Featured Post

Something else

No its not writer's block Its something else Just wondering why am I not writing much these days!

Sunday, May 31, 2015

دھند ١٩

وہ  جا  چکا تھا 
اسے جانا  ہی تھا . یہ تو وہ بھی جانتی تھی مگر پھر کیوں بے چینی سے ٹیریس پر اترنے والے بادلوں کی طرح ادھر سے ادھر، بے سمت  چلتی جا رہی تھی 
شام ڈھل رہی تھی مگر وہ تو جیسے وقت  کے دائرے سے کہیں باہر نکل چکی تھی 
اسے اب دن رات کا فرق بھی محسوس نہیں ہوتا تھا ، کچھ اس لیے بھی کہ وہ ایمر جنسی  میں کسی بھی ہسپتال بلائی جا سکتی تھی اور کچھ یوں بھی کہ جب آپ کسی کی یاد میں ڈوبے ہوے ہوں تو وقت بھی اپنے ہونے کا احساس ثابت  نہیں کر پاتا  
زینیا شاہ نے زندگی میں سب سے بڑھ کر کچھ سیکھا  تھا تو وہ اپنے اندر موجود احساسات کو قبول نہ کرنے کا فن تھا  
 denial 
اور اس وقت بھی وہ اپنے اندر مچلتے، شور مچاتے، آنسو بہانے کو بیتاب ہوتے جذبوں کو رد کر رہی تھی 
اسے عمر حیات کا واپس چلے جانا  کسی دکھ میں مبتلا کر گیا تھا 
مگر وہ خود کو یہ ہی باور کروا رہی تھی کہ اس کی بے چینی کی وجہ  کچھ اور تھی 
مثلا زیبی گل کے شوہر کا اسے زبردستی  ہسپتال سے گھر لے جانا 
اس کے بہت سمجھنے کے  با وجود وہ اسے گھر لے جا چکا تھا ، اور ایک ڈاکٹر کی حثیت سے وہ جانتی تھی کہ اس کی زندگی کے لیے یہ کتنا خطرناک ثابت ہو سکتا تھا 

وہ کس کس کے دکھ پر روے 
وہ اپنے دکھ پر بھی رونا چاہتی تھی 
وہ اپنی بے بسی پر بین کرنا چاہتی تھی 
وہ علی زبیری کی قربت میں گزرنے والے وقت کی ناقدری پر دکھی تھی 
وہ اپنے باپ کی دوری پر افسردہ تھی ، وہ باپ جو اس کی پہلی محبت  تھا 
وہ اپنی ماں کی بیماری پر نالاں تھی
  وہ اپنے اکلوتے بھائی  کی لا تعلقی پر رنجیدہ تھی 

مگر اس لمحے میں،  اپنے آپ سے سامنا کرنے کے اس ایک سچے لمحے میں ، وہ عمر حیات کی محبّت میں مبتلا ہو جانے پر سب سے زیادہ دکھی تھی 

محبّت جو نہ وقت دیکھتی ہے نہ رت، نہ موسم نہ محل ، نہ عمر نہ فاصلہ، اسے  جب وار کرنا ہو خاموشی سے آتی ہے اور زخم دے کر چلی جاتی ہے 

زینیا شاہ نے تو ہر ممکن کوشش کر دیکھی تھی ، مگر وہ بچ نہیں سکی 

اور آج جب اس کے یوں اچانک ملنے نے اسے سالوں بعد  خوشی کے چند لمحے دے تھے وہیں اس کے خاموشی سے لوٹ جانے پر وہ کس قدر اداس تھی 

اسے اپنی بے بسی پر رونا آ رہا تھا 

زندگی میں سب کچھ طے شدہ نہیں ہوتا ، اور جو ہو رہا ہو اسے قبول کیے  بنا چارہ بھی نہیں ہوتا. 

وہ  کسی بے چین بادل  کی طرح یہاں سے وہاں دوڑتی سکوں ڈھونڈ تی  پھر رہی تھی 

یا پھر وہ کندھا جس پر سر رکھ کر وہ بہت سا رو سکے 

مگر وہ تو بہت دور جا چکا تھا ، اور وہ پھر بھی ، کسی آس کے نہ ہونے کے با وجود بھی اس کی منتظر تھی 

===================================================




Jeff Brown

Ecstasy and love are not the same thing.
Love is far more than floating to the heavens on a dreamy magic carpet.
Love is sustainable. Love is inclusive. Love has feet that walk it through time.

Jeff Brown

Saturday, May 30, 2015

Reflections of a broken heart

The reflections of a broken heart
can not be taken as a norm,
it emits light and rays
that reach beyond boundaries
it sustains pain and devotion
that supervenes emotions

Thursday, May 28, 2015

A Glimpse

Just a glimpse will do
your glimpse
to fill in the emptiness of vision!

Tuesday, May 26, 2015

Monday, May 25, 2015

na janey

meri jaan ! ek dusre ke liay
jane hum na guzeer hain ke nahin
tum jo ho tum ho, main jo hun main hun
dil hua hy sukun pazeer kaheen

Sunday, May 24, 2015

Day and night

It isn't difficult to pass a day, the rushing hours go by fast.
Its just that the night won't pass smoothly, it simply does not.

Friday, May 22, 2015

A wish tonight

Oh how I wish tonight
this flickering strand of hair
caressing my left cheek
was your finger!

Thursday, May 21, 2015

Kahani

ہمارے اور تمہارے راستے میں اک نیا پن  تھا
مگر  یہ دنیا پرانی ہے، نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے 


Drawing

Strange how we reflect differently at different times in life
I have an urge to draw, instead of writing
An utterly changed medium of expression



Wednesday, May 20, 2015

In search of

In the crowd of
Ordinary and special people
If you find me somewhere
Do let me know
For I am at such a loss
Of finding my ownself.

Tuesday, May 19, 2015

Arm of a ticking clock

I run
All day through
As if I would be
An arm of a ticking clock
There used to be a reason
To hold my breath
Sit back and relax
But not anymore 

Monday, May 18, 2015

Lets meet

Tired of looking for you
I know now
I wouldn't easily find you
again
but then there is a place
which secretly let me
see you
The place known as
dreams

Sunday, May 17, 2015

Evolve

Thats how it goes
You burn
Bit by bit
Eyes and skin
thoughts and feelings
You burn into ashes
until you surrender
To your own feelings
That's how it goes
That's how love evolves

Ernest Hemingway



















Saturday, May 16, 2015

Friday, May 15, 2015

Chaos

Its the chaos I am left with
when we go separate ways
the harmony of mind shatters
but then once in a while
it is purely the same chaos
which brings out calm in the heart

Thursday, May 14, 2015

Ansoo

Ansoo
By Ahmed Jahanzeb

http://www.yala.fm/en/tracks/f263f45bab2d05cf5c00f8dc48422a80


Was looking for this for sometime.

دھند quote

کبھی کبھی خوف ہوتا ہے کہ راز کھل گیا تو کیا ہوگا ، کیا وہ سب جو اب ہے ، وہ بھی ہاتھ سے چلا جاتے  گا

کوئی موہوم سی آس ، کوئی دھیمی سی آنچ کوئی ان کہی سی  آہٹ ، کوئی ان سنی سرگوشی ، جس کی  آس  پر ہم زندگی کیے چلے جاتے ہیں ، وہ امید بھی نہ کھو  جاتے 

وہ اسی لیے آنکھیں اور کان بند  کر کے بیٹھی تھی 


http://drnazishamin.blogspot.com/2015/01/9.html

Saturday, May 9, 2015

Illness

people goto a doctor when ill
Where does a doctor go when suffering?
Treatment is not all about medication
Its a step beyond that
Its about care too.

Looking for

In the mirror of drunken eyes
In the shadow of desiring lips
In the warmth of flushed skin
In the waves of tousled hair
In the spell of shaky nerves
In the touch of trembling fingers
I look for you.

Thursday, May 7, 2015

I admit

It was so effluent, unintentional, undemanding
it was so naive,
it was, now as I look back and admit
it was love.

Monday, May 4, 2015

What would this be?

When you pick up a book
and keep staring  at pages
when you grab a pen
and don't know why
when you fill up a glass
and forget to drink
when a cell phone in hand
and you are totally blank
when you want to write
and the words pass you by
when you look in the mirror
and look for someone else
when you know your feelings
and still insists on denying


Sunday, May 3, 2015

دھند 18

جب ذہن مرتکز نہ   ہو تو قدم بھی ٹھیک نہیں پڑتے 
آج اس سے  واک بھی نہیں کی جا رہی تھی . پھر بھی چلتے چلتے وہ کافی آگے نکل آئی تھی 
یہ وہ راستہ تھا جو یہاں کا مشہوہائی کنگ  ٹریک تھا ، سر سبز  دو رویا طویل قامت درختوں سے  گھرا ، ایک طرف اونچا ہوتا گھانا جنگل دوسسری جانب گہری کھائی میں اگا  سبزہ اور سایہ  کرتے درخت ، کھائی میں  گرنے سے بچانے کے لیے ایک جنگلا تھا جو دور تک چلا جاتا تھا 
وہ تقریباً  روز ہی یہاں آیا کرتی تھی ، کبھی کبھی دھند اتنی زیادہ ہوتی کہ چند قدموں سے آگے کچھ دکھائی نہ دیتا مگر وہ پھر بھی چکلتی جاتی ، اسے اس  دھند سے باہر  آ کر کچھ نیا مل جانا ہمیشہ خوشی دیتا تھا
یوں جیسے کوئی کھو کر پھر مل گیا ہو
اکثر صبح وہ   اکیلی ہی ہوتی پر کبھی کبھی کوئی اس کی طرح کا صبح خیز واک کرتے ہوے پاس سے گزرتا تو اسے دوسراہٹ کا احساس ہوتا
ویسے بھی وہ روش اس قدر خوب صورت تھی کہ کسی حسین ساتھ کی خواہش خود بہ  خود جاگ جاتی تھی

وہ سر جھکاے چلی جا رہی تھی ، دھند آج بھی تھی مگر کچھ کم
وہ چند فٹ کے فاصلے تک تو دیکھ ہی سکتی تھی

مگر  اسے آج کل اکثر واہمے بھی ہونے لگے تھے ، کسی ان دیکھے وجود کی موجودگی کے واہمے

جیسے ابھی بھی اسے یہی محسوس ہوا تھا کہ چند فٹ کے فاصلے پر کسی درخت کے تنے سے ٹیک لگاے ، اس نے اسے کھڑا دیکھا تھا ، براؤن رنگ کی سویڈ  جیکٹ پہنے



اس نے سر جھٹکا اور پھر سے چلنے لگی . دھند چھٹ   رہی تھی ، منظر واضح ہو رہا تھا ، وہ دانستہ وہاں دیکھنے سے گریز کر رہی تھی جہاں اس کے خیال میں عمر حیات نظر آیا تھا ، وہ درخت اب بہت قریب تھا .
وہ اب چلتے چلتے اس درخت سے آگے نکل آئ  تھی ، پھر جیسے اس نے سکوں کا سانس لیا ، یوں کہ گویا  اس واہمے کے حقیقت ہو جانے سے جیسے وہ خوفزدہ ہو 

"صبح  بخیر "

کس نے ہوا میں سرگوشی کی 

وہ  رک  گئی اور ساتھ ہی ایک لمحے کو اس کی سانس بھی 

مگر اس نے پلٹ  کر نہیں دیکھا ، اسے بچپن کی کہانی یاد تھی، وہ پتھر ہونا نہیں چاہتی تھی 

اس نے قدم آگے کو بڑھاے 

"زینیا" 
وہ سرگوشی اب بہت قریب تھی 
کیا خواب ایسے بھی ہوتے ہیں؟

قدموں کی آہٹ  سن کر بھی وہ رکی نہیں 

کسی نے اس کا بایاں بازو تھام کر اسے روکا 
"زینیا"
کیا کسی نے پہلے یوں  اسے پکارا تھا ؟

وہ رک گئی، وہ جانتی تھی یہ خواب نہیں تھا ، وہ  اپنے آپ سے جھوٹ بول رہی تھی 

اس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا ، براؤن سویڈ  جیکٹ اس پر جچ رہی تھی 

"اتنی ناراضگی؟" وہ بولا 

"یہ بات نہیں ، مجھے لگا میں خواب دیکھ رہی ہوں " اس نے فورا کہا ، وہ ناراض کب  تھی وہ تو شرمندہ تھی 

"آپ جیسی پریکٹیکل لڑکی خواب بھی دیکھتی ہے؟" 

اس کا بازو اب تک اس کے ہاتھ میں تھا ، زینیا نے دھیمے سے بازو چھڑایا  اور آگے چلنے لگی 

خواب کون نہیں دیکھتا؟، وہ آہستہ سے بولی 

امیں معذرت چاہتا ہوں ، بغیر آپ کو اطلاعا  کے بغیر  اس دن آپ کے گھر چلا آیا ، مگر کچھ ضروری میسج تھے ، اور آپ اتنی ناراض  کہ پھر بات ہی نہیں ہو سکی 

" ای ام ساری، میں نے بھی کوئی اچھا برتاؤ نہیں کیا تھا ، آپ یقیناً  کسس اھم کام سے آے  ہونگے "

وہ دونوں چند لمحے کو چپ رہے ، کبھی کبھی خاموشی کو بھی گفتگو کرنا چاہیے 

زینیا کو لگا اس کی کوئی گہری خواہش پوری ہو رہی ہو ، وہ آج اس خوبصورت روش پر ، اس دھند آلود صبح  میں اکیلی نہیں تھی ، چند لمحوں کے لیے ہی سہی، ساتھ اگر پسندیدہ ہو تو یادگار بن جاتا ہے 

 "آپ کانفرنس چھوڑ کر یوں چلی گئی تھیں ، وہاں جیوری نے آپ کے پیپر کو بیسٹ پیپر چن لیا تھا ، آپ کا سرٹیفکیٹ اور مومنٹو میرے پاس امانت تھا ، وہی  پہنچانے آیا تھا |

 زینیا نے حیرت سے اسے دیکھا پھر مسکرا دی 

مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، میں نے وہ ریسرچ جس مقصد کے  لیے کی تھی ، یہ سرٹیفکیٹ مجھے اس مقصد میں مدد نہیں کرے گا 

عمر حیات کو حیرت ہوئی ، وہ کتنی مختلف لڑکی تھی 

" اور اگر میں آپ سے یہ کہوں کہ یہ صرف ایک پیغام تھا، دوسرا تو آپ نے ابھی سنا نہیں 
اب حیران ہونے کی باری  اس کی تھی 

   WHO      وہاں کانفرنس میں 
کے ڈیلیگٹس بھی تھے اور وہ آپ کی ریسرچ سے بہت متاثر بھی ہوے ، وہ آپ سے ملنا چاہتے تھے مگر آپ جا چکی تھیں 
میں نے  فون پر رابطہ کرنے کی ناکام کوشش بھی کی ، وہ آپ کے ساتھ مل کر اس علاقے میں کوئی پروجیکٹ شروع کرنے میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں 
میں اس سلسلے میں آپ کی ان سے میٹنگ طے  کروانا چہ رہا تھا 

زینیا تو جیسے خوشی کے مارے ساکت ہو گئی تھی ، اسے چند لمحوں کے لیے یقین ہی نہیں ہو رہا تھا 

سچ عمر؟، کیا ایسا ہو سکتا ہے؟ کیا میں اس علاقے کی عورتوں اور بچن کے لیے کچھ کر سکتی ہوں؟

اس کے سوالوں میں بچوں کی سی معصومیت تھی 

عمر حیات کھل کر ہنسا تھا 
"کیوں نہیں!" دنیا میں کچھ بھی نہ ممکن نہیں ہے جب ارادے نیک ہوں  تو راہ خود آسان ہو جاتی ہے 

اوہ تھنک یو عمر ، آپ نے میرا دن سنوار دیا " اس نے اپنی کونونٹ  زدہ انگریزی میں کہا 

" میں تو اس دن بھی دن سنوارنے ہی آیا تھا جب آپ نے عزت افزائی  کر کے چلتا کر دیا تھا " 

وہ خوب شرمندہ ہوئی 

" ائی  یم  ساری " وہ صرف اتنا ہی کہ سکی 
عمر حیات کو یہ جان کر خوشی ہوئی کہ زینیا شاہ وہ نہیں تھی جو نظر آتی تھی 
اوپر  سے کچھ کھردرے اور خشک نظر انے والے لوگ اندر سے کبھی موم کی طرح نازک اور  نرم بھی ہی سکتے ہیں 

اسے خوشی تھی کہ اس نے اس دیوار میں پہلا سوراخ کر دیا تھا 

٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠












Perfume

Its so like when you rub a perfume on your skin. It takes a while to stay and then amalgamates into your skin until it becomes a part of you, giving you the most pleasurable, soothing feeling. Though its lifetime is short and somehow it has to fade away but still it makes you addicted and you tend to go back to it over and over again.

This you can relate so comfortably to a person who comes within your range of attraction, touches your heart with that unpredictable intensity, stays a while until is absorbed into your blood and becomes a part of you. Though even at that time you know, they would have to eventually go, you become addicted to the charms. Like a perfume they may give you pleasure and may sooth your nerves but their fading away brings about these withdrawal symptoms. You may or may not have a chance to go back to them, yet the longing persists.




Saturday, May 2, 2015

Uncetainty

And you know something,
uncertainty drives you
No-where. 

Melancholy

I can live with all
the part or whole
the pain and scowl
but someday I know
I will burn in to ashes
If this melancholy prevails

In a fix

There are feelings and thoughts that may make you write.
Yet the same feelings and thought may also make you stop writing.