Featured Post

Something else

No its not writer's block Its something else Just wondering why am I not writing much these days!

Thursday, March 31, 2016

دھند 27

تھکن سے نڈھال جب وہ گھر میں داخل ہوے تو انہیں یہاں کی خاموشی ہمیشہ سے کہیں زیادہ محسوس ہوئی . داور  اور ہنی کی کمی  کا احساس شدید ہو گیا ، انہیں کسی سہارے کی ضرورت تھی، کسی سے حال دل کہنے کی حاجت تھی، کتنا تلخ سچ ہے یہ کہ انسان چاہیے کتنا بھی مضبوط ہو ، کتنا ہی با اختیار ہو ، اسے سہارے کی ضرورت  پھر بھی ہوتی ہے ، اسے کسی ہمراز کی، کسی ساتھی  کی ضرورت پھر بھی ہوتی ہے 

کمرے  میں آے  تو منظر وہ نہیں تھا ، جس کی انہیں امید تھی. وہ خلاف توقع  جاگ رہی تھی ، اور یوں تیار تھی جیسے ابھی کسی  پارٹی میں جانے کا وقت  ہو رہا ہو.. نیلی ساری  میں فیروزے کے ایررنگز  پہنے ، اور بہت مہارت سے  میک اپ کیے ، وہ آج بھی اتنی ہی حسین تھی کہ چند لمحوں کے لیے احسن شاہ بخاری یہ بھول گئے کہ وہ بیمار تھی.

"تم آ گئے؟ ، میں کب سے تمہارا انتظار کر رہی تھی " وہ قریب آ کر کہنے لگی/

"سارا ، ہماری بےبی  ہسپتال میں ہے " اسے شانوں سے تھام کر جیسے وہ حوصلہ کھونے لگے "

"ہماری بے بی ؟" وہ اجنبی سے احساس کے ساتھ ینہیں دیکھنے لگی "
"ہاں ہماری ہنی ، ہماری زینیا ."
"ہنی؟ یہ کون ہی؟ میں اس نام کی کسی لڑکی کو نہیں جانتی. پھر کوئی نئی دوست بنا لی تم نے؟"

"احسن شاہ نے آنکھیں میچ کر اپنے دکھ کو بیہ جانے سے روکا ، نہیں یہ صرف ایک واہمہ تھا کہ وہ ٹھیک ہو گئی ہے "

" اچھا تم اب سو جاؤ ، میں بھی تھک چکا ہوں" ان کی آواز جیسے کسی کنوئیں سے آتی محسوس ہوئی."

"نہیں، ہمیں تو پارٹی میں جانا تھا نہ ، میں کب سے تمہارا انتظار کر رہی تھی، تم نہیں سو گے، تم میرے ساتھ چلو گے" وہ ضد  کرنے لگی 
اسی لمحے ان کا سیل فون شور مچانے لگا 
"داور " کا  نام دیکھ کر وہ بےچینی اور سکون  کی کسی درمیانی کیفیت میں چلے گئے . 
وہاں وہ شکوہ کناں تھا کہ اسے خبر کیوں نہیں کی گئی  اور وہ ہنی کی طبیت پوچھتے ہوے بے قرار تھا . اور ایسا پہلی بار تھا کہ احسن شاہ بخاری نے اسے فوری طور پر پاکستان آنے کو کہا ہو ، ورنہ وہ ہمیشہ اس کی  مصروفیت کو فوقیت دیا کرتے تھے 

"کون تھا فون پر؟" وہ پوچھنے لگی، احسن شاہ کو پھر پرانے زمانے یاد آنے لگے، جب وہ یونہی ان پر شک کیا کرتی تھی ، اور تب انہیں سخت غصّہ آیا کرتا تھا ، اور اب اس کا پوچھنا بھی نعمت لگتا تھا، ایسا لگتا تھا کہ وہ صحت مندی کی جانب لوٹ رہی ہو، شاید وہ سب کچھ جو وہ بھولتی جا رہی تھی، وہ اسے یاد آ جاے ، شاید وہ وہی سارا بن جاے جس سے انہوں نے عشق  کیا تھا جو ان دو خوبصورت بچوں کی ماں تھی، جو اب اپنے بچوں کو بھی بھولتی جاتی تھی 

سگریٹ سلگا کر کھڑکی کے پاس کھڑے وہ بہت بے قرار تھے 

کیا نہیں تھا ان کے پاس ، ایک رشک آمیز زندگی، ایک خوبصورت جیوں ساتھ، دو  ہونہار بچے ، دولت، اور نام 

اور کیا تھا ان کے پاس؟ 
سکوں کا کوئی ایک لمحہ، سچی خوشی ، نہ  وہ ساتھ جس سے وہ دل کی بات کہ سکتے، نہ اولاد  کو خوش دیکھنے کا سکھ ، نہ  مکمّل خاندان کا طمانیت بھرا احساس. 
اور اب ان کی جان سے عزیز بیٹی ہسپتال میں بے ہوش پڑی تھی اور وہ اپنا ساری  دولت خرچ کر کے بھی اس کے لیے کچھ نہیں کر پا رہے تھے 

آج یوم حساب تو نہیں تھا 
مگر ان کی روح ان سے حساب مانگ رہی تھی  




Tuesday, March 29, 2016

words are truth

Words are the ultimate truth.

While composing the final draft of my book I found this poem and realized, what I wrote was so true, even though I didn't know it would turn up into a harsh reality.

Yes I ceased to express, all my pain, words and even whispers, for there is a time to reconnect, to show feelings, to endure a bond, once that time is passed, you are still like a sculpture, like the Buddha that  remained silent for years in his gyan. 




Ask me

Ask me, if you wanna know
The reason of my stitched lips
Some words are not for the world
Some whispers are only for the one
Some secrets are read in the eyes
Some pains are reflected in the soul
Ask me, before I cease to express

The pain, the words, the whispers.

Across horizon

Sometimes its only takes a word, an image, a page, a small act, to remind of all those moments which are lost in the extent of horizon.

Existing yet hidden.

Sunday, March 27, 2016

Gestures of kindness.

It's so difficult to make people happy, well happy is a large word. Its rather very difficult to make people go quiet.

Wasting so many efforts on them is unfruitful. this makes me think, why not make smaller efforts to make the Creator happy?

The small gesture of kindness, the small helping efforts towards humanity, the wiping of someones tears and make them smile, to give away small sum of money, these are all little gestures of kindness. No they will not make our fellow humans happy, but they have strong potential to make the Creator happy.

And in the end, this will all count.


Travel

Its good to be back home after days of forgetfulness and replenishment,

Its good to sleep on your own bed, look into your own mirror and use your own washroom!

The most irritating thing about travelling is that one has to sleep on  different beds and use various washrooms. 

For a neat freak like myself, its something akin to punishment.

But then again, to gain something, one has to bear something!

Monday, March 21, 2016

Catharsis

Travelling is a form of catharsis.
It may let you heal internally.
It may also makes you feel the lost sense of happiness.
It may also lets you forget.
It may also bring 

Saturday, March 19, 2016

تمہیں کیا کہوں

مرے دل مرے مسافر
ہوا پھر سے حکم صادر
کہ وطن بدر ہوں ہم تم
دیں گلی گلی صدائیں
کریں رخ نگر نگر کا
کہ سراغ کوئی پائیں
کسی یار نامہ بر کا
ہر ایک اجنبی سے پوچھیں
جو پتہ تھا اپنے گھر کا
سرِ کوئے نا شنائیاں
ہمیں دن سے رات کرنا
کبھی اِس سے بات کرنا
کبھی اُس سے بات کرنا
تمہیں کیا کہوں کہ کیا ہے
شبِ غم بری بلا ہے
ہمیں یہ بھی تھا غنیمت
جو کوئی شمار ہوتا
ہمیں کیا برا تھا مرنا
اگر ایک بار ہوتا

Thursday, March 17, 2016

Flashback

There is no specific time frame of flashbacks
Specially those we are running away from
They usually hit at odd times,
at unexpected places.

Wednesday, March 16, 2016

This morning wish

Sometimes its so important to keep promises. Promises that are made without words. Promises that are made to your own self. 
Rushing on the fast track of life, we are so engrossed in daily routines and taking care of those who are with us that we forget ourselves. There is a soul which demands care. There is a body which needs rest. So we end up exhausting our energies and eventually the body gives up the struggle to drag on, resulting in physical illness and mental depression.

It was one of the toughest phase of my life that I went through. Since November 2015-March 2016. Just two days ago a last episode of fever has subsided and hopefully the last wave of depression passed my by. This course of mental lows and physical trauma has left me more fragile than I ever was. the reasons behind the scenario were multiple, each of a different magnitude and honestly i do not want to look back. 

All I wish is that those illnesses do not pop up again and do leave me in peace for a long time to come. All I want is my cheery , healthy, energetic self back so that I remain who I always have been. A helpful, generous and kind soul and a cheerful, charming human.









Tuesday, March 15, 2016

دھند 26

کبھی کبھی زندگی بس اک لمحے میں  سمٹ آتی ہے ، ساری کی ساری زندگی 

ایسا ہی ہوا تھا اس کے ساتھ ، وہ اپنا سارا پروفشونلزم بھول بیٹھا تھا  اور صرف اس ایک لمحے کا منتظر تھا جب وہ آنکھیں کھول کر اپنے زندہ   ہونے کا احساس دلاے . مشینوں پر اس کی سانس، دل کی دھڑکن، دماغ کی برقی رو ، سب اس کی زندگی  کی گواہی دے رہی تھیں مگر  اسے کچھ اور درکار تھا،

خاموشی میں گفتگو کرنے والی اس کی آنکھوں کا تکلّم 
اور کسی مجمے میں خاموشی کا فسوں طاری کردینے والی اس کی آواز 

وہ ائی سی یو کی خاموشی میں گونجتی احسن شاہ بخاری کی اسے پکارتی ہوئی آوازیں سنتا رہا   

اور چپ چاپ ساکن  ہو کر  اس کے بستر کے بایں جانب کھڑا اسے دیکھتا رہا 

اور زندگی جیسے اس ایک لمحے میں سمت آئی  تھی . اور وہ لمحہ ٹھہر گیا تھا . 

اس نے  احسن شاہ کو ساتھ لیا اور باہر یخ ہوتے کوریڈور میں لے آیا 

عمر وہ کب جاگے گی ؟، وہ بے بسی سےپوچھ  رہے تھے
"
" میں نے آپ سے کہا نا مجھے کچھ  وقت چاہیے ، اس سے پہلے جب وہ یونہی بے ہوش ہوئی تھی تو کتنا عرصہ لگا تھا "ہوش میں آنے میں؟ 

"آدھا دن "

 پھر اس بار اس سے کافی زیادہ عرصہ درکار ہوگا اسے جاگنے میں ، وہ سونا چاہتی ہے ، آنکھیں بند کر کے خود کو محفوظ تصور کرنے والے لوگوں کے ساتھ ایسے ہی ہوا کرتا ہے، وہ آنکھیں کھول کر دنیا کا سامنا نہیں کرنا چاہتے، جب اس کا ذھن اس بات کے لیے تییار ہوگا وہ تبھی جاگے گی "

اس نے احسن شاہ جیسے مضبوط حواس والے شخص کی آنکھوں میں جب آنسو دیکھے تو اسے ایک بار پھر محبت کی سچائی پر یقین پختہ ہونے لگا . وہ تو چاہنے کے باوجود رو نہیں سکتا تھا ، نہ آج نہ ہی ایسے کسی اور موقۓ پر. کیوں کہ  وہ تو مسیحا تھا اور مسیحا روتے نہیں، آنسو صاف کیا کرتے ہیں 

اس نے پھر اپنے مسیحا ہونے کی ذمداری نبھائی اور اور لالہ کے ساتھ زبردستی انہیں گھر روانہ کیا حالاں کہ وہ وہیں ٹھہرنے پر بضد تھے 
ڈاکٹر عمر نے خاموشی سے فون اٹھایا اور کوئی نمبر ملایا ، میری لینڈ میں اس سمے صبح ہوگی ، وہ  ٹائم زون کا حساب کرنے میں ماہر ہو چکے تھے 

داور کو ساری صورت حال سے اگاہ کرنا ضروری تھا ، عمر کو گمان تھا کہ اسے اب تک کچھ بھی نہیں معلوم ہوگا 

داور اور وہ دونوں کافی اچھے دوست تھے ، بہت قریبی نہ سہی مگر رابطے میں رہنے والے فیملی فرنڈز ضرور تھے  اور اب جب ہنی شاہ یوں بے ہوشی میں مبتلا تھا ایک بھائی ہونے کے ناطے  اس کا با خبر ہونا ضروری تھا 

داور  کے لیے یہ سب ایک شاک تھا ، وہ بے چین ہو گیا ، وہ جانتا تھا ڈیڈ کس کرب سے گزر رہے ہونگے، ایک جانب ماں کی وہ حالت دوسری جانب ہنی کی بے ہوشی ، وہ پاکستان آنے کا ارادہ ظاہر کرنے لگا جب عمر نے اسے کسی مناسب وقت تک ٹھہر جانے کو کہا ، عجیب لمحہ تھا جب کوئی فیصلہ ٹھیک سے نہیں ہو پا رہا تھا 

کچھ لمحے بہت عجیب ہوتے ہیں 




Friday, March 11, 2016

Two sides

Its love that keeps you going
through thick and thin
Its also love that halts
your movement
your breaths
your life

Wednesday, March 9, 2016

دھند 25

 اس نے امریکا  میں موجود ساتھی ڈاکٹروں  سے رابطہ کر کے انہیں زینیا شاہ کی مجودہ صورت حال سے آ گاہ کر  دیا تھا 
. چونکہ وہ وزیٹنگ فیکلٹی کے طور پر  وہاں کے  ہسپتال سے  منسلک تھا اس کے لیے یہ سب کرنا مشکل نہ  تھا 

مشکل  تو یہ تھا کہ وہ ہوش میں نہیں آ رہی تھی ، شاید آنا نہیں چاہ رہی تھی 

    احسن شاہ بخاری کو کسی بھی وقت ہسپتال میں پہنچ جانا تھا اور وہ نہیں چاہ رہا تھا کہ وہ اسے اس حال میں دیکھیں 
لیکن چاہنے سے ہر نہ ممکن ، ممکن تو نہیں ہو جایا کرتا 

وہ اب بھی اس کے سرہانے کھڑا تھا  اور سوچوں میں غلطاں تھا 

وہ کوئی اجنبی تھی جس کے چہرے پر بکھری ہوئی زردی میں اسے موت  جھلکتی دکھائی دے رہی تھی 
 وہ کوئی اپنی تھی جسے زندگی کے کینوس پر رنگوں کی طرح کھلتا ہوا دیکھنا چاہتا تھا وہ.

---------------------------------------------------------------------------------

نرسنگ کاونٹر پر ایک کھلبلی سی مچی ہوئی تھی 

ڈاکٹر عمر کے ذاتی مریض  پہلے بھی کئی بار اس وارڈ  میں   آتے رہے تھے ، مگر  خود انکو اس طرح پریشان  اور گم سم کسی نے نہیں دیکھا تھا 

"میں نے اس مریض کو کہیں دیکھا ہے " ایک نرس نے کہا " شاید  ٹی  وی  پر ، مجھے لگتا ہے یہ کوئی ماڈل ہے 

"تمھیں تو ہر خوبصورت لڑکی ماڈل  ہی لگتی ہے .رہنے بھی دو " اس کی ساتھی  نے کہا

لیکن اہم بات تو یہ ہے کہ ڈاکٹر عمر کو اس سے پہلے اتنا پریشان نہیں دیکھا میں نے. مجھے تو کچھ اور ہی معاملہ لگتا ہے "

" مگر سیمی نے تو کہا تھا کہ ڈاکٹر عمر کی بیگم امریکن ہیں. " 

"ووہی تو نہیں جو کچھ دیر پہلے یہاں موجود تھیں؟"

"ہاں وہی "

وارڈ بونے نے آ کر انہیں خاموش ہونے کا اشارہ کیا کہ سامنے سے آتے ہوے ڈاکٹر عمر کو اس نے دیکھ لیا تھا 

انہوں نے دیکھا ڈاکٹر عمر  پاس سے گزر کر کوریڈور میں آگے کو  نکل گئے تھے 

احسن شاہ بخاری نی عمر کو اتے دیکھا تو ان کی رہی سہی ہمّت جواب دینے لگی " کیسی ہے  وہ عمر؟"
"ابھی ہوش میں نہی ہے " عمر نے ان کے کندھے کے گرد بازو حمائل  کیے 

"کیا وہ کوما میں ہے؟"

"   GCS   نہیں اس کا   
 بہتر ہے . ہم اسے کوما نہیں کہ سکتے. یہ بیہوشی ہی صدمے کی وجہ سے. ، وہ جاگ جاتے گی، آپ صبر کریں "

کب تک؟" مجھے وقت بتاؤ عمر ، اگر باہر جانا ہے تو کہو میں امریکا لے جاتا ہوں اسے 

" مجھے چوبیس گھنٹے چاہیے ، اس کے بعد ہی میں کچھ کہ سکون گا . امریکا کے دوستوں سے رابطے میں ہوں، اگر وہاں لے جانے کی ضرورت ہوئی تو میں خود لے جاؤں  گا ، آپ مجھ پر عتماد کر سکتے ہیں انکل " وہ بہت تحمل سے گفتگو کر رہا تھا ، اپنے اندر ہونے والی جنگ سے تو صرف وہ ہی واقف تھا 

مجھے لے چلو اس کے پاس ، رندھی ہوئی آواز میں وہ کہنے لگے، عمر نے نظر پھیر لی، وہ ایک باپ کی آنکھوں میں اے آنسو نہیں دیکھ سکتا تھا 

وہ باپ جو اپنی بیٹی سے شدید محبّت کرتا تھا ، جو اس کی کوئی بات نہیں جھٹلاتا تھا ، جو اس کی ضد  میں اس کی جدائی بھی خاموشی سے سہ رہا تھا 

"میں لے چلتا ہوں آپ کو ، صرف یہ بتا دیں کیا اس سے پہلے کبھی کوئی ایسی بات ہوئی ہے جس  کی وجہ سے وہ بے ہوش ہوئی ہو؟"

"ہاں تین سال پہلے ایسا ہوا تھا ، وہ بہت دیر تک ہوش  میں نہی آئی تھی "

کیا ہوا تھا تین سال پہلے؟" عمر نے پچا 

"her breakup with Ali"  وہ سر جھکا کر بولے تھے 

ایک لمحہ تھا صرف جب عمر کو محسوس ہوا تھا اس کی سانس کہیں غائب ہوئی تھی ، یا کسی نے اس کا دل مسلا  تھا 
اور پھر وہ احسن انکل کا بازو تھامے انہیں ائی سی یو لے جانے لگا 














Monday, March 7, 2016

On a lovely morning

On a beautiful cloudy pleasant Karachi morning, just wondering how these verses match the mood and feelings.


تیرے آنے کا دھوکا سا رہا ہے
دیا سا رات بھر جلتا رہا ہے

عجب ہے رات سے آنکھوں کا عالم
یہ دریا رات بھر چڑھتا رہا ہے

سنا ہے رات بھر برسا ہے بادل
مگر وہ شہر جو پیاسا رہا ہے

وہ کوئی دوست تھا اچھے دنوں کا
جو پچھلی رات سے یاد آ رہا ہے

کسے ڈھونڈو گے ان گلیوں میں ناصر
چلو اب گھر چلیں، دن جا رہا ہے


ناصر کاظمی

Sunday, March 6, 2016

Those stories

Some stories have unexpected endings
Neither happy nor sad
Simply unexpected. 

Saturday, March 5, 2016

Timetable

I didn't discover until now
Leading a plain, timetable life
is not a bad idea either!

Thursday, March 3, 2016

وہ ایک لمحہ

عجیب رت تھی 
کسی تشنگی کے بوجھ سے نڈھال 
تھکی ہوئی سی رت تھی 
جہاں  خیال اور گمان کی فصیل پر 
میں ڈھونڈتی پھری 
وہ ایک لمحہ 
جو ہاتھ سے گر کر 
کھو گیا تھا 
نم متی میں 
جذب ہو گیا تھا 



Tuesday, March 1, 2016