تھا . لگا جیسے دوبارہ زندگی کی طرف لوٹ رہی ہے وہ ، مگر  آج صبح پھر سے ویسی ہی تھی ، وہ چلی بھی گئی مجھ سے ملے بغیر " 

کہیں کوئی کڑی ملنے لگی تھی ، عمر حیات کو اب تصویر کا دوسرا رخ بھی دکھائی دینے لگا تھا 

دکھ دونوں جانب تھا 

وہ باپ بیٹی تو رخصت ہو گئے تھے اور عمر سوچ کے جنگلوں میں بھٹکتا پھرتا تھا 

پتا نہیں وہ کیا بات تھی جو زینیا شاہ کو اس قدر بری محسوس ہوئی ، جو اس نے کانفرنس کے لیے بھی ٹھہرنا پسند نہیں کیا 

وہ اپنے آپ کو مجرم محسوس کرتا رہا 

====================================================


سبز ڈھلوان والے اس پر تعیش کاٹیج کے  باہر بنی سفید لکڑی کی باڑ اور اس کے ساتھ بنے دروازے کو کھولتے ہوے وہ باہر اس رستے پر چلنے لگی جو اس کی روز مرہ زندگی کا اب ایک حصّہ بن چکا تھا بلکل ویسے جیسے ال صبح کی یہ چہل قدمی جس کے بغیر اس کے دن کی ابتدا نہیں ہوتی تھی 

بالوں کی اونچی پونی بناے ، جینز کے ساتھ سرخ رنگ کا سویٹر اور نیلے رنگ کی شال اوڑھے وہ خود اس خاموش منظر  میں رنگ بھرنے کا سبب بن رہی تھی 

دھند آج بھی گہری تھی 

اسے دھند اچھی لگتی تھی ، کیوں کہ وہ ڈھانپ لیتی تھی ، اسے لگتا تھا وہ محفوظ ہو گئی ہے ، دنیا کی جن نظروں سے  چھپنے کے لیے اس نے یہ جو جاتے پناہ ڈھونڈی تھی ، یہ گہری دھند یہاں اس کی گہری سہیلی بن چکی تھی 


ہوا آج معمول سے زیادہ خنک تھی ، اس کے بال اڑ رہے تھے ، ڈھلوان پر بنی اس پگڈنڈی پر کچھ فاصلوں  سے اور بھی کاٹیج تھے مگر اس وقت خاموشی تھی ، کوئی اور بے چین روح نہیں تھی زینیا شاہ کے علاوہ ، ویسے بھی یہ گھر کبھی کبھی آباد ہوا کرتے تھے ، یہ نتھیا گلی کا مہنگا ترین علاقہ تھا ، یہاں شہروں میں رہنے والے متمول گھرانوں کے لوگ زیادہ تر چھٹیاں  بسر کرنے کے لیے آیا کرتے تھے،عام  دنوں میں وہ گھربند  ہی رہتے تھے 

اس نے نتھیا گلی میں رہنے کی ضد  تو پوری کر لی تھی مگر اسے اپنے والد صاحب کی یہ شرط مانناپڑی  تھی کہ وہ ان کے کاٹیج میں قیام کرے گی ، ورنہ اس نے تو ہسپتال کی جانب سے ملنے والے  کواٹر میں رہنے کا ارادہ کیا ہوا تھا 

اسے بھوربن سے لوٹے کئی دن گزر گئے تھے مگر وہاں گزرا ایک ایک لمحہ کسی مووی ریل کی طرح اس کی آنکھوں     میں  گھومتا رہتا 
بے چینی سی بے چینی تھی؟ 

وہ چلتے چلتے پھر کسی خیال کے زیر اثر تھی 

لوگ رخصت ہو جاتے ہیں خیال نہیں ، وہ بھوربن سے لوٹی تو بدل گئی تھی 
کوئی خیال جیسے  اس کے ہمراہ چلا آیا تھا 

کوئی امر بیل کی طرح اس کی ذات سے لپٹا اسے تنہا نہیں ہونے دیتا تھا 

کبھی کبھی وہ لوگ بھی تسخیر کر لیے جاتے ہیں جنہیں کبھی کوئی متاثر نہ کر پایا ہو 

مگر وہ خود اعترافی سے ڈرتی تھی 

اسے اپنے اندر رو نما ہونے والی تبدیلی  پر حیرت تھی 

کہتے ہیں اگر آپ محبّت ہو جانے کے بعد بھی ویسے ہی رہیں جیسے محبّت کے تجربے سے گزر جانےسے  قبل تھے تو شاید آپ نے محبّت کی ہی نہیں 

بہت سے روشن ہوتے قربتوں کے منظر 
دھندلا رہے ہیں 
یہ کیسی  دھند ہے کہ جس میں لپٹا 
بھولا بسرا ایک لمحہ 
ٹھٹھر کر جیسے 
ٹھہر گیا ہے 

===================================




Wednesday, February 18, 2015

Dark tunnel

Someone after reading my writings remarked they are like a dark tunnel where one is lost in a dream fantasy

I wish I could explain It is myself who is a dark tunnel, anyone try to come inside find himself lost forever and then it is not easy to find a way out. The only difference may be I am not a dream fantasy rather a bittersweet reality.

That's the reason I keep myself shut. All doors closed with a No Entry signboard.
You gotto be too daring to take a risk.

Orhan Pamuk quotes

“People only tell lies when there is something they are terribly frightened of losing.” 




“When we lose people we love, we should never disturb their souls, whether living or dead. Instead. we should find consolation in an object that reminds you of them, something...I don't know...even an earring” 




“Happiness means being close to the one you love, that's all. (Taking immediate possession is not necessary.)” 

Tuesday, February 17, 2015

The book

We tend to feel our feelings are uniquely personal, not belonging to anyone else, never been experienced by another soul before.

And then somehow we got to know of someone who had gone through the same feelings and more so, in another time and another zone in yet another era.

The book I am reading is giving me surprising jolts.

Seemingly the character been described in it had a soul connection with mine.

Monday, February 16, 2015

Week begins

Sometimes even the freshest morning breeze feels heavy on your heart

So a day with a heavy heart. What a lovely start to a week.

Sunday, February 15, 2015

Goes on

And then the restlessness takes different forms to survive and to prevail
And thus the story goes on.

Saturday, February 14, 2015

دھند 10

 اس نے دھند میں لپٹا  ہیولہ  دیکھا تھا جو ہولے ہولے کپکپا رہا تھا 

اسے حیرت نہیں  ہوئی ، رات جتنی گہری ہوتی  جا رہی تھی اتنی ہی سرد بھی ہوتی جاتی تھی 

 کبھی کبھی ہم دیکھتے ہیں  اور خاموشی سے دیکھتے ہیں ، دور سے، ٹھہر ٹھہر  کر، کبھی بظاھر اور کبھی چپکے سے  دیکھے   جاتے ہیں  کیوں کہ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا 

کبھی گفتگو کرنا اور فاصلے سمیٹنا آسان  نہیں ہوتا ، کبھی بہت  ہی قربت کے تعلّق  کے باوجود  اجنبیت  کی چادر اوڑھنی پڑھتی ہے 

کبھی اجنبیت کا رشتہ سب سے مضبوط حوالہ بن جاتا ہے 

ایسے میں دیکھنے کے سوا کوئی اور چارہ نہیں ہوتا 

 سو  وہ دیکھ رہا تھا  اور فاصلوں کو سمیٹنے کی کوئی چھوٹی سی کوشش کرناچاہ  رہا تھا ، اس لیے وہ کافی خریدنے کے لیے ہوٹل کے اندروں میں چلا آیا تھا

========================================

موسیقی اور شاعری جب دونوں ایک خوبصورت ملاپ کی صورت میں سامنے ہوں تو کون ذی  ہوش ہوگا جو مدہوش نہ ہو ، وہ تو یوں بھی عام  لوگوں سے کہیں زیادہ حساس تھی 
کوئی نہ معلوم سی اداسی اس کے ارد گرد پھیلنے لگی 
کوئی  بھولا بسرا خیال جیسے لوٹ آیا تھا 
کسی یاد  کے دائرے نے جیسے اسے ہجوم میں بھی تنہا کر دیا تھا 
کتنا عجیب ہوتا ہے جب بہت سے لوگوں کے درمیان ہوتے ہوے بھی  آپ  کسی تنہا دنیا کا حصّہ بن جاتے ہیں

اسے کوئی بے نام سی بے چینی نے گھیر  لیا 

وہ ہولے ہولے کپکپپا نے گی ، پتا نہیں سردی کی لہر تھی یا جذبوں کی شدّت 

وہ تنہا ہونا چاہتی تھی اس لیے اس نے اپنے کمرے میں جانے کا فیصلہ کر لیا 

رات بہت بیت چکی تھی مگر لوگوں کی دلچسپی ابھی برقرار تھی، کسی کا سونے کا ارادہ نہیں لگ رہا تھا ،
" پتا نہیں ڈیڈ کہاں ہوں گے" 

اس کی متلاشی نظریں  احسن شاہ بخاری کو ڈھونڈ رہی تھیں 

کافی دور  چند لوگوں کے درمیان بہت آرام دہ انداز میں بیٹھے اسے وہ نظر آ گئے 

چند لمحوں میں ان سے رخصت لے کر وہ ہوٹل کی  عمارت کی جانب بڑھنے لگی 

ٹھنڈ بہت تھی ، پتا نہیں آج ہی کیوں اسے ساری پہننے کا شوق ہوا تھا 

شال کو اچھی طرح کندھیں کے گرد لپیٹتے ہوے اسے صرف یہی خیال آیا 

پتا نہیں کیا ہوا تھا ، ایک لمحے کو ٹھٹھک کر وہ رکی اورپلٹ  کر وہاں دیکھنے لگی جہاں ابھی محفل جمی ہوئی تھی 

اسے لگا کوئی کمی تھی 

شاید وہاں جہاں سب لوگ اکٹھے تھے یا شاید اس کے اپنے اندر 

کوئی کمی تو تھی 

وہ سر جھٹک کر  مڑی  اور چلنے لگی 

آپ جا رہی ہیں ، اتنی جلدی "  وہ عمر حیات ہی تھا "
اس نے حیرت سے دیکھا ، کبھی کبھی  لوگ ہمیں وہاں مل جاتے ہیں جہاں سے ملنے کی کوئی امید نہیں  ہوتی 

"جی رات کافی ہو چکی اور میں کچھ تھک بھی گئی ہوں "

شاید آپ کو میوزک پسند نہیں آیا " وہ کہتے ہوے رکا اور ہاتھ میں پکڑی کافی اس کی طرف بڑ  ھا  ئی "

میرے لیے ؟" زینیا نے حیرت سے پوچھا  "

کیوں یہ بھی نہیں پسند؟ " وہ شرارت سے  مسکرایا "

"کچھ چیزیں ہیں جو میں ریسسٹ نہیں کر سکتی ، ان میں سے ایک موسیقی ہے اور دوسری کافی " اس نے شکریہ کہتے ہوے کافی تھامی 

تو پھر کیا خیال ہے وہاں چلیں؟" عمر نے اوپن ایئر کی جانب دیکھتے ہوے  کہا "

 " نہیں ، یہیں ٹھیک ہے " شاید اسے کافی کی ضرورت تھی ، اس کی سرد ہوتی رگوں میں کافی گرم مایا بن کردوڑنے لگی  

" آپ نے کانفرنس کا انتظام خوب کیا ڈاکٹر عمر" 

"یہ ایک ٹیم ورک ہے زینیا، میں سارا کریڈٹ اکیلے نہیں لے سکتا "

زینیا کو یہ سچ بولتا  آدمی اس وقت بے اختیار اچھا لگا 

وہ بلا وجہ مسکرائی 

" ڈیڈ تو بہت  این جوائے  کر رہے ہیں "

"انکل شاہ میرے آئیڈیل ہیں زینیا ، آپ بہت خوش قسمت بیٹی ہیں "

کہیں تلخی کی مقدار زیادہ ہو گئی تھی اس ایک گھونٹ  میں 

زینیا کو وہ کڑوا گھونٹ پینا مشکل ہو گیا 

وہ کچھ نہیں بولی ، خاموشی سے وہاں دیکھتی رہی جہاں اس کے اندازے کے مطابق اس کے والد کو موجود ہونا تھا 

"تھنک یو فور کافی ڈاکٹر عمر، میں اپنے کمرے میں جانا چاہوں گی اب "

وہ خامشی سے اس کے ساتھ چلنے لگا 

" میرا خیال ہے آپ اپنے دیگر مہمانوں کا خیال رکھیں ، میں اکیلی بھی جا سکتی ہوں " کچھ ناگواری سے کہتی وہ تیزی سے ہوٹل کی عمارت کی جانب بڑھ گئی 

حیرت میں ڈوبا عمر حیات اس پل پل رنگ بدلتی لڑکی کو جاتا ہوا دیکھتا رہا 

=======================================



Friday, February 13, 2015

Eye windows

You will not have to ask 
If you could read the
text of my feelings
reflecting in my eyes

Wednesday, February 11, 2015

Published story link



Sham e Shehr e YaraN

Page 184-195

For reading online or DL

http://zubiweb.net/hina-digest-january-2015-free-download/

Received today the review of the story from Mr. Akhtar Wasim Dar.

Saving it here for future reference.


Tuesday, February 10, 2015

Facts

There comes a time when of all the beautiful enchanting heart warming companies you look for the one that is missing

When you come to know that your search is finally over the same moment reality dawns the fact that this is a never ending journey

And the secret of beautiful memories lies in the fact that there is greater distance  in between

Sunday, February 8, 2015

capturing moments

But then one needs some more time to hold breath, capture the moments and turn them into memories

another morning

Another lovely morning
Bringing solitude
Leaving me abondoned
Among this crowd
With my own feelings

Saturday, February 7, 2015

Your glimpse

By the serene sea bank
when the skin is caressed 
by the softly flowing breeze
I can see someone rowing
the boat oh so slowly and 
the seagulls flying playfully
hovering over the silent me
In the distant shadows of 
tall coconut trees
the time was passing by
like a soft melody
Just then suddenly
the ticking soft melody
the flowing soft breeze
the slowly rowing boat
the playfully flying seagull
and a silently beating heart
all came to a halt
Right at the moment when
I happened to catch a
reflection of your glimpse



Wednesday, February 4, 2015

Hiding

Let me hide my eyes
From yours
For I fear they will read
The madness, the love
The startling intimacy
And even beyond

Monday, February 2, 2015

Orhan Pamuk

If we give what  we treasure most to a being we love with all our hearts, if we can do that without expecting anything in return , then the world becomes a beautiful place.

Orhan Pamuk

Museum of innocence 

No return

If it is not love then let it not be
For comes a phase in life when
It becomes secondary to ask for
Love, time, compassion, desire
In return
There comes a time in life when
The one sided feelings are selfless
They just grow like a tall tree
Providing shade and support
Without expecting anything in return