Featured Post

Something else

No its not writer's block Its something else Just wondering why am I not writing much these days!

Thursday, April 30, 2015

Dear Dream

Dreams that come with silence
Leaving behind their footprints
in pleasure or pain
In real or vain
Dreams that are fear
Dreams that are still dear

Gone


Wednesday, April 29, 2015

Dancing


Dancing  as a way to increase affection

My contribution to BBC culture

http://www.bbc.com/culture/story/20150429-your-10-favourite-dance-scenes

دھند 17

ایک اور دن گزرا، یوں جیسے کہ گزر کے ہی نہ دے رہا ہو 
وہ زیبی گل کی طرف سے پریشا ن تھی ، اس کی طبعیت نہیں سنبھال رہی تھی یر ڈاکٹر زینیا شاہ کو اب کوئی حتمی فیصلہ لینا ہی تھا کبھی کبھی ایک ڈاکٹر سے زیادہ بے بس اور کوئی نہیں ہوتا ، وہ  اپنی ہر تدبیر کے باوجود مریض کو شفایاب نہیں کر سکتا ، یہیں قسمت  کا وجود اپنی اہمیت ثابت کرتا ہے ، یہیں انسان کی بے بسی اورقادر  مطلق کی مشیت سامنے آتی ہے 

وہ پریشانی کی وجہ سے کوئی کام ٹھیک سے نہیں کر پا رہی تھی ، اس کا ذھن کہیں مرتکز نہیں ہو پا تا تھا 
یوں بھی ہوتا ہے کہ آپ کی سوچ کا سر ا  کہیں اٹکا رہ جاتا ہے ، پھر آپ جتنا بھی آگے بڑھتے جایئں ، آپ کی ذہنی رو بار بار بھٹک کر اسی اٹکن  کی جانب پلٹ جاتی ہے ، 

خیال کا رشتہ بڑا  مضبوط ہوتا ہے ، کبھی کبھی وہ  طبعی رشتوں سے بھی زیادہ گہرا ہو جاتا ہے ، تبھی روح کی بےچینی قرار نہیں لینے دیتی 

زینیا شاہ کے خیال کی سوئی بھی کہیں اٹکی ہوئی تھی ، اسی لیے اسے کسی پل قرار نہیں تھا 
نہ چاہتے ہوے بھی وہ کسی کا انتظار کر رہی تھی 
اس نے زیبی گل کی کنڈیشن کے بارے میں مشورہ لینے کے لیےاپنی  ایک سینئر کو فون کیا، اسے کسی بھی وقت  آپریشن تھیٹر لے جایا جا سکتا تھا ، اورزینیا شاہ کو  اپنے سے سینئر ڈاکٹر کی ضرورت پر سکتی تھی 

----------------------------------------------------------------------------------------------------

رات سوتے جاگتے گزری تھی 
نہ ٹھیک سے سویا گیا نہ ہی آرام ہو سکا  بلکہ اس  ادھ ادھوری نیند نے سر میں شدید درد کر دیا تھا 
ابھی صبح  کی نیلگوں روشنی بھی نیند سے پوری طرح بیدار نہیں ہوئی تھی ، وہ بھی زینیا کی طرح  آنکھیں مل رہی تھی 

اس نے کچن میں آ کر سبز چاے بنائی  اور ٹیریس پر آ کر نیچے وادی میں اترتی پگڈنڈی کو دیکھنے لگی 

ٹھنڈ معمول سے زیادہ تھی ، اس نے  ایک جھرجھری سی لی 

صبح  کتنی خالص ہوتی ہے، وہ چھپتی  نہیں پھرتی ، روشن اور اجلی  ہو کر سامنے آ جاتی ہے 

وہ بھی ایسی ہی تھی ، اجلی اور شفاف ، اسے  دو غلا  پن پسند نہیں تھا ، اسے خالص ہونا اچھا لگتا تھا ، چاہے وہ انسانی  معاملات  ہوں یا جذبے 

چاے  ختم ہوتے ہی اس نے جوگرز پہنے، فون  لیا اور واک کے لیے نکل گئی 

وہی  روز والا راستہ تھا ، اونچائی پر جاتی پگڈنڈی کے دونوں اطراف مضبوطی سے جمے طویل درخت بھی ووہی تھے جو اب اس کے دوست بن گئے تھے 

بادل  البتہ روز نۓ  ہوتے ، مسکرا کر اسے دیکھتے اور آگے بڑھ جاتے 

اس نے آج پھر سرخ سویٹر اور نیلی جینز  پہنی ہوئی تھی ، بالوں کی اونچی سی پونی اس کے بھاگتے قدموں کے ساتھ بل کھاتی تھی 

آج اس کی رفتار میں وہ تیزی نہیں تھی ، رات کی ادھوری نیند اور سر کے درد نے  ویسے ہی تھکایا ہوا تھا 

اسے اپنی الجھن کی وجہ بھی معلوم تھی اور یہ بھی علم تھا کہ وہ اپنی الجھن کو تسلیم کرنے سے بھی مفر کر رہی  تھی 

وہ عمر حیات کا انتظار کر رہی تھی ، دو دن گزر گئے تھے وہ واپس نہیں آیا تھا ، اس کی امید دم  توڑتی جا رہی تھی 

پتا نہیں وہ کیا کہنے آیا تھا ، مجھے سن تو لینا چاہیے تھا 
سو بار اب تک وہ خود کو کوس چکی تھی 
کبھی پھر سے آس  ہوتی کہ شاید وہ آج آ  جاتے 
اور کبھی مایوسی اسے اداس کرنے لگتی 

"تو پھر وہ ہمیں ملتے ہی کیوں ہیں، جنہیں واپس نہیں آنا ہوتا ؟"

سر جھکا کر چلتے ہوے  صرف  یہ ایک سوچ  اس کی ساتھی  تھی 

--------------------------------------------------------------------------




Tuesday, April 28, 2015

دھند 16

شام گہری  ہو رہی تھی 
وہ دھند میں ڈھکے جنگل میں اپنا واپسی کا رستہ بھول چکی تھی 
بھٹک رہی تھی 
جیسے کوئی بے چین روح 

اندھیرا پھیل  رہا تھا اور وہ خوف زدہ تھی 
بے آواز سی صدا میں جیسے اس نے  مدد کے لیے کسی کو  پکارا تھا
پتوں کی چڑ چڑ آہٹ پر اس کی سانس تھم  گئی 
کوئی پاس  ہی تھا 
کوئی اس کا پیچھا کر رہا تھا 
دھند میں  ڈھکے ہوے  جنگل کی اس گہری  ہوتی شام میں 
------------------------------------------------------------------------------------------------------------

کہیں کوئی آواز تھی 
پتوں کی چڑ چرا ہٹ؟
نہیں یہ تو کوئی اور ہی آواز تھی 

اس کی  آنکھ کھلی تو وہ ایک ادھورے خواب سے جاگی تھی 
ماتھے پر پسینے کے قطرے تھے 
اس کا دل سہما ہوا تھا 
اور وہ آواز اس کے سیل فون سے آ رہی تھی 

اس نے بات کی . وہ فرزانہ تھی ہسپتال سے 

شادی خان اپنی بیوی زیب گل کو ہسپتال سے زبردستی گھر لے کر جا رہا تھا 

اس نے فرزانہ کو  ہداییت کی کہ وہ زیب گل کو ہسپتال میں روکے رکھے وہ پہنچ رہی ہی 

لالہ کو گاڑی نکلنے کی ہدایت کرتے ہوے اس نے اپنا صوفے پر رکھا ہوا بیگ اور شال اٹھائی اور  باہر کی جانب بھاگی 

وہ ایک ڈاکٹر تھی اس اس  کی حصّیات ایک عام  آدمی کے مقابلے میں ہنگامی صورت حال میں زیادہ تیزی سے کام کرتی تھیں 

 وہ اس دیوار کو دیکھ رہی تھی جہاں چند گھنٹوں پہلے وہ نیلی پراڈو کھڑی تھی 

تو وہ چلا گیا تھا 

ویسے بھی جیسا رویہ اس نے اس کے ساتھ روا رکھا تھا اس کے بعد یہی ہونا تھا 

وہ کس لیے اتنی عزت افزائی کے باوجود وہاں ٹھہرا رہتا 

کوئی محبّت تو تھی نہیں 

وہ  گاڑی میں بیٹھتے ہوے اسے ہی سوچ رہی تھی   
ہسپتال پہنچتے ہی اس نے گائنی وارد کی جانب دوڑ لگائی 

شادی خان  زبردستی زیبی گل کو لے جانے کی کوشش کر رہا تھا اور فرزانہ اسےروک  رہی تھی 
وارڈ  میں ایک ہنگامہ بپا تھا 

وہ پہنچی تو کچھ لمحوں کے لیے وہ دونوں خاموش سے ہو  گئے 

"یہ کیا ہو رہا ہے "؟، اس نے  تحکمانہ لہجے میں  پوچھا "

"میری بیوی کو فارغ کرو ڈاکٹر یہ میرے ساتھ گھرجاتے  گی"

 " ٹھیک ہے شادی خان میں چھٹی  دے دوں  گی، آپ پہلے میرے ساتھ آ  یں "

وہ جانے کے لیے رضامند نہیں تھا  لیکن  اس ڈاکٹرنی کا اپنا ایک رعب  تھا ، وہ نہ چاہتے ہوے بھی اس کے ساتھ چل دیا 

وہ اسے اپنے آفس میں لے آئی 

بیٹھو شادی خان 

وہ بیٹھ گیا 

"کیوں  لے جانا چاہتے ہو زیبی گل کو ؟"

ہم اپنی عورت کو یوں ہسپتال میں نہیں چھوڑتے ڈاکٹر ، اس کا علاج گھر  میں ہو جاتے  گا "

"اگر علاج کروایا ہوتا تو کیا یہ اس حال کو پہنچتی؟"

"وہ ہمارا بیوی ہے ، ہم علاج کرے نہ کرے ، یہ آپ کا  مسلہ  نہیں ہے، آپ بس اس کو فارغ کرو "

"تم جانتے ہو اس وقت اسے یہاں سے لے جانے کا مطلب ہے  کہ اس کی جان بھی جا سکتی ہے "

" یہ تمہارا مسلہ  نہیں ہی ڈاکٹرنی ،  اس کو فریسغ کرو ورنہ میں ویسے بھی اسے لے جاؤں  گا"

وہ غصّے سے کہتا ہوا کھڑا ہو گیا 

"میں تمہارے بچے کو بچانے کی کوشش کر رہی ہوں شادی خان ، اگر وہ گھر چلی   گئی  تو یہ ممکن نہیں ہوگا  اور تمہاری بیوی کی زندگی بھی خطرے میں  رہے گی "

زینیا نے ایک آخری نفسیاتی حربہ استمال کرنے کی کوشش کی، جو کام کر گیا 

"کیا ہمارا بچہ  بچ سکتا ہے ؟" 

"میں نی کہا نہ ک کوشش کر رہی ہوں ، ورنہ آپ لوگوں  نے تو ماں اور بچے دونوں کو مار دینے میں کوئی کسر نہیں   چھوڑی ہے/"

وہ اور بھی بہت کچھ  کہنا چہ رہی تھی لیکن اس وقت شادی خان کے ساتھ معاملہ طے  کرنے کے لیے اسے بڑا  ضبط کرنا پر رہا تھا 

"کتنا دن اور روکو گے آپ اس کو "

"تین دن " 

زینیا نے گو یہ کیہ  کر ایک رسک لیا تھا لیکن اس کے پاس اور کوئی حل بھی نہیں تھا 

"ٹھیک ہے  ڈاکٹر ، میں آپ پر بھروسہ کر کے اس کو یہاں چھوڑتا ہوں پر تین دن بعد وہ گھر جاتے گی میرے ساتھ "


"ٹھیک ہے شادی خان، بہت شکریہ"

اس کے دفتر سے نکل جانے کے بعد وہ سر تھام کر  بیٹھ گئی 

اس بار اسے یقین نہیں تھا کہ شادی خان کے بچے کو بچا پاے  گی، اس بار اسے یہ خوف تھا کہ وہ زیبی گل کو کہیں کھو نہ دے 

-----------------------------------------------------------------------------------------------

گھر واپسی پر گاڑی  سے اترتے ہوے وہ پھر اس دیوار کو دیکھ رہی تھی جہاں چند گھنٹوں پہلے اس کی  گاڑی  کھڑی دیکھی تھی 

اب شاید وہ نیلی پراڈو اس گھر کے باہر کبھی نظر نہیں اے گی 

اسے کسی ان دیکھے دکھ نے گھیر  لیا 

اندر آتے ہی وہ صوفے پر گر سی گئی 
کتنا ذہنی طور پرتھکا  دینے والا دن تھا 

جذباتی اور نفسیاتی محاذوں پر خود سے لڑائی کرنا کس قدر مشکل ہوتا ہے 

آج اسے وہ ملا تھا کئی برسوں کے بعد جس  سے ایک خود ساختہ محبّت میں وہ کئی سال مبتلا رہی تھی 

اور پھر آج اسے وہ بھی بھی ملا تھاجس  سے اس کا کوئی ناطہ نہیں تھا مگر جس کے چلے  جانے پر اس کے دل میں کوئی خلش سانس لیتی تھی 

"بے بی  کھانا لا دوں :

لالہ ہمیشہ  کی طرح مستعد تھے 

"بھوک نہیں ہے لالہ " اس سے بولا بھی نہیں جا رہا  تھا 

"کچھ تو کھا لو بیٹا ، صبح  سے کچھ نہیں کھایا "

"وہ ان کے لیے  ، کھانا کھانے  پر تییار  ہو گئی " اچھا میں کچن میں ہی کھا لوں گی "

کچن میں آتے ہوے اسے  احساس ہوا کہ  زیادہ دیر تو نہیں  گزری تھی  جب وہ یہاں موجود تھا 

اسی کچن چیئر  پر بیٹھا  وہ اس کی بدتمیزی کو کتنے آرام سے سہ گیا تھا 

وہ وہیں آ کر بیٹھ گئی 

لالہ حیران سے تھے پر کچھ بولے نہیں 

انہیں یقین ہو گیا تھا کہ بے بی کی طبیت آج ٹھیک نہیں 

کتنا  عرصہ  ہو گیا تھا اسے یہاں  رہتے ہوے 

تنہائی کی قید کاٹتے ہوے 

اب تو جیسے وہ عادی ہو چکی تھی 
اور آج عمر حیات کی چند للمحوں کی مجودگی نے جیسے کچھ تبدیل کر دیا تھا 

وہ اس کی مجودگی کی غیر مجودگی کے باوجود اسے وہاں محسوس کر رہی تھی 

اور اس سے زیادہ حیران کن مرحلہ تو یہ تھا کہ اسے یہ سب بلکل برا نہیں لگ رہا تھا 

--------------------------------------------------------------------------------------------


Saturday, April 25, 2015

The forms of Longing



















Silence speaks

In the latent hour of a darkened night
Silence speaks and speaks so gently
as the lightest of a feather's touch
as the beating of a shuddering pulse
as the drizzling drop of  scattering rain
as the candle with a flickering flame
and behind the closed eyes emerges
an image of the beloved form
as sleep surrenders, desire plunges
in the latent hour of a darkened night



Friday, April 24, 2015

Shakespeare day

http://www.bbc.com/culture/story/20150423-ten-memorable-shakespeare-lines

My contribution to Shakespeare day



Thursday, April 23, 2015

Wednesday, April 22, 2015

Charming man

You know you are a smart man when you can charm a woman.
You may be a handsome man if you can charm many women including those who fall easily for any man.
But you are an extraordinary charming man if you can make a woman fall for you, who is a hard catch, someone who resists, someone who is difficult to melt. Someone who is a one man's woman.
May be that is what they want to prove afterall.
May be this is what this game is all about.

Flesh and skin

So it was nothing about feelings
 it was all about flesh and skin
and about hair, eyes and figure
thus had to end it this way
For the flesh and skin
hair, eyes and figure may change
and transform into another being
But what about feelings?


Tuesday, April 21, 2015

Casting a spell


No palmist or fortune-teller
No following of stars
No magic or witchcraft
I didn't but I wish I knew
To cast a spell on you

سوال

 کہتے ہیں سوگ تین  دن کا ہوتا  ہے
اور روگ ؟



Monday, April 20, 2015

Intuition

Intuition is amazing. It tells you somethings gonna happen.
It even tells something good or bad will occur.
Through restlessness or dreams or signs.
And where you are connected through emotions intuition may work wonder.
My restlessness, dreams and signs were telling me for many days.
And then it happened.
I lost you.

Fault in stars

What we had was beautiful
What we could not
was a fault in stars

Sunday, April 19, 2015

The fault is ours

And sometimes it is too late before we realize the extent of our own naivety
Not before when we begin to trust someone with our eyes closed that they would hit us
Not before that we assume wrongly that their feelings match ours, we come to know they were false

Whose fault it is then?

of dreams, of feelings, of assumptions, or us?

Yes the fault is all ours!

Friday, April 17, 2015

The Wanderer

The wanderer in me
settles down for nothing
but the only path
which leads to you

Wednesday, April 15, 2015

دھند 15

 اور کتنی ہی دھند سے بوجھل زندگی کی  شامیں تھیں جب زینیا شاہ کوہ مری کے اس مشور زمانہ کو نو نٹ اسکول کی قدامت بھری اینٹوں سے بنی  عمارت کی  اونچی محرابوں  والی طویل راہداریوں میں بکھرے بالوں سمیت بھٹکتی پھرتی تھی 

کسی انتظار میں سلگتی ہوئی 

کسی کی آمد کا انتظار 
کسی کے وعدے  کے ایفا ہونے کا انتظار 
کسی اچھے لمحے کا انتظار 
اور کسی کی محبّت کا انتظار 

اس کی زندگی بھی انتظار کے مختلف رنگوں سے رنگی ہوئی تھی 

چھٹیاں ہوتیں تو وہ ڈیڈ  کے انے کا انتظار شروع کر دیتی 
کہیں گھومنے جانے کی پلاننگ 
کہیں شاپنگ کے پروگرام، مما کے ساتھ  کلبز اور پارلر کی  اپائنٹمنٹس 
مگر یہ سب وقت کتنا تیزی سے گزر جاتا  
اور اس کے بعد وہ اور صبور اپنے اپنے ہوسٹلز  کو لوٹ جاتے 

اور وہ اس محبّت کے ہاتھوں خوار تھی جو اسے احسن شاہ بخاری سے تھی 
شاید اپنی ماں سے بھی زیادہ 
کوئی بھرپور مرد جو اسے محبّت کے ساتھ ساتھ تحفظ کا احساس بھی دیتا ہو، ایسا شخص اس کے لیے صرف اس کا باپ تھا 

اور یہی محبّت تھی جس کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس نے ان کا بے حد  انتظار کیا تھا 

دھند سے بوجھل ہوتی زندگی کی کئی شاموں میں 

================================================================

 وہ غصّے سے کپکپا رہی تھی 

اپنے کمرے میں بند  ہو کر اس نے سیل فون پر کوئی نمبر ملایا ، فون مصروف تھا 
اور پھر متعدد بار کی کوشسش کے باوجود اس کی ان تک رسائی نہیں ہو سکی 
اس نے کوفت کے مارے فون بستر  پر پھینکا اور کھڑکی کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی 

وہی منظر تھا جو ہر شام وہ  اسی کھڑکی سے دیکھا کرتی تھی 
مگر آج جیسے سب نظروں سے اوجھل تھا 

وہ سخت خفا تھی 

عمر حیات خان اور یہاں اور اس کی مرضی کے بنا . وہ نہیں جانتی تھی اس کی یہاں آمد کا مقصد کیا تھا اور شاید جاننا بھی نہیں چاہتی تھی ، اس کانفرنس کے بعد  اس سے دوبارہ ملنے کی اسے کوئی امید بھی نہیں تھی 

اس نے اپنے دل میں اس کے لیے کوئی نرم گوشہ محسوس کیا تھا اور اسی لمحے سے اس نے اس کے اور اپنے درمیان فاصلے  کھڑے کر لئے تھے 

قربت کے رشتوں  نے اسے دکھ  اور انتظار کے سوا کچھ نہیں دیا تھا 

اور اس میں مزید دکھ سہنے کا حوصلہ نہیں تھا 
اسی لیے وہ بھاگتی تھی 
محبّت کے رشتوں سے دور 

وہ جانتی تھی وہ گیا نہیں تھا  اس کی گاڑی  کی آواز یہاں تک ضرور آتی 

لالہ  اب تک چاے  لے کر نہیں اے تھے  اور اسے اب کوئی خواہش بھی نہیں تھی 

وہ یونہی غصّے سے بھری بستر پر دراز ہو گئی  اور  اسے معلوم نہ ہو سکا وہ کب سو چکی تھی 

===================================================================

"بےبی  تو سو چکیں  " لالہ  نے مایوسی سے ٹرے  کچن کاونٹر پر واپس رکھتے ہوے کہا 

وہ ابھی تک اسی کرسی پر بیٹھا تھا  اور سوچ رہا تھا کہ  زینیا سے دوبارہ سامنا ہونے پر کیا کہے گا 

لیکن یہاں تو منظر ہی بدل چکا تھا . شاید اب اسے واپس جانا پڑے گا 

سوچتے ہوے وہ اٹھ کھڑا ہوا 

"اچھا لالہ ، میں بھی چلتا ہوں پھر ، اپنی بےبی  کو پیغام  دیجئے گا کہ پھر حاضر ہونگا "

مسکرا کر لالہ  کا حیرت زدہ  چہرہ دیکھتے ہوے  وہ باہر  نکل آیا 

گاڑی میں بیٹھ کر ابھی اس نے ریورس کرنے کا ارادہ کیا تھا کہ اس کا سیل فون بجنے لگا 

"جی انکل ، بچ گیا ہوں، آپ کے خدشے غلط تھے ، پٹائی  ہر گز نہیں ہوئی " وہ زور سے ہنسا 

"وہ مجھے فون کر رہی تھی ،میں نے رسیو نہیں کیا ، مگر تم میری بیٹی کو زیادہ تانگ نہیں کرو گے عمر "

"آپ سے پرومس کیا ہے اسی لیے تانگ کے بغیر واپس جا رہا ہوں ، آپ پریشن نہ ہوں، میں ہنڈل کر سکتا ہوں مادام  کو "

اس نے فون رکھنے کے بعد ایک بار پھر اس ہرے بھرے کاٹیج کو دیکھا  ، جہاں وہ تھی  جسے وہ جانتا تو  ہمیشہ سے تھا 

مگر اب پانا چاہتا تھا 

اور ابھی تو یہ ابتدا تھی 

=======================================================

Do not die

What is death?

The denial of life

The acceptance of unseen

The parting of beloved

The stillness of feelings!

And when today I hear of another death

I wish and pray

I die before any of my beloved dies

For I am too fragile to bear this pain

For I am too weak to recover

So I wish and pray

May I die before anyone of you!

Tuesday, April 14, 2015

Miles prevail

So many ways to connect
in the fraction of a second
in the palm of our hands
in the clicks of our fingers
though we seem so close
yet the miles prevail
as a reminder of
undeniable facts

دھند 14

 ہوٹل  سے  کاٹیج  تک کا راستہ  طویل تھا   لیکن  اس کی ذہنی گمشدگی  نے  اسے اس طوالت کا احساس  نہیں ہونے  دیا 

گھر کے قریب  ہوتے ہوتے وہ ہانپ رہی تھی 

باؤنڈری  وال  کے ساتھ  نیلے رنگ کی پراڈو کھڑی تھی ، ایک لمحے کو وہ ٹھٹھک گئی 
وہ اس گاڑی  کونہیں پہچانتی تھی . کیا کوئی اسے ڈھونڈتا ہوا اس کی پناہ گاہ تک چلا آیا تھا؟

اب یہاں سے بھاگ کر وہ کہاں جاے ؟
ایک لمحے کو اس کی سانس تھام سی گئی تھی . اس کی چھٹی حس اسے کوئی  اشارہ دے رہی تھی 
اندر داخل ہوئی تو حسب معمول خاموشی تھی 
لاؤنج میں کسی کی آمد کے کوئی آثار نہیں تھے 
وہ پرسکون ہو گئی 

یقیناً آس  پاس کے کسی کاٹیج کا کوئی مہمان ہوگا جس نے غلطی سے گاڑی  اس کے گھر کے باہر کھڑی کر دی تھی 
شال   اور بیگ جیسے اس نے صوفے پر پھینکے  تھے  اور لالہ  کو پکارتی کچن کی جانب بڑھی 

ارادہ تو اس کا چا ے  پینے کا تھا مگر یہاں تو منظر ہی بدلہ ہوا تھا 

اندر کچن کاؤنٹر پر چا ے کی لوازمات کی ٹرے سجاتے ہوے لالہ  کی دوسری جانب اونچی سی کچن چیئر پر وہ جو کوئی بھی تھا اجنبی نہیں تھا  اور یہی  لمحہ اسے ساکت کر دینے کے لیے کافی تھا

تو اس کا پہلا خیال ہی درست تھا ، وہ اسے ڈھونڈتے ہوے یہاں تک چلا آیا تھا 

زینیا شاہ دروازے میں کھڑی رہ گئی تھی، 

عمر حیات اسے دیکھتے ہی اٹھ کھڑا ہوا 

"آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟" اس نے خاصے اکھڑ لہجے میں دریافت کیا "

" ایک دو ضروری پیغام  دینے تھے " وہ چند لمحے کو گربرایا "

"میری اجازت کے بغیر آپ میرے  گھر میں کیسے آ سکتے ہیں؟ "|

" اجازت  لے کر ہی  آیا ہوں "  اطمینان سے اس نے  جواب دیا "

کس  نے بتایا آپ کو میری یہاں موجودگی کا؟ اور جس نے بھی بتایا اس نے یہ کیوں نہیں بتایا  کہ میں کسی سے نہیں ملتی "
وہ تلخی سے بولی

" بتایا تھا ، میں نے اس کے باوجود  یہاں انے کا رسک لیا " وہ سینے پر ہاتھ بندہ کر کھڑا تھا . اس کے  لہجے  میں کوئی ارادہ تھا جس سے زینیا شاہ کو خطرے کی بو  آ رہی تھی


"آپ براہے مہربانی یہاں سے رخصت جایں ، مجھے آپ سے  مزید کوئی بات نہیں کرنی"

"زینیا  بے بی " لالہ  نے کچھ بولنا  چاہا تھا جب اس نے ان کی بات کاٹ دی "

"لالہ آپ سے میں بعد میں بات کروں گی   ،میری اجازت کے بغیر یہ حضرت گھر میں کیسے اے ،اوپر  سے آپ ان کی خاطر مدارات بھی کر   رہے ہیں؟ "

وہ شدید غصّے میں تھی . اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ عمر حیات خان کو اٹھا کر باہر پھینک  دے

"بے بی ، یہ تو شاہ جی کے مہمان ہیں " لالہ بس اتنا ہی کہ سکے. وہ جانتے تھے کہ اس کا غصّہ اب اتنے آرام سے ٹھنڈا نہیں ہوگا

" شاہ جی کہ مہمان ان کے گھر جایں ، میں یہاں کسی کو بھی برداشت نہیں کر سکتی ، میں کمرے میں جا رہی ہوں مجھے |چاے وہی ںپنہچا  دیں ، اور شاہ جی کے مہمان سے کہ دیں کہ یہاں سے رخصت ہوں ، "
وہ نخوت سے ناک چڑھا کر بولتی ہوئی پلٹی اور اپنے کمرے کی جانب چل دی

عمر حیات خان کو اس عزت افزائی پر ہنسی انے لگی

اسے اندازہ تھا کہ کچھ ایسا ہی شاندار استقبال ہوگا اس کا یہاں ، غنیمت ہی تھا کہ زینیا شاہ نے جوتا اتار کر نہیں دےمارا تھا

لالہ انہیں یوں مسکراتے ہوے دیکھ کر سخت حیرت زدہ تھے ، اس قدر بدتمیزی کے بعد تو ان کو ناراض ہو کر یہاں سے چلے جانا چائیے تھا .
مگر انہیں اندازہ نہیں تھا کہ کتنی محنت کے بعد عمر حیات  نے خود کو اس محاذ کے لیے تییار  کیا تھا  پیچھے ہٹ جانے     والوں میں سے وہ تھا نہیں . انکل احسن شاہ بخاری  سے مشورے کے بعد ہی  ہی اس نے یہ فیصلہ لیا تھا 

وہ لوگ جو  عزیز ہوں ان کو جانتے بجھتے بھڑکتی آگ میں سلگتے  ہوے کیسے  چھوڑا   جا سکتا ہے  

زینیا شاہ اس کے لیے ایک نام تھا جس کے بارے میں اس نے اتنا ذکر سنا تھا کہ کبھی ملاقات نہ ہونے کے با وجود وہ اس کی  پوری کہانی سے واقف تھا 

مگر اس کانفرنس میں ملاقات کے بعد وہ صرف ایک نام نہیں رہا تھا ، وہ اس کے لیے  بہت اہم   ہو چکی تھی 
اور  اب اس کے قریب ہونے کے لیے اسے یہ رسک لینا پڑ رہا تھا 

وہ احسن شاہ بخاری نہیں تھا جس نے اپنی محبّت کے ہاتھوں مجبور ہو کر اسے تنہا چھوڑر دیا تھا 

وہ عمر حیات خان تھا جو اسے اپنے جذبوں  کا یقین دلا کر  زندگی کی طرف واپس لانا چاہتا تھا 

زینیا شاہ کی بدتمیزی   بھی اسے بری نہیں محسوس ہوئی ، کیوں کہ وہ اپنی تھی ، بہت اپنی .

=====================================================

Monday, April 13, 2015

Air waves

I just have to whisper in air
When I need to speak to you.

دھند 13

آس  پاس  چہچہاہٹ  تھی پرندوں کی، سرسراتی ہوا ، کھلتے ہوے  پھول  اور ایک خوشگوار ان دیکھی مہک 
مگر اسے کچھ بھی خوشگوار نہیں لگ  رہا  تھا

جب جذبے سو جاییں، مر جایں  یا فنا کی وادی میں گم شدہ ہو جایئں تو کچھ بھی خوش گوار نہیں لگتا  بلکہ اک بوجھ کا سا احساس دینے لگتے ہیں 

اس نے کبھی نہیں چاہا تھا کہ اس کی جذبوں کی شدت یوں ماند پڑے. 
اس نے تو انہیں زندہ رکھنے کی بہت جتن کے تھے 
اور آج جب وہ شخص ، جس کی آہٹ پر بھی اس کا دل دھڑک اٹھتا تھا، آج جب وہ یوں اس کے بالمقابل تھا تو وہ کسی بت  کی طرح ساکن  تھی 
اسے کچھ بھی تو محسوس نہیں ہو رہا تھا 

وہ اب کسی سین کی شوٹنگ میں مصروف تھا 

ساتھ کام کرنے والی ایکٹر بہت خوبصورت تھی 

علی  زبیری کے آس پاس کوئی خوش ادا نہ موجود ہو یہ ہو نہیں سکتا تھا  

وہ جانا چاہتی تھی مگر علی نے اسے پرانے و وقت کا واسطہ دے کر روک رکھا تھا 

  شوٹ نپٹا  کر وہ اسی کے پاس آیا . اور  اس  کے شانوں  کے گرد بازو پھیلا کر   سب  لوگوں سے اس کا تعرف  کروانے لگا

زینیا کو  کسی ناگوار سے احساس نے گھیر لیا.

وہ جو مسکرا کر خوش اخلاقی نبھانے کی  ناکام سی کوشسش کر رہی تھی ،وہ بھی اب اسے بار محسوس  ،ہونے لگی 

وہ علی  کا ہاتھ جھڑک کردور  کرنا چاہتی تھی 

چھو ون  کا احساس  بھی جذبوں سے جڑا  ہوتا .ہے گویا ، جہاں جتنا لگاؤ ہو وہاں اتنی ہی قربت ، اگر محبّت نہ ہو تو چھو ون بھی بوجھ کی طرح محسوس ہونے لگتی ہے 

اور جہاں  جذبے چاہت کے ہوں وہاں شدّت کو روپ  دینے کے لیے اس سے خوبصورت اظہار  نہیں ہو سکتا 

اسے  حیرت ہو رہی تھی 
کیا جذبے یوں بھی تبدیل ہو جاتے ہیں 
کیا احساس یوں سو جاتے ہیں؟

کبھی یہی وہ لمس تھا جس کی چاہت اس کی سب سےبڑی  آرزو تھی 
اور آج لمس ووہی تھا ، جذبہ مر چکا تھا، 
احساس بوجھ ہو گیا تھا 
اسے اس لمس سے گھن آ  رہی تھی 
و
یہ ووہی ماحول تھا جس میں اس نے کئی برس گزارے تھے 
جو اس کے لیے صبح اور شام تھا 

اور اب یہی ماحول تھا جس سے وہ بھاگ جانا چاہتی تھی 
کیوں کہ وہ جانتی تھی کہ یہ بناوٹی چہرے تھے ، جو بظاھر خوبصورت اور خوش اخلاق تھے ، مگر ان کی اصلیت سے واقف ہونے کے بعد زینیا شاہ  کے لیے وہ اب خوبصورت نہیں رہے تھے 

نہ جانے اس نے علی سے کیا بہانے گھڑے تھے  اسے کچھ ہوش نہیں تھا 

وہ صرف یہ جانتی تھی کہ وہ ان لوگوں اور اس ماحول سے نکل کر آزاد ہو  چکی تھی 

اور تیز قدم اٹھا تے ہوے آ گے بڑھ رہی تھی ک کہیں پلٹ  کر دیکھنے پر کوئی کمزور لمحہ اسے پھر اسی ماحول میں واپس نہ کھینچ لے 

=====================================================

finger tip

Let me touch you
With a finger tip
To make sure
You are a reality
And not a dream

Sunday, April 12, 2015

Girl in a painting

Can you be unfaithful to a girl in a painting?

Flights of Love

Bernhard Schlink

Saturday, April 11, 2015

Non-sense

And if you don't reciprocate
The feelings I have for you
Is it not non-sense to carry on?

Thursday, April 9, 2015

Orbit

And then comes a time when
all your searches
and wanderings
in and out
and around the world
ends into one point,
the center of your orbit

Guzarish

Please
Do not let me miss you
cuz thats the last thing
I want to do

Wednesday, April 8, 2015

Scars

If I could exist
Out of the range of gravity
Weighing nothing-nothing at all
Soaring high in the skies
Like a free soul
As soul may be lighter
For reasons like such
May be then
The deeper scars on
This tender heart
Will vanish
May be then
I'll find
True solace!

Tuesday, April 7, 2015

Gentle secret

They wouldn't ask me
To write for them
If they knew
These are not merely poems
They are my conversations
With you
Private and confidential
Like a gentle secret
Like a silent whisper
Only if they knew.

Difference

I may set you free
but I wouldn't let you go
for these are two different things
if one may understand

Monday, April 6, 2015

The Journey

Neither did I ask for
Nor you ever intended
thorns embedded
stones pavement-ed
the paths that we traveled
ended to the same
few moments of delight
for unlimited pain
few worthy smiles
that lasted like rain
thousand miles between
we still carry on
the journey which began
unintended
and the end of which is
yet unknown





Sunday, April 5, 2015

Say

Say it once or twice
Whispers or aloud
Say what you feel
When you are with me
Say what you see
When you look in my eyes
Say what it is all
Between you and me
Say it to the wind
Say it to the moon
Say it to the fog
For it knows how to hide

That shadow


The moon was full yet incomplete
wind blowing as in a soft touch
waves were peaceful as they 
struck the shore where
a white speed boat was waiting
for the couple that could never
have a chance to sail it 
the clouds out of the dense fog
watched that solitary feminine figure
walking aimlessly along the shore
unbeknownst of the fact that 
from above and beyond horizons
the moon, the clouds, the fog
could see that she was not alone
an over looming shadow was
strolling right beside her.


Friday, April 3, 2015

what is it called?

Now what do u call it when
At each little or big moment in life
You feel the presence of someone
Like a fragrance in the air

Dissolved

Dissolved in blood
As you run in my veins
Veins that rush the blood
towards heart and beyond
To a brightened face
Glowing skin
Fragrant body
Dreamy eyes
As if the mirror this morning
Sends a reflection of
A newly wedded bride

Thursday, April 2, 2015

Besides You

I haven't known a sweeter indulgence
other than you
I haven't suffered a greater distraction
besides you

Secret

A secret that binds
both of us together
that unseen connection
that untold revelation
that unmatched obsession
that unveiled expression
A secret that flourishes
with in the expanse of
you and me, together.

Wednesday, April 1, 2015

Prevailing



Serenity prevailing
In the wind blowing
In the moon glowing
In my steps slowing
In the night flowing


Fault?

So is it my fault if I still
miss you every single day
since the day I met you