Featured Post

Something else

No its not writer's block Its something else Just wondering why am I not writing much these days!

Monday, March 30, 2015

Powers

From the valley of a deep sleep
someone may pull you back
to this state of consciousness, if
we grant them such powers

 

Sunday, March 29, 2015

A late night message

Just when I pick up my cell phone
time and again, aimlessly tonight
in waiting for that one message
which will not make it

Special Moments

Some moments are special
like when well after midnight
a moment when you should sleep
and say goodnight
all you want is to stay awake
and be with him.

Painful Memories

When I walk down the memory lane
I want to remember only good times
the smiles and laughter
the fragrance and shelter
the dreams that matter
the warmth and love
But then some how the heartbreaking
days do also come back
and the heart bleeds again
for the painful memories are
even stronger than the sweetest

Just natural

It is as natural to miss you
As it is to be with you

It is as serene to hear your silence
As it is to converse with you

It is as enchanting to dream you
As it is to sleep with you

Friday, March 27, 2015

summer and sea shore

“In the summer
I stretch out on the shore
And think of you. Had I told the sea
What I felt for you,
It would have left its shores,
Its shells,
Its fish,
And followed me.” 


 Nizar Qabbani

Tuesday, March 24, 2015

Distance in between

Distance is cruel
It makes you feel helpless
when you feel someone is in pain
when you hear someone crying
when you want to hug
and you can not
for there is distance of miles 
in between
you are debilitated
because
distance is cruel

Monday, March 23, 2015

Running Away

Wish I could explain
How one has to run away
from so many belongings
only to run away from
Just one deep longing

Absence

Though I try to deny
The impact of your absence
It runs in blood
Knocks on vessel wall
And beats with each pulse

Friday, March 20, 2015

Looking for a painting

I looked for
this image of a stair case which is leading into someones heart
into the depth of someones soul
I wrote a poem and felt elated
but still something is badly missing
I want it in a visual form
in the form of a very expressive colorful painting
Or may be out there in this big world
its already present as a masterpiece
and may be one day I will get to see this
with my own eyes!!

Thursday, March 19, 2015

تمنا اور خواب

Some stories are personal favorite

http://kitabdostpk.blogspot.com/2015/01/tamanna-aur-khwab-novel-by-nazish-amin.html

Staircase in you

Stepping down the curved staircase
In the depths of your being

Sometimes at a slow pace and at others running hurriedly
In search of that luminosity
At the end of the tunnel
Gradually, slowly, subconsciously
I went on discovering your hidden secrets
The tenderness, softness and sunshine
The spark, brightness and confines
The smiles in pain, the silence that remains
I went on exploring with the thirst that prevails
Only to discover that down the curved staircase
Leading into the depths of your being
I already had lost myself

Wednesday, March 18, 2015

Reason

And the moment when you find out the reason for your restless days and peaceful nights
Is the same!

Monday, March 16, 2015

پکارا نہیں

وہ کچھ وقت 
جو گزر گیا 
گزارا نہیں 

وہ ایک نام 
جو سوچا بہت 
  پکارا نہیں 

وہ ایک شخص 
جو سمندر تھا 
کنارہ نہیں 

وہ ایک ربط 
جو ہم میں رہا  
دوبارہ نہیں 




Saturday, March 14, 2015

دھند 12

زرینہ اسے اپنے ساتھ زبردستی  بڑے ہسپتال  لے  آئی تھی ، پتا نہیں کیوں اسے  یقین تھا کہ ڈاکٹرنی ضرور ان کی مدد کرے گی اور اس کے ہاتھوں زیبی گل کو شفا  نصیب ہوگی 

وہ وارڈ  کا راؤنڈ  لے کر  فارغ ہوئی ہی تھی جب اسے معلوم ہوا کہ کوئی مریضہ ایمرجنسی میں لائی  گئی ہے . اور زیبی گل کو دیکھ کر جیسے اس نے اپنا دل تھاما تھا 

"میں نے تمھیں سمجھایا بھی تھا  زیبی گل " وہ صدمے کے مارے اتنا ہی کہ پائی."

وہ بہت تشویش ناک صورت حال سے گزر رہی تھی ، ڈاکٹر زینیا شاہ کو یہ اندازہ کرنے میں چند منٹس ہی   لگے تھے 

اسےداخل  کر لیا گیا تھا ،ڈرپ  لگوا کر کچھ  انجکشن اس کے خون میں داخل کر دیے گئے تھے ، وہ جو کر سکتی تھی کر رہی تھی ، مگر یہ سب حل تو نہیں تھا 

اس نے زیبی گل کو روتے ہوے دیکھا تو اس کے پاس چلی آئی 

"کیوں خود پرظلم  کیا   زیبی گل؟"

"وہ دوسری شادی کر لیتا ڈاکٹر " اس کی اردو کچھ ٹوٹی پھوٹی سی تھی "

"وہ تو ویسے بھی کر لے گا جب اس نے کرنی ہوئی، تم نی کیوں اپنی جان پر ظلم کیا. "
"میں نے سوچا    اس  بار سب ٹھیک ہوگا ، ہمارا بچہ ہوگا پھر وہ شادی نہیں کرے گا "
"اسے دوسری تیسری جتنی شادیاں کرنی ہوں گی وہ ضرور کرے گا، اولاد ہوگی تب  بھی کر لے گا ، ان مردوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا زیبی گل، یہ ہر  نئی عورت کے لیے   نئے  ہو جاتے ہیں . فرق تو تم کو پڑے گا ، کیوں ایسے آدمی کے لیے اپنی جان کی دشمن بنی ہوئی ہو. ؟"

اسےروتی  ہوئی زیبی گل کو دیکھ کر تکلیف کے ساتھ ساتھ غصّہ بھی آ رہا تھا ، یہاں عورتیں یونہی جان دیا کرتی تھیں، یہاں مرد یونہی لا پرواہ ہوتے تھے ، اور وہ اس سسٹم کے خلاف بہت کچھ چاہتے ہوے بھی نہیں کر پا رہی تھی 

اس نے زیبی گل کو ہسپتال میں داخل کر لیا تھا ، زرینہ  پریشان تھی، وہ شادی خان کی اجازت کے بغیر  زیبی گل کو یہاں لائی تھی، اب وہ اسے  کیا کہے گی 

--------------------------------------------------------------------------------------------------

اس سہ پہر وہ نتھیا گلی کے اس خوبصورت سے ہوٹل میں ایک سیمینار میں ایک مقرر کے طور پر مد عو  تھی ، گو اسے جانا تو نہیں تھا مگر لوگوں تک اپنی بات پنہچانے کا یہ ایک بڑا پلیٹ فارم تھا ، کچھ میڈیا کے لوگوں نی بھی آنا تھا اور وہ اپنے پروجیکٹ کے لیے کسی  این جی او  کی تلاش میں بھی تھی ، اس لیے چلی آئی تھی 

عام سی رسمی تقریروں کے بعد سیمینار کا اختتام ہو چکا تھا . شام کی چاۓ کا اہتمام اس سو سبز لان میں تھا جہاں سے نیچے وادی میں اترنے والے سرمائی بادل خوب بھلے لگ رہے تھے ، وہ ان کو دیکھ کر یہ سوچتی پھرتی تھی کہ اتنا ڈھیر سارا قدرتی حسن کیسے ایک جگہ اکٹھا کر دیا گیا تھا 

وہ چاۓ  کا کپ ہاتھ میں تھامے اس ریلنگ تک چلی آئی جہاں سے نیچے وادی میں جاتی پگڈنڈیاں   اور چنار کے اونچے درخت جنگل میں بے ترتیب راستے بناتے دکھائی دے رہے تھے 

اسے حسن کھینچتا تھا جیسے  اس وقت اسے یہ منظر کھینچ رہا تھا 

" ہنی یہ تم ہو نا ؟ "

کوئی انگریزی میں  اونچی آواز میں اس سے مخاطب ہوا 

اس نے پلٹ  کر دیکھا اور پتھر ہوتے ہوتے رہ گئی ، سچ ہے کبھی کبھی کچھ لوگ ہمیں وہاں مل جاتے ہیں جہاں انہیں پانے کی کوئی امید نہیں ہوتی .

وہ ویسے ہی  آگے بڑھا جیسے ہمیشہ بڑھتا تھا ، اس نے دونوں شانوں سے زینیا شاہ کو تھاما  اور اس کے ماتھے کو چوما 

زینیا کی جلد کی نرو  اینڈنگ میں جیسے کوئی بجلی کی برق دوڑی  تھی. وہ ایک جھٹکے سے پیچھے ہوئی تھی 

یہ وہ لمس تھا کہ جس کی خواہش میں وہ خوب  تڑپی تھی ، جس کی حسرت نے اسے بڑا  ذلیل  کر وایا تھا ، جس کی چاہ  میں وہ سب کچھ پیچھے چھوڑ آئی تھی ، اپنا گھر، اپنے والدین، اپنی فیملی 

جس کی یادوں میں وہ اتنا روئی تھی کہ اس کی آنکھیں خشک ہو چکی تھیں ، اب وہاں آنسو نہیں بنتے تھے ، اب وہ صرف اس کے دل کے اندر گرتے   تھے 

وہ شخص جس کی بے وفائی نے  اسے بے اعتباری کے وہ زخم دیے  تھے کہ وہ  اب اپنوں پر بھی یقین نہیں کرتی  تھی 

وہ کتنے آرام سے اس کے روبہ رو تھا ، وہ اس سے یونہی  ملا تھا جیسے درمیان کے یہ سال اور ان میں گزرنے والا وقت جیسے کبھی آیا ہی نہ ہو 

"کیسی  ہو ہنی ، میں یہاں ایک شوٹ کے لیے آیا ہوا ہوں ، اور  کیسی  زبردست بات ہے کہ تم بھی یہاں ہو . چھٹیاں  منانے آئی ہوگی؟" وہ بشاش لہجے میں پوچھ  رہا تھا 

" ہاں فرش ہونے کے لیے اس سے اچھی جگہ اور کیا ہوگی "

"اکیلے یا فیملی کے ساتھ؟"

پتا نہیں وہ کیا پوچھنا چاہ  رہا تھا. زینیا بھی اسے کچھ جتانا چہ رہی تھی شاید اسے قدرت نے آج موقع دیا تھا 

"فیانسی کے ساتھ" 

اس نے ایک لمحے ٹھہر کر زینیا کو دیکھا تھا  اور پھر اس کا ہاتھ تھام کر اس میں پہنی گئی انگوٹھی کو دیکھنے لگا 

"بہت مبارک ہو زینیا ، بہت خوشی ہوئی"

کتنی بیوقوفی تھی اس کی کہ وہ ان آنکھوں میں دکھ کا کوئی سایہ تلاش کر رہی تھی ،مگر  وہاں تو بیتے لمحوں کی یادوں کی پرچھائی  بھی نہیں تھی 

اسے تو یہ بھی یاد نہیں تھا کہ یہ ڈائمنڈ رنگ تو وہ کئی برسوں سے  ویہنتی آ رہی تھی  اور یہ ووہی ہاتھ تھے جنہیں اس نے بے شمار بارتھاما  تھا 

وہ کتنا عام  سا مرد تھا . اور وہ اسے خاص بنانے کے لیے کتنا خوار ہوئی تھی 

"آؤ میں تمہیں اپنے کریو سے ملواؤں " وہ اس کا ہاتھ تھامے آگے بڑھ گیا "

وہ لوگ کسی لونگ پلے کی شوٹ کے لیے وہاں اے ہوے تھے ، علی  زبیری کا حسب معمول لیڈ رول تھا . وہ تھا ہی اتنا جاذب نظر ، اور اب تو اتنے سال سکرین پر گزا رنے کے بعد وہ بہت ہی مشہور شخسیت  بن چکا تھا 

وہ بھی ایک وقت تھا جب زینیا شاہ ایک جانی پہچانی ماڈل ہوا کرتی تھی اور جب علی زبیری اور  اس کا پیرساری  انڈسٹری 
میں مشہور ہوا کرتا تھا، یہاں تک کہ گوسپ کالمز میں ان دونوں کی ان دیکھی  شادی کا تذکرہ بڑے شوق سے چھا  پا جاتا تھا 

زینیا خاموشی سے اسے ہنستا مسکراتا اور سب سے باتیں کرتا دیکھتی رہی ، اسے کہیں کوئی تکلیف نہیں ہو رہی تھی، اسے کسی خلش کا احساس بھی نہیں ہو رہا تھا 
وہ بہت ہلکا پھلکا محسوس کر رہی تھی کہ اب اس کے دل میں  علی زبیری کے لیے کوئی خاص جذبہ نہیں تھا 

اس کے جذبے اور احساسات اس کے لیے بے حد اہم تھے  وہ انہیں اس عام  سے شخص کے لیے کیسے ضایعے کر سکتی تھی 

اس نےپلٹ  کر وہاں دیکھا جہاں وادی میں اترتی  پگڈنڈیاں تھیں اور دھند تھی 
اور اسے کوئی چہرہ روشن ہوتا دکھائی دیا 

وہ خاموشی سے ، چپکے سے یر دھیرے سے خیال رکھنے والا شخص 

وہ جوخود  اور جس کی فیملی اسیکے  طلبگار ہوے تھے 

اور جنہیں علی  زبیری کی وجہ سے اس نے ایک بار نہیں کئی بار ٹھکرایا تھا 

جس کی نام نہاد  یک طرفہ محبّت میں اس نے کئی سال گنواے تھے وہ اس کے سامنے تھا ، مگر نہیں تھا 

جس کی باوقار توجہ  کو اس نے کبھی اہمیت نہیں دی تھی، وہ یہاں نہ ہوتے ہوے بھی موجود تھا 

یہی فرق تھا 

یہی سچ کے ادراک  کا لمحہ تھا 

اور زینیا شاہ اپنے  آپ سے کوئی ا عتراف کر رہی تھی 

==============================================================


Friday, March 13, 2015

The moment

Thinking of someone bringing tenderness.
Seeing someone brings a tug at your heart
The moment that you miss becomes a special moment.
Then you know the search has ended
Then you know you have to stop.

Wednesday, March 11, 2015

Preservation

I'm not preserving myself through my writings
I'm preserving you.
And the irony is you will never know.

Saturday, March 7, 2015

connection

Driving energy when weak
seeking peace when in trouble
Feeling relief when in pain
Uttering words when silent
All for merely one connection
Of love and being loved

Friday, March 6, 2015

Hug

I do not understand the psychology of a warm hug
but I know I need it badly at this moment

Strange longings

Strange longings
strange moments
when desire sleeps
when hope burns
when thinking snooze
when feeling arouse
when eyes shutter
when dreams relive

Wednesday, March 4, 2015

چند برس


چند برس گزرے ہیں
جب کسی آہٹ کے
منتظر لمحوں میں
سانس بڑھنے لگتی تھی
دل ہمکتا جاتا تھا
سوچ کی زمینوں پر
پھول کھلنے لگتے تھے
بے قراری کے سب پل
چین دینے لگتے تھے
آج تمہاری آہٹ پر
سانس بڑھتی دیکھی تو
یوں گماں ہوا جیسے
بیقراری کے سب پل
چین بن کر اترے ہیں
کیا چند برس ہی گزرے ہیں؟

نازش امین

ایک شام

اجنبی سا ایک موسم ، ایک بے موسم سی شام 
جب اسے آنا  نہیں تھا، جب اسے آنا بھی تھا 





Sunday, March 1, 2015

Lost words

I know I have lost my words
but I also know
You will bring them back to me