Featured Post

Something else

No its not writer's block Its something else Just wondering why am I not writing much these days!

Tuesday, September 29, 2015

Looking for love

Looked for love everywhere
In embracing  words
In tunes and melodies
In the shades of a deep voice
In the powerful expression
Of sentimental poetry
in rains and beaches
In seclusion and in crowd
In tears and smiles
In flowers and fragrances
But see where did I find it
In the hidden message
Inside a bottle
In the silent conversation
Of speaking eyes

Monday, September 28, 2015

Silent killer

While teaching my students about hypertension
I wish I could tell them

Its not the only silent killer, known.

Sunday, September 27, 2015

How I wonder

In the midst of rainfall
Or on viewing an eye-catching
Bright spherical moon
While driving when on radio waves
You hear any of my favorite melodies
When someone is discussing
Any of the books I used to read
When picking up your phone
Reminds of a text I ever sent
When in some beautiful face
Your eyes search for me or
When the going gets tough
And you seek a moment of comfort
In all those secret moments
When you are simply yourself
I wonder
Do you ever think of me? 

Friday, September 25, 2015

Cursed

When all the world is peacefully resting in their dreams
The only cursed insomniacs stay up.

Those who were condemned to stay restless because they used to miss someone. 

Thursday, September 24, 2015

Reality vs dream

Who says dream is afar from reality?

Then what of this dream which had you and me
And many others we know and belong to
But inspite if being in one atmosphere
I could see nothing more than a glimpse of you
This is all about us,  after all
Looking for only  a glimpse
As the time passes by

How dreams being a fig of reality
How realitycould be as harsh as a dream.

Wednesday, September 23, 2015

dwellings

If only they could be together
your colors, my words
your brushes, my pens
your sketches, my poems
your drawings, my dreams

Then only,
they would have dwelt
your pleasures
my pains.


Monday, September 21, 2015

Hathon ki lakeeroN main....

"Tu Badalta Hai To Besakhta Meri AankheN

Apne HathoN Ki LakeeroN Se Ulajh Jati HaiN"

Praveen Shakir


V

Nothing

In the late hours
Of a silent night
Nothing can replace
Your presence
Not even a good book. 

Sunday, September 20, 2015

بے بسی

ذہن  کے جھروکے  میں  
یادوں  کا   پھیرا   

آنکھوں کے روزن  پر 
خوابوں کی چلمن 

اور دل کی دہلیز پر 
دھرا  اک انتظار 

!جاتا نہیں ہے


Saturday, September 19, 2015

دھند 24

 میں تھا ERوہ ایک بار پھر  

وہ دشمن جان ابھی تک بے ہوشی کی اسی  کیفیت میں تھی ، متعدد ڈاکٹر اور اسٹاف اس کی خبر گیری  میں مصروف تھے 
وہ بے بسی  کے عالم میں بستر کے  سرہانے کھڑا اسے دیکھتا رہا 
ہر ڈاکٹر کی پیشہ ورانہ زندگی میں ایسی بے بسی کے لمحے ضررو آتے   ہیں جب وہ اپنی بے شمار صلاحیتوں اور قابلیت کے با وجود  اپنے مریض کو زندگی کی طرف لوٹا نے میں ناکام ہو رہا ہوتا ہے 

مگر جب مریض کوئی اپنا ہو، جس سے دلی یا جذباتی وابستگی بھی ہو تو بے بسی کی کیفیت اذیت دینے لگتی ہے 
وہ بھی ایسی ہی غیر بیانیہ سی اذیت سے گزر رہا تھا 

 سے باہر آنے پر اسے یاد آیا ER 

وہ تو کسی کے ساتھ یہاں ہسپتال پنہچا تھا ، اور زینیا کی  پرواہ کرتے کرتے وہ شیرل کی مجودگی کو یکسر فراموش کر چکا تھا 

اسے افسوس نے آ گھیرا 

 کے ساتھ مصروف تھی ipad وہ ویٹنگ لاؤنج میں اپنے 
 عمر اس کے برابر آ کر   بیٹھ گیا 

: سب ٹھیک  ہے؟" اس نے  پوچھا 

"وہ اب تک ہوش میں نہیں آئی، میرا خیال تھا کہ وہ جلدی جاگ جاے  گی 

"کیا وہ شاک میں ہے ؟ "

"ہاں کوئی  گہرا ذہنی صدمہ ہے، وہ ایک ڈاکٹر ہے   اور سرجری کے دوران آج اس کی ایک مریضہ کا انتقال ہو گیا "

"اوہ ، لگتا ہے وہ  بہت حسساس ہے ، ہمارے پروفیشن میں تو یہ باتیں دیکھنے کی عادت ہو جاتی ہی ؟

عمر جانتا تھا کہ شیرل کا تجزیہ بلکل درست تھا مگر وہ اسے زینیا کی زندگی کے اتار چڑھاؤ کے بارے میں تو نہیں بتا سکتا  تھا 

"کیا یہ تمہاری دوست ہے عمر؟ یا کولیگ؟ "

اس نے  آخر وہ سوال پوچھ ہی لیا جو وہ کتنی دیر سے پوچھنا چاہ  رہی تھی 

"فیملی فرینڈ ، اس کے والد شہر سے باہر تھے، اور کوئی گھر میں نہیں تھا جو اسے دیکھ  پاتا ، اسی لیے مجھے ڈنر چھوڑ کر آنا پڑا ، میں معافی چاہتا ہوں  شیرل ، ہم ساتھ ڈنر نہیں کر پاے ، میرے خیال میں تمھیں اب گھر جانا چاہیے ، بہت دیر ہو چکی 

میں کسی سے کہ کر تمھیں بھجوا دیتا ہوں 
وہ کہتے ہوے اٹھنے لگا تب  اس نے پوچھا 

"اور تم عمر؟" تم گھر کب  جاؤ گے "

اسے خود نہیں معلوم تھا کہ وہ کیا جاننا چہ رہی ہے 
"میں کم از کم اس وقت تک یہاں سے نہیں جا سکتا جب تک وہ ہوش میں نہ آ جاتے "

شیرل کو ایک لمحے کے لیے افسوس ہوا، اچھا تھا اگر وہ اس سوال کا جواب نہ کھوجتی 

کچھ دن اور سہی ، اس کی امیدوں کا بھرم  ہی رہ جاتا 

عمر نے لالہ کی ذمداری میں اسے گھر روانہ کیا اس ہدایت کے ساتھ کہ وہ کھانا ضرور کھاے گی 

 " کیا عمر حیات سے زیادہ خیال رکھنے والا انسان کوئی اور ہو سکتا تھا ، اس پریشانی میں بھی اسے شیرل کے کھانا نہ کھانے  کا خیال تھا "

اسے افسوس ہونے لگا،  پچھلے چند سالوں میں ، جب سے وہ عمر حیات کو جانتی تھی ، پہلی بار اسے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ اسے کھو رہی ہے 

اسے اس بیہوش لڑکی پر رشک آیا ، اتنا رشک جو اسے آج تک کسی پر نہیں آیا تھا 


===============================


Friday, September 18, 2015

Tuesday, September 15, 2015

yaad


Such days

There are days when you don't do what you intended to
you can not find what you desperately wanted to
nothing seems as it should have been!


دھند 23

وہ جتنی تیزی سےگاڑی  دوڑا سکتا تھا اتنی جلدی ہسپتال پنہچا تھا 
اس کے پاس   وقت نہیں تھا کہ وہ شیرل کو گھر پنہچا دیتا ، نہ ہی اسے اس   بات کی پرواہ تھی 
اس لمحے کا سب سے بڑا سچ یہ تھا کہ اسے زینیا کی فکر تھی 
کبھی کبھی وقت  کسی کے امتحان کے ذریے ، کسی اور کو حتمی نتیجے پر پنہچا دیتا ہے 

 میں لالہ اسے پنہچا چکے تھے ER 
دیکھنے میں مصروف تھے جس لمحے وہ پہنچا تھا  ECG ریذیڈنٹ ڈاکٹرز اس کے وائٹل اور

اس کے آتے ہی ایک کھلبلی مچی تھی ، جہاں ڈاکٹر عمر کی موجودگی ہوتی وہاں ریذیڈنٹ ڈاکٹرز کی سانس روکنے لگتی تھی 
سب اس کے ڈسپلن سے واقف تھے 

اس نے بے قرار سی نظر زینیا پر ڈالی ، ڈاکٹر  سارا ان کے پوچھنے سے پہلے ہی ہسٹری سنانا شروع  کر چکی تھیں 

مگر وہ سن کب رہا تھا 

اس نے بیڈ کے بایں  پہلو کے پاس ٹھہر کر زینیا پر ایک نظر ڈالی ،  اس کا چہرہ بلکل سفید تھا ، ایک لمحے کو اسے یہ بھی بھول گیا کہ وہ ایک ماہر نیورولوجسٹ تھا 

اس نے اس کے  سرد ہاتھ کو تھام کر اس کی نبض دیکھی ، جو کچھ تھمی ہوئی   سی تھی
 لے کر دیکھی ECGڈاکٹر سارا سے اس کی   
 اور ویوز تو ٹھیک ہیں بس ہارٹ ریٹ کچھ کم ہے rhythm سر  

بلڈ شوگر ؟

"سر لو  ہے" 
" کھانا کب سے نہیں کھایا؟" انہوں نےپلٹ  کر لالہ سے سوال کیا 

"کل سے کچھ نہیں کھایا "

" لگا دیں |dextrose اسٹاف "

" یہ شوگر کی مریضہ تو نہیں؟ : ڈاکٹر سارا نے لالہ سے  پوچھا 

"نہیں" لالہ کے جواب دینے سے پہلے وہ خود ہی بول اٹھے ، وہ حیرت سے انہیں دیکھنے لگی تو کسی خیال کے تحت  انہوں نے کہا 

"she is family"

تھیں  VIP ڈاکٹر سارا سمیت تمام اسٹاف الرٹ پر تھا ، یہ مریضہ

وہ اب تک بے حس پڑی تھی ، اس کی بیہوشی کی وجہ شوگر کی کمی تھی یا کوئی ذہنی بوجھ؟ یہ انہیں ابھی معلوم کرنا تھا 

 چیک کیا ڈوکٹر سارا؟GCS 

"نو سر، ابھی وائٹل ہی  دیکھ رہی تھی "

 میں  زیادہ مصروف تھا GCS وہ ڈاکٹر سارا کے جواب سے زیادہ اس کے 

اس نے قریب جا کر اسے پکارا 

"زینیا"

کوئی جواب نہیں تھا 

اس نے اس کے ہاتھ تھام کر  اسے ہلایا "زینیا"

کوئی حرکت نہیں ہوئی 
اس نے ماتھے پر موجود پریشر پواینٹ پر دباؤ ڈالا 

اس کی آنکھیں پھر ا  پھریں 

ایک سکوں کی سانس جیسے اس کے دل سے خارج ہوئی، 
اس کا مطلب تھا وہ ہلکی سی بے ہوشی میں تھی مگر اس کا برین ڈیمیج نہیں ہوا تھا 
GCSابھی
 معلوم کرنے کے اور مرحلے تھے مگر زندگی  میں پہلی بار  ڈاکٹر عمر کو اپنی صلاحیتوں پر یقین نہیں ہو رہا تھا  اس لیے   اس نے یہ ذمے داری سارا کے حوالے کی اور اور خود پیچھے ہو گیا   

ااتنا پریشان تو وہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا 

 لالہ کو ساتھ لے کر وہ باہر نکل آیا اور ان سے ساری  تفصیل جاننے لگا 

زینیا شاہ سے ایسی ہی کسی بے وقوفی کی امید تھی اسے 

پہلے ہی جذباتی طور پر وہ کم منتشر تھی کہ اب ایک مریضہ کے غم میں اپنی یہ حالت کر لی تھی اس نے 

" بے بی  ہوش میں تو آ جاییں گی نہ عمر صاحب ؟"

لالہ کے لیے وہ اب تک بے بی تھی، جانے کیا سوچ کر وہ مسکرا سیا

" ابھی دیکھیں گے  آپ کیسے ہوش میں واپس لاتے ہیں آپ کی بے بی کو لالہ "

 میں چلے گئے ER وہ ان کا کندھا تھپ تھپا  کر واپس  

======================================


Monday, September 14, 2015

Mirage

And one-day we stop and realize how endless the endeavor could be
If we keep running after mirage.

دھند 22

بارش تیزی سے برس رہی تھی ، گرنے والی بوندیں ایک تواتر سے  گاڑی کی چھت پر کوئی اجنبی سا ساز بجا رہی تھیں 
بجلی کی وقتاً فوقتاً ہونے والی چمک اندھیرے راستے کوئی چند لمحوں کے لیے چمکیلا کر دیتی تھی 

سڑک  پر چکناہٹ تھی، ٹائر جیسے پھسلتے جا رہے تھے ، مگر انہوں  نے ڈرائیونگ جاری رکھی. بہت کوشش کے باوجود وہ اس  توجہ سے گاڑی نہیں چلا پا رہے تھے جس توجہ کا یہ موسم تقاضا کر رہا تھا ، کیوں کہ گاڑی میں پچھلی نشست پر موجود وہ وجود ان کی توجہ بانٹنے کے لیے کافی تھا 

جہاں رشتے اور تعلّق پرانے ہوں، انسیت خود بہ خود جنم لیتی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی جڑیں مضبوط کری   چلی جاتی ہے 

وہ جو اس وقت پچھلی نشست پر نیم بے ہوشی کے سے عالم میں چپ چاپ  پڑی تھی، جسے  اسلام آباد پہنچانا ان کی ذمہ داری تھی ، اس سے انہیں کوئی بے نام سی انسیت تھی 

وہ جو ان کے سامنے کلتے کودتے، ہنستے، روتے، چلّاتے اور شور مچاتے جانے کب ایک ماہر ڈاکٹر بن گئی تھی، اس سے انہیں کوئی جذباتی وابستگی تھی. 
وہ روٹی تو اس کے آنسو ان کے دل پر گرتے تھے 
وہ اداس ہوتی تو ان کا بس نہیں چلتا کہ اسے کسی طرح ہنسا دیں 
وہ ناراض ہوتی ، کسی سے بھی ناراض ہوتی تو اسے منانے کے مختلف بہانے ڈھونستے 
اور جب وہ انہیں لالہ  کہ کر پکارتی تو انہیں اس پر ایک چوٹی بہن کا سا پیار اتا 

اور آج اس حال میں ، اس نیم بے ہوشی کے عالم میں وہ اسے نتھیا گلی سے اسلام آباد لے جاتے ہوے ، اس سرد اور بھیگی  رات میں وہ خود بہت بے چین تھے 

==================================================

کراچی ائیرپورٹ سے جانی والی پرواز حسب معمول تاخیر کا شکار تھی 
ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ایئر لائن والوں کو ہلا کر رکھ دیں 
ان کی بیٹی ان سے کتنی دور تھی اور اس نے کس حال میں وہیں پکارا تھا 
احسن شاہ بخاری نے شاید ہی کبھی اتنی بے بسی محسوس کی ہو. 
وہ بے چینی سے انتظار گاہ میں ٹہل رہے تھے 
گھر میں کوئی ایسا نہ تھا جسے اطلا ع کی جاتی . ہما خود مریضہ تھی، اسے تو یہ بھی یاد نہیں رہتا تھا کہ ان کی ایک بیٹی اور بیٹا بھی تھا 

بیٹے کو فون کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا ، وہ امریکا میں ایک مصروف زندگی گزار رہا تھا، افسوس کے چند الفاظ کہنے کے علاوہ وہ اور کر بھی کیا لیتا 

جو کرنا تھا انہیں ہی کرنا تھا 

انہیں زینیا کا خیال رکھنا تھا ، اسے محبّت دینی تھی ، اس کی بدگمانیوں کو دور کرنا تھا ، اسے اپنی محبّت کا یقین دلانا تھا 

وہ جلد از جلد اسلام آباد پہنچنا  چاہ رہے تھے مگر فلائٹ تاخیر کا شکار تھی 


=====================================================  

وہ کافی عرصے بعد "مونال" آیا تھا 

شیرل نے کافی دنوں سے فرمائش کی ہوئی  تھی مگر وہ وقت ہی نہیں نکل پا رہا تھا  اور اب جب اس کے واپس جانے کے دن قریب تھے اس نے سوچا اسے شیرل کو لے کر مونال ضرور جانا چاہیے 

موسم خوبصورت تھا ،ہلکی ہلکی سی خنکی کے ساتھ بوندا بندی بھی ہو رہی تھی  اور مونال کی اونچائی سے نظر انے والا خوبصورت منظر اور جاذب نظر ہو گیا تھا 

شیرل بہت خوش تھی ، اس کی آنکھوں،  مسکراہٹوں، اور انداز ہر بات میں خوشی نظر  آ رہی تھی 

وہ عمر کی بہت اچھی دوست تھی ، مگر دوست سے کچھ زیادہ ہونے  کے بارے میں وہ ابھی کوئی فیصلہ نہیں کر پایا تھا 

مگر  جب وہ شیرل کو اپنی مجودگی میں یوں کھلکھلاتا ہوا خوش ہوتا دیکھتا تو اسے ڈر لگنے لگتا ، وہ کسی کا دل نہیں توڑنا چاہتا تھا مگر وہ عمر کی اس اسٹیج پر تھا جہاں فیصلے اٹل ہوتے ہیں ان میں بدلاؤ نہیں ہوتا 

وہ ایسی ہی کسی سنجیدہ گفتگو کے لیے موقع ڈھونڈ رہا تھا اور آج اس تنہائی  نے اسے یہ موقع دے دیا تھا 

ابھی وہ لوگ مینو طے کر رہے تھے جب اس کا سیل بج اٹھا 

وہ اگنور کر دیتا اگر اتنا اہم نمبر نہیں ہوتا 

" جی انکل "

"what ؟"

"ایک لمحے کو اسے لگا مونال جس اونچائی پر ہے ، وہ اس اونچائی سے نیچے پھینک دیا گیا ہے

احسن شاہ بخاری اسے یہ بتا رہے تھے کہ زینیا شاہ کو ڈسٹربڈ مینٹل سٹیٹس کے ساتھ اسلام آباد لایا  گیا تھا اور وہ گھر پہنچتے ہی بے ہوش ہو چکی ہی، وہ خود کراچی ائیرپورٹ سے روانہ ہو چکے تھے مگر ابھی انہیں اسلام آباد پہنچنے میں کافی  وقت لگنا تھا 

عمر کی ڈوکترانا ایمرجنسی والی حس چند  لمحوں میں فعال ہوئی اور اس نے لالہ سے رابطہ کر کے انہیں اس ہسپتال پہنچنے کے لیے ہدایات دین جہاں وہ خود ایک کنسلٹنٹ کے طور پر کام کر رہا تھا ، ویسے بھی وہ شہر کا بہترین  ہسپتال تھا، 

 زینیا شاہ کی حسساس طبعیت نے یہ دن بھی دکھانا تھا 

وہ بے حد پریشان تھا اور یہ سب شیرل سے چھپا بھی نہیں تھا 

وہ اس سے معذرت کرتا ہوا اب واپس شہر کی طرف جا رہا تھا 

وہ  عمر کی ساری  فیملی کو جانتی تھی، اسے یہ نہیں معلوم تھا کہ یہ فیملی اور اہم لوگوں میں  نیا اضافہ  کس کا تھا 

وہ چپ چاپ خاموشی سے ، پریشان چہرے والے عمر کو ڈرائیونگ کرتے دیکھتی رہی.

=====================================











Saturday, September 12, 2015

Just happens

I don't have to find a reason to look for you
It just happens
Any day
Any time
Any where

Thursday, September 10, 2015

Glimps

After running fast throughout
in the moments of resting night
when a tired day stops
for a breath or two
all it needs to catch
a glimpse of you!

Tuesday, September 8, 2015

Come home

Come home
for those who are waiting
turn around
for times are changing
look back
for moments are melting
see how
the stars are waiting
still yet
the miles are prevailing
even then
the dreams are enthralling
that too
as love becomes longing.

Over the limits

Sometimes the tiredness drains us out  and makes us wonder
If death would be a peaceful option?

Monday, September 7, 2015

Haunting

It's not only words that haunt.
It's not only a voice, a poem,  a story,  a book,  a movie,  a memory that follow you.
Sometimes there are moments,  tender,  intense,  intimate,  enchanting,  revealing moments that haunt you the most.
The moments which never have happened.
The moments which will happen one day. 

Sunday, September 6, 2015

بن کہے سنو

Some words haunt. They follow you until you settle down to them. For me this settling down is writing them and feeling them over and over again.

As today I write them, I hope they will stop haunting me!





بن کہے سنو     او یاراں  

ہم نے تو یونہی  دل  ہارا 


جی کے نہ مل پاتے  تو 
مر کے تجھے پا لیں گے  

چھو کر دیکھوں تو دل کو 
ہو یقین یاراں  

آنکھوں میں تیری کھونے کی 
تیرے قریب   ہونے کی 

ہونے لگی عادت مجھے
 تجھ پر فدا ہونے کی 


ایسا  نشہ آنکھوں میں تھا 
ہاے مدہوش ہم ہوے 
 تجھے چھو   لیں بن چھوے
پیاس بجھے بن پئے 

تجھ کو پلکوں پر رکھ لوں 
او یاراں

بن کہے سنو     او یاراں 

تو یہ کیوں کہے ہم نشین 
کوئی قربت  ہی نہیں 
میں یہ کہوں  عشق ہے 
چھو لے ذرا دل کی زمین 


لکھا ہے  جو دل پے میرے 
آ جا وہ دکھاؤں تجھے 
تیرا ہوں میں تیرا ہی ہوں 
 اتنا بتا دوں  تجھے 
دل میں اگر ہو اجازت 
چھپا لوں تجھے 

بن کہے سنو     او یاراں  




  

Defense Day 2015

See what happens when the motherland becomes a stranger to her own children

See what happens when the solidarity of our homeland is at stake

See an owner of a land, property, house, shop, school, hospital becomes a refugee!

See No body owns us, they leave us and our children to die unknowingly in the deep waves

and yet the waves do not own us and they repel us out to the strange shores.

See how important is the solidarity of our country is

See how and why we should value our freedom!

See why we should be thankful that we live in a free land!

جب تک ہے یہ دنیا باقی ہم دیکھیں آزاد تجھے

Saturday, September 5, 2015

Power of love

And that moment when a loved one from distant land calls you because they saw a dream which revealed a stressful and worried you!
The frequencies and energies reach out beyond distances!

Events like these deepens my faith in the power of love.
And I'm thankful for being loved. 

Wednesday, September 2, 2015

Not the same

It isn't same
Smelling a flower and
Watching from afar 
It isn't same
Flowing in stream and
Reading about its beauty
It isn't same
Calling your name and
Conversing in dreams

Tuesday, September 1, 2015

Heart-callings

There is so much noise outside, in the surroundings, in neighborhood, in the voice of the bosses , how children play in evening, how birds chirp at dawn, so much noise that it is almost sufficiently enough to shut my inner voice.

Many days have gone by, I haven't heard my heart-callings.




Small things

Sometimes some apparently strong people also need a break to re-energize and a circle of arms around them for ultimate comfort.

Sometimes a little reassurance is what one requires to carry on.

As Rumi once said

Just a glance or merely a gesture of beloved is needed for life to move on.