Featured Post

Something else

No its not writer's block Its something else Just wondering why am I not writing much these days!

Thursday, April 28, 2016

دھند 32

ہسپتال کے کیفے ٹیریا میں بیٹھے وہ تینوں کھوے ہوے سرے ڈھونڈ رہے تھے ، ڈونٹس اس کی ماما  کو بہت پسند تھے  اور اس وقت داور بصد اصرار انہیں ڈونٹس کھلا رہا تھا ، پھر بھی اسے یہ  تکون اچھی نہیں لگ رہی تھی ، جس کی کمی تھی وہ کتنی نزدیک تھی ، اور کتنی دور

وہ کوفی لینے کے لیے نزدیکی کاؤنٹر تک گیا تھا، تب اس نے ماما  کو کہتے سنا تھا
" شاہ ، یہ لڑکا کتنا تہذیب یافتہ ہے ، مجھے ایسے لگ رہا ہے جیسے میں اسے بہت عرصے سے جانتی ہوں  "

داور  کے کانوں تک ان کی آواز با خوبی پہنچ رہی تھی ، گو کہ وہ ان کی اس بیماری کی سب کیفیات  سے واقف تھا مگر پھر بھی درد کی کوئی لہر تھی جس نے اس بار بھی سر اٹھایا تھا ، وہ اس کی ماں تھی اور اسی سے غافل  بھی ، کس قدر ظلم تھا  Alzheimer's disease  ، وہ دل ہی دل میں اس بیماری کو کوسنے لگا
سے کی اذیت سے  گزرنے والے  مریضوں میں ایک نام اس کی ماں کا بھی تھا ، اور میڈیکل سائنس  کبھی کبھی  جس بے بسی سے گزرتی ہے اس میں اس بیماری کا نام سر فہرست تھا

ہسپتال کے اندروں کی طرف واپسی کے سفر میں باتیں کرتے کرتے انہیں احساس نہی ہو سکا تھا ک کتنا وقت بیت چکا ہے 

رات  کافی سے  زیادہ بیت  چکی تھی  ، وہ اپنے والدین کو انتظار گاہ میں چھوڑ کر آئ  سی یو کی جانب جا رہا تھا جب  اس کے فون پر وہ کال  آئی جس نے اسے کچھ حیران کیا ، وہ  ڈاکٹر عمر کی کال تھی 

"داور  تم کہاں ہو ؟"
"ہسپتال میں ، اور کہاں  ، مگر تم اب تک کیوں جاگ رہے ہو عمر، تمہیں آرام کرنا چاہیے "

"میں سو رہا تھا ، ابھی چند لمحوں پہلے سٹاف اگنس کی کال آئی، زینیا نے کچھ موومنٹ کی  ہے ، وہ تم کو دیکھنے کے لیے وارڈ  تک ہو آئی تم اسے ملے ہی نہیں. تمھیں زینیا  کے پاس ہونا چاہیے داور " 

عمر کے لہجے میں اتنی خفگی تھی کہ داور  کی سماعتوں  سے چھپی نہ رہ سکی 
"اوہ  عمر میں تو صرف کیفے ٹیریا تک گیا تھا ماما  اور ڈیڈ  کو لے کر " کیا اس کا مطلب ہے  کہ وہ ہوش میں آ رہی ہے ؟"

ہاں یہ  ممکن ہے ، پلیز تم اس کے پاس جاؤ ، میں بس آ رہا ہوں " 

"عمر تم آرام کر لو یار ، کوئی ایمرجنسی ہوئی تو پھر آ جانا ، ، تمھیں آرام کی ضرورت ہے  "

تم ایک ڈاکٹر کو نہیں بتا سکتے کہ  اس وقت کیا اہم ہے. پلیز اس کے ساتھ رہو ، اس موقع  پر اس کے پاس رہو، میں پہنچ رہا ہوں "
داور  تیزی سے آئی سی یو کی جانب چل دیا ، سٹاف اگنس  ڈاکٹر عمر  کی ہدایت پر وہیں موجود تھیں 
اس نے غور سے زینیا کی جانب دیکھا، بظاھر اس کی کیفیت میں کوئی تبدیلی نہیں تھی، وہ ویسے ہی ساکن  لیٹی  ہوو تھی جیسے ایک گھنٹہ پہلے تھی 
اسٹاف اگنس نے آنکھوں سے کوئی امید افزا اشارہ دیا، شاید اس نے داور  کے چہرے پر چھانے  والی نہ امیدی دیکھ لی تھی 
انہوں نے  داور  کے نزدیک آ کر بہت دھیمے سے لہجے میں اسے  اچھے وقت کی امید دلائی ، اس نے ہولے سے اثبات  میں سر ہلا دیا لیکن صرف اگلے ہی لمحے نے اس کی توجہ  کھینچ لی ، جیسے  کسی مریض نے کوئی سسکی لی ہو ، وہ مڑ  کر ساتھ والے مریض کو دیکھنے لگا جو کافی فاصلے پر موجود تھا ،  اور اس کے بلکل اگلے ہی لمحے میں اسے احساس ہوا کہ یہ آواز تو زینیا کی جانب سے آئی تھی، تیزی سے وہ دونوں اس کی جانب بڑھے 

"ہنی  کیا تم مجھے سن رہی ہو؟" وہ اس کا ہاتھ تھامتے ہوے کہنے لگا 

"پھر جیسے  زینیا کے لبوں سے ایک اور سسکی بلند ہوئی "  داور  نے سٹاف اگنس کی جانب دیکھا 

"اسٹاف پلیز چیک کریں یہ سانس تو ٹھیک سے لے رہی ہیں نان "

اسٹاف اگنس نے اس کو تسلی دی، کہ  سب ٹھیک ہے، اور یہ کہ داور  کو اسے پھر سے پکارنا  چاہیے 
وہ ہنی سے یونہی بات کرنے لگا جیسے بچپن سے کرتا آیا تھا ، انگریزی میں وہ اسے بلاٹی ہوے کہنے لگا 

"ہنی ، مجھے پتا ہے  تم ٹھیک ہو، اور صرف سو رہی ہو، اورکتنا  سوو گی یار ، اب جاگ جاؤ  دیکھو میں کتنے عرصے بعد صرف تم سے ملنے کے لیے یہاں آیا ہوں |

اسے شک سا ہوا تھا شاید، ہنی شاہ کی آنکھیں پھر پھرآ  ئیں تھیں 
ہنی، اپنے بھائی  سے باتیں نہیں کرو گی، کتنے دن ہو گئے یار ہم نے گوسسپس نہیں کیں ، اب جاگ بھی جو نان "

مگر دوسری طرف پھر سے خاموشی تھی 

وہ ہمّت ہارنے  لگا 

اسٹاف اگنس اس کا کندھا تھپتھپا کر خاموشی سے کسی اور مریض کی جانب بڑھ گئیں ، وہ اب وہاں اکیلا تھا ، وہ تھی، پر نہیں تھی 
جانے کتنا سمے بیتا ، وہ وہیں بیڈ  کے کنارے پر ٹکا  بیٹھا تھا م جب کسی نے پیچھے سے آ کر  اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا 

وہ عمر تھا 

داور  نے پریشانی سے اس کی جانب دیکھا 
عمر اتنی دیر میں زینیا کے جسم سے لگی مشینوں کی ریڈ نگس پڑھنے لگا 
اسے نے دھیرے سے اس کے خوب صورت  بالوں والے سر پر ہاتھ رکھا ، پھر اس کی انگلیوں نے اس کی پیشانی کو چھوا 
اس کی بھنووں کے درمیان میں پہنچ کر اس کی انگلیوں نے وہاں دباؤ بڑھایا 
اسی لمحے  زینیا کے لبوں سے ایک سسکی برآمد ہوئی اور اس کی پلکوں میں کوئی جنبش ہوئی 
عمر کی آنکھوں میں کوئی چمک بیدار ہوئی، اس نے داور  کو آگے آ کر اسے پکارنے کا اشارہ کیا 
اور وہ اسے بے اختیار پکارتا چلا گیا 

اور جیسے ہنی شاہ کی روح نےاپنا  پکارا جانا سن لیا تھا ، اک بے یقینی کی کیفیت میں آنکھیں کھول کر اس نے ہوش کی اس دنیا میں قدم رکھا تھا ، اور  سب سے پہلے اس نے اپنے سامنے کھڑے  داور  کو دیکھا تھا ، جو اس کا ہاتھ تھامے  اسی کی جانب دیکھ رہا تھا 

"ہنی دیکھو میں تمہارے لیے لوٹ آیا ہوں اور تم کب سے سوئی   پڑی  ہو، اٹھ جاؤ  یار 

اور  ہنی شاہ کی سسکیاں کچھ اور بلند ہونے  لگیں، وہ رو رہی تھی ، اسے جسمانی درد نہیں تھا، اس کی روح زخمی تھی ، اور داور  کو دیکھ کر  اسے کیا کچھ نہیں یاد آیا تھا 

اور داور  اسے روتا دیکھ کر پریشن ہو اٹھا تھا ، اس نے عمر کی جانب دیکھا ، مگر اس کے چہرے پر تو طمانیت پھیلی ہوئی تھی ، اس کی امید بر آئ  تھی ، زینیا شاہ ہوش میں آ چکی تھی 

چند لمحے روتے ہوے گزرنے کے بعد  زینیا نے دوسری جانب دیکھا تھا ، وہاں اس کا مسیحا کھڑا تھا، اس کی آنکھوں سے آنسو مزید تیزی سے بہنے لگے تھے 

==============================





Wednesday, April 27, 2016

Kon aney wala hy

ہر چمکتی قربت میں اک فاصلہ دیکھوں 
کون انے والا ہے کس کا راستہ دیکھوں 

شام کا دھندہلکا ہے یا اداس مامتا  ہے 
بھولی بسری یادوں سے پھوٹ تی دعا  دیکھوں 

لہر لہر پانی میں ڈوبتا   ہوا سورج 
کون مجھ میں در آیا اٹھ کے آئینہ  دیکھوں 

لہلہاتے موسم میں تیرا ذکر شادابی 
شاخ شاخ پہ  تیرے نام کو ہرا  دیکھوں


ندا فاضلی 



Tuesday, April 26, 2016

دھند 31

ہسپتال سے گھر تک کے فاصلے میں اسے اتنا وقت مل گیا کہ وہ اپنے سیل فون  پر موجود  غیر جوابدہ کال کا جواب دے سکے  
امی اور بابا کو فون پر زینیا کی تازہ ترین صورت حال سے مطلع کرنے کی بعد  وہ انہیں اپنے گھر جانے کے  بارے میں بتانے لگا، اسے چند گھنٹوں کی نیند کی شدید ضرورت تھی تا کہ وہ جلد از جلد تازہ دم  ہو سکے ، ویسے بھی اس کے والدین خود زینیا شاہ کی عیادت  کے لیے ہسپتال جانے والے تھے 

شیرل  کی کافی ساری  فون کالز  کا اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا ،  وہ عمو ما  اتنے فون کالز نہیں کیا کرتی تھی،، کیوں کہ وہ جانتی تھی کہ عمر کو یوں تنگ کیے  جانا بلکل نہ پسند ہے  ، مگر شاید اس بار صورت حال مختلف تھی، اور یہ اس کی ڈھیر  سری کالز دیکھ کر ہی اسے اندازہ ہو گیا تھا ، وہ اس شہر میں اس کی ذاتی مہمان ہی نہیں اس کی سب سے پرانی اور عزیز دوست بھی تھی ، یہ تو حالات  کچھ ایسا رخ اختیار کر گئے تھے کہ وہ اسے وقت نہیں دے پا رہا تھا 

وہ  بہت سنجیدگی سے عمر کے بارے میں فکرمند تھی  جب اسے یہ علم ہوا کے وہ دو دن بعد  ابھی گھر جا رہا تھا
 اور خاص طور ور یہ جان کر ک وہ ان اڑتالیس گھنٹوں میں بلکل نہیں سویا تھا 

"اور کھانا؟ کھانا کب کھایا تم نے؟" وہ پھر سے پرانی والی شیرل بن چکی تھی 

" مجھے بھوک نہیں ہے، میں صرف سونا چاہتا ہوں ، کھانا اٹھ کر کھا لوں گا "

" اور کب بناؤ گے  کھانا؟ اتنی ہمّت ہے  تم میں\؟"

"میں آرڈر کر دوں گا ، تم فکر نہ کرو "

"اگر تم برا  نہ مانو تو  ،میں تمہارے گھر آ جا وں ، تم سو لینا تب  تک میں کھانا بنا لوں گی "

کوئی اور موقع ہوتا تو  عمر کبھی انکار نہ کرتا ،  اور ایسا پہلی بار نہیں تھا کہ انہوں نے ایک دوسرے کی گھر پر وقت نہ   گزارا ہو،  مگر نہ جانے کیوں عمر کو اب تنہائی میں شیرل کے ساتھ  کا سوچ کر بھی الجھن ہو رہی تھی اور وہ غلط نہیں کر رہا تھا  اگر اپنی تھکاوٹ اور نیند کی کمی کو اس کا ذمہ دار سمجھ رہا تھا 
سو اس نے بڑی  سہولت سے اسے انکار کر دیا ، مگر  کھانا کھا کر سونے کا وعدہ  عمر کو کرنا ہی پڑا 

===================================

داور  نے اپنے والدین کو اکٹھے ہسپتال کے اندر داخل ہوتے دیکھا، اور ایسےلمحے  کئی  سالوں سے اس کی زندگی میں 
نہیں اے تھے ، اس کے باپ نے بھینچ کر اسے سینے سے لگایا اور اس کا ماتھا  چوما تو ان کی آنکھوں میں چمکتے آنسو اسے بہت واضح دکھائی دیے ، کتنی بے بسی تھی کہ وہ دونوں ایک دوسرے سے اپنے آنسو چھپا رہے تھے 

اس کی ماں خاموش کھڑی اسے تکتی رہی، شاید اس کی یادداشت میں یہ والا داور  اپنا وجود نہیں رکھتا تھا، وہ خود آگے بڑھ کر انہیں پیار کرنے لگا، وہ تو انہیں نہیں بھولا تھا، کیا تھا اگر کسی بیماری نے اس کی ماں کی یادیں بھلا دی تھیں 

وہ تینوں مل کر ای سی یو کی جانب بڑھنے لگے چوں کہ وہاں ایک وقت میں ایک ہی فرد کے جانے کی اجازت تھی  اس لیے پہلے احسن شاہ بخاری اندر چلے گئے وہ ماں کے ساتھ باہر کھڑا شیشے کی دیوار کے اس پار بے خود سوئی  ہنی شاہ کو دیکھتا رہا 

کتنے دنوں بعد آج وہ  ایک خاندان کے طور پر اکٹھے ہوے تھے  مگر یوں کہ وہ جو سب ہی کی عزیز از جان تھی وہی بے خبر تھی ، ایک لمحے کو داور  کا جی چاہا کہ اسے جھنجھوڑ کر اٹھا  دے اور کہے دیکھو ہم سب یہیں ہیں ،دیکھو ہم سب تم سے اب بھی ویسی ہی محبّت کرتے ہیں ، آؤ ، واپس لوٹ آؤ 

جانے والوں کا لوٹنا  اتنا آسان نہیں ہوتا ، مگر  صبر اور یقین دو ایسی قوتیں  ہیں جو  گم شدہ لوگوں کو اپنوں تک واپس لے آتی ہیں 
اور داور  نے اسی یقین کے ساتھ ای سی یو  کی اس مقفل دنیا میں قدم رکھا تھا 

=============================







Monday, April 25, 2016

دھند 30

اس کے آفس میں کمپیوٹر کی بڑی  سکرین پر جونز ہوپکنز ہسپتال کی مورننگ میٹنگ کا منظر وڈیو کونفرنسنگ کے ذریے  دکھائی دے رہا تھا   جونز ہوپکنز ، جو بالٹی مور ، امریکا کی ایک مشہور یونیورسٹی ہے، اور جس کے ساتھ ڈاکٹر عمر حیات وزیٹنگ فیکلٹی کے طور پر کافی عرصے سے منسلک بھی تھا. کی اس  با قا عد گی سے ہونے والی  اس میٹنگ میں نیورولوجی  کے وارڈ  سے متعلق  سارے ڈاکٹر حضرات  اکٹھے ہوتے تھے ، عمر حیات کے تجویز پر آج وہاں ڈاکٹر زینیا شاہ کا کیس زیر بحث تھا. وڈیو کونفرنسنگ کے ذریے  عمر  اس میٹنگ  میں شامل ہوے تھے، پہلے انہوں نے کیس پرزنتشن  دی اور اس کے بعد سینئراور  ماہر نیورولاجسٹ اپنے سے کم تجربہ کار ڈاکٹروں سے اس بےہوشی  کی ممکنہ  وجوہات اور  اس کے ہونے والے علاج کے   اقدامات کے بارےمیں استفسار کرنے لگے ، گو کہ یہ  مورننگ میٹنگز کا معمول تھا اور عمر حیات اکثر ان میٹنگز میں پاکستان میں ہوتے ہوے بھی شرکت کرتا رہتا تھا مگر اس وقت اسے صرف اس بات میں دلچسپی تھی  کہ یہ ماہر ڈاکٹر حضرا ت مل جل کر کسی ایسے نتیجے پر پہنچ سکیں جہاں سے زینیا کے ہوش میں انے کی کوئی سبیل بن سکے 

"اس کے آفس کے با ہر "پریشان نہ کیا جاے "   کا بورڈ چسپاں تھا ، اور اس کا اسٹاف جانتا تھا کہ کسی شدید ایمرجنسی کے علاوہ اس وقت ڈاکٹر عمر کو بلایا نہیں جا سکتا .

اس کا  ذہن  جیسے کہر  آلودہ تھا. گویا کسی گہری دھند میں لپٹا ہوا کوئی حسین منظر ، جو سامنے ہوتے ہوے بھی آنکھوں سے اوجھل ہو رہا ہو. ویسے ہی تشخیص کا کوئی سرا  تھا جو ڈاکٹر عمر حیات کے ہاتھ نہیں آ رہا  تھا 

میٹنگ کے اختتام پر وہ لوگ جن نتائج پر پنہچے تھے ان میں سے ایک انتظار بھی تھا . اور یہی سب سے مشکل مرحلہ تھا ، کیوں کہ ایک طرف زینیا کی فیملی تھی جنہیں سنبھا لنا تھا اور دوسری جانب اپنے اندر جاری جذباتی جنگ تھی جس نے ایک بلکل نیا محاذ کھولا ہوا تھا 

وہ سر تھامے بیٹھے ہوے سوچوں میں گم  تھا جب سیل فون  کی ویبرشن محسوس ہوئی. کوئی اور ہوتا تو شاید وہ پرواہ نہ کرتے مگر  وہ داور  تھا جو بڑی  افرا تفری میں بالٹی مور سے نکلا تھا . وہ اسلام آباد ائرپورٹ  سے مخاطب تھا اور  اپنی آمد کی خبر دینے اور زینیا کی طبعیت  کے بارے میں استفسار کر رہا تھا . گو کہ عمر حیات کے پاس کوئی اچھی خبر تو نہیں تھا مگر امید تو تھی اور اس نے داور تک وہی امید پنہچا دی 

ہسپتال  پہنے میں اسے زیادہ سمے نہیں لگا تھا ، زینیا کو بےہوشی  سے جگانے کے لیے اس نے چند ناکام کوششیں کیں  مگر پھر دل گرفتہ سا ہو کر پیچھے ہو کر خاموشی سے اسے تکنے لگا. کئی  سالوں کا فاصلہ تھا ان دونوں بہن بھائی  کے درمیاں ، جب سے  اس نے داور  کے سمجھانے  کے با وجود الی زبیری کی سنگت نہیں چھوڑی  تھی وہ اس سے بہت باقائدگی سے ناراض ہو چکا تھا ، دونوں کے درمیان ذہنی فاصلے پھر بھی نہیں پیدا ہو پاتے  تھے ، وہ اب بھی اسے اتنی ہی عزیز تھی جتنا  اس رشتے کا تقاضا تھا . افسوس تو اسے اپنے رویے پر ہوتا رہا  کہ اتنے لمبے عرصے کے لیے اس نے اس سے رابطہ منقطع رکھا  اور اب جب  وہ اس چپ کی کیفیت میں نہ جانے کتنے عرصے کے لیے گمشدہ ہو چکی، اب وہ اس سے  کتنی باتیں کرنا چہ رہا تھا 

اپنی آنا  کے زعم  میں ہم کبھی کبھی بہت سا قیمتی سمے  گنوا دیتے ہیں 

عمر حیات کے دفتر میں بیٹھے وہ یہی سوچ رہا تھا جب عمر اندر داخل ہوا . دونوں ایک ہی کیفیت سے گزر رہے تھے، نہ دونوں دو دن سے سوے تھے نہ ہی اپنا  لباس ہی تبدیل کر پے تھے . داور  کے لیے عمر کو یوں اس حال میں دیکھنا کچھ اچھنبے  کی کیفیت میں مبتلا کر گیا ، کیوں کہ عمر حیات کو اس نے ہر حالت میں بڑا مضبوط پایا تھا ، 

"عمر تم کب سے ہسپتال میں ہو؟"  گھر بھی گئے یا نہیں؟

"نہیں کچھ حالات ہی ایسے ہو گئے تھے ، پھر وہاں جونز ہوپکنز میں میٹنگ بھی ارینج کروانی تھی ، جو گھر بیٹھے ہو نہیں سکتا تھا "
"اب چلے  جاؤ ، میں ہوں ب یہاں:

"نہیں میرا خیال ہی تم گھر جا کر انکل آنٹی  سے ملو، میں ابھی یہیں ہوں" کوفی کے گھونٹ بھرتے ہوے اس نے کہا 

"نہیں، ڈیڈ  سے میں یہیں مل لوں گا،  وہ یہیں آ رہے ہیں ، تم نکلو اب، وہ تمہارے لیے بھی بہت پریشان  ہو رہے ہیں "

اور پھر داور  نے زبردستی لالہ  کے ساتھ ڈاکٹر عمر  حیات کو اس کے گھر روانہ کیا  اور زینیا کو دیکھنے ای سی یو کی جانب چل دیا 
===========================================

Thursday, April 21, 2016

پگڈنڈی

وہی موڑ ہے  نا 
دیکھو . جہاں 
چپ چاپ درختوں پر 
سفر بے نام لکھا  تھا 
فصیل نا  آشنائی  تک 
جو پگڈنڈی جاتی تھی 
وہ پلٹ کر بھی تو آتی تھی 
تم نے جب  موڑ کا ٹا  تھا 
زرد پتے  لمحوں کے 
چپ چاپ درختوں سے 
ٹوٹ کر آ گرے  تھے 
فصیل نا آشنائی کے اسطرف  
کبھی جھانکو 
سفر کی شام ابھی  ڈھلی نہیں 
سلگ رہی ہے  
کہ اس کے مچلتے  ساے  میں 
وہ پگڈنڈی یوں ہی  
پلٹ  کر مجھ تک آتی ہے 

Tiny Ray

It was so magical to stay awake then
It is so relieving to sleep now
And amidst those enchanting memories
a tiny ray of wishful thinking burns
which  desires to go back in time

Tuesday, April 19, 2016

Tragedy of creative people

Fascination, dreams and curiosity
May make you
Draw,  write or compose
Quite ordinary or a masterpiece
Whatever it May be
Creativity  needs inspiration,
Fascination and dreams. 

Monday, April 18, 2016

Mild difference

There is a mild difference
in distance and togetherness
The butterflies colored me rainbow
When you stayed near
To see their color,  now
I have to run a mile
When you are not in sight
This is the difference
In distance and togetherness. 

Tuesday, April 12, 2016

Trailing memories

You planned, but did not plan well
the twist in the story where
you had to leave the stage of
this well played drama,
You dropped some memories
right behind your footsteps
If this was the moment where,
your act in the play ended, then
you should have packed well
and should have taken away
all those trailing memories.

Monday, April 11, 2016

It was you

It was so easy to find you then
It's so hard to imagine you now

It was an image that brought us together
It is a dream that made us apart

It was a truth what I saw in your eyes
It is a fact, it was all a lie

It was a connection that ran in our nerves
It is a misery that rushes in the blood

It was you and you alone then
It is I, and I alone , now.




Saturday, April 9, 2016

دھند 29

وہ  بہت خاموشی سے اس کے سرہانے موجود اس کے سانس کے زیر و بم گن رہا تھا ، اس کی بند  آنکھوں کے پیچھے چلنے والے  خوابوں  کے گم شدہ رستے  ڈھونڈ رہا تھا ، جن پگڈنڈیوں پر وہ کھو چکی تھی  وہاں اس کے  نقش پا تلاش رہا تھا 

شب کے ڈھا ئی  بجے اس وقت جب آئی  سی یو کے مریضوں اور اسٹاف میں  کوئی بے چینی نہی تھی ، وہ بہت خاموشی سے زینیا شاہ کے بستر کے کنارے آ کھڑا ہوا تھا، چوبیس سے زیادہ گھنٹے گزر چکے تھے ، وہ ہوش میں نہیں آئ  تھی اور اتنے ہی گھنٹے ہو چکے تھے جب وہ ہسپتال سے گھر نہیں گیا تھا ، وہ اسے یوں چھوڑ کر کیسے جا سکتا تھا 

عمر کو خود پر جتنی حیرت  آج تھی پہلے نہیں ہوئی تھی. وہ اپنے آپ کو کسی بھی قسم کی جذباتیت سے بہت دور پتا تھا ، وہ بہت پریکٹیکل انسان تھا . نرم دل ہونا، ایک اچھا رحم دل ڈاکٹر ہونا کچھ اور تھا ، اور کل سے اس وقت تک زینیا شاہ کی بیماری  سے وجود میں  در انے والی اس کیفیت کا سلسلہ ہی کچھ اور ہی تھا ا 

بعض  لمحے زندگی میں آتے ہی اسی لیے ہیں کہ انسان وہ جان لے جو اب تک نہیں جان پایا تھا 
ڈاکٹر عمر کے لیے یہی لمحہ آگہی کا تھا، وہ وہ جان رہا تھا جس کے ماننے کو جھٹلاتا آ رہا تھا 

اس نے کچھ آگے بڑھ کر اس کی پیشانی پر آ جانے والے بالوں کو دھیرے سے پیچھے کیا 
اس لمحے شدّت سے اس کا جی چاہا  کہ وہ جھٹ سے آنکھیں کھول کر اس سے خوب لڑے ، کہ اس نے یوں اسے چھوا ہی کیوں ، وہ ایسی ہی تھی، محرومیوں  کے ڈسے ہوے لوگ یونہی ہوتے ہیں ، انہیں محبتیں اور شدّتیں ملنے لگیں تو اس پر بھی شک کرنے لگتے ہیں 

ڈاکٹر عمر کے ذہن  پر گزرے کئی برس تیزی سے گزرنے لگے 

ہنی شاہ ، جو احسن انکل کی بیٹی اور اس کے دوست داور کی بہن تھی، جس کا اس نے ہمیشہ ذکر سنا تھا مگر اس سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی کیوں کہ وہ مری  کانونٹ میں پڑھتی تھی اور  گرمیوں یا سردیوں کی تعطیلات میں  وہ ملک سے باہر چلا جایا کرتا تھا 

اس کے ذھن میں ہنی شاہ سے متعلق تجسّس جگانے والی اس کی امی تھیں یا شاید دونوں والدین کیو ن  کہ  وہ اکثر اس کا ذکر بہت مختلف اور خصوصی انداز میں کیا کرتے تھے ، چوں کہ عمر کا میڈیکل میں داخلہ ہو چکا تھا اور  وہ پڑھائی کے سلسلے میں امریکا جا رہا تھا ، وہ اس کی نسبت طے کر دینا چاہتے تھے اور چنی جانے والی لڑکیوں میں ہنی شاہ کا نام سر فہرست تھا 

عمر کے شدید احتجاج پر یہ معاملہ موخر کر دیا گیا تھا مگر اس کے ذھن میں ہنی شاہ سے متعلق  ایک بیج بو دیا گیا تھا ،  جس کی جڑیں انجانے ہی میں اتنی گہری ہو چکی تھیں کہ کب وہ خوبصورت درخت بن کر اس کی ذات کے اندروں میں پلنے لگا، وہ جان ہی نہیں پایا تھا 

پھر اسلام آباد واپسی پر بھی وہ کبھی اس سے نہیں مل پایا ، چند سالوں بعد جب وہ اپنی گریجویشن کے نزدیک پہنچ چکا تھا  اسے علم ہوا کے وہ بھی میڈیکل کی طالبہ بن چکی تھی اور ماڈلنگ کے شوق بھی پورے کر رہی تھی 

عمر کے لیے اب اسے دیکھنا آسان تھا، انٹرنیٹ پر وہ ہر اس میگزین اور ایڈز اور کیٹ واک کا ریکارڈ رکھنے لگا جہاں وہ مجود ہوتی 

علی زبیری اس کی زندگی کا وہ واحد حصّہ تھا جس سے وہ بڑے عرصے تک بے خبر رہا ، ان دنوں وہ اپنے فیلو شپ میں بے انتہا مصروف تھا جب اسے امی کے زریے اس کی ہسپتال میں داخلے کی خبر ملی ، مگر یہ اس کے لیے صرف ایک خبر تھی، دل پر کوئی بھی اثر نہ کرنے والی خبر، کیوں کہ ہنی شاہ اس کے لیے صرف ایک نام تھا، کوئی احساس نہیں 

وہ جانتا تھا، جس ماحول میں وہ موو کرتی ہے اس کے لیے یہ سب ایک معمول کا واقعہ ہے ، ہاں احسن انکل کی فیملی کے لیے یہ ایک صدمہ تھا جس کے سلسلے میں وہ داور  سے مستقل رابطے میں تھا 

اور اب ان چند مہینوں میں جب سے اس نے ہنی شاہ کی ڈاکٹر زینیا شاہ کے روپ میں دیکھا  اور محسوس کیا تھا، اب صورت حال بلکل مختلف تھا 
اب اس سرے قصّے میں ڈاکٹر عمر نہ چاہتے ہوے بھی شامل ہو چکا تھا ، کیوں کہ زینیا شاہ اب صرف ایک نام نہیں تھا 
خون میں گردش کرنے والا، ہر دم رواں رہنے والا،  احساس تھا 

====================================================

دھند   

We have seen

We have seen those days when
butterflies rested on our palms
when the colors were our drapery
and the rain was a favorite melody
when silence used to speak louder
and words brought us even closer
when eyes were brighter than stars and
the breaths were fragrant than flowers
when dreams were the only reality
when nights transformed into memory
We have seen those days, yes though
how distant and unreal they may seem
We have seen them, really.



Monday, April 4, 2016

دھند 28

  "سر  ایک بات کہوں؟" . وہ  نرسنگ سٹیشن پر کھڑا زینیا کے دوبارہ کے جانے والے چیک اپ کے نوٹس لکھ رہا تھا  جب  اس نے سٹاف اگنس کو کہتے سنا 

"جی سٹاف کہیے"  اس نے تھکے لہجے میں جواب دیا  "سر ، آپ کچھ آرام کر لیں ، میں آپ کی پشینٹ کو آبزرو کر لوں گی تب تک . چار  تو بج چکے ہیں ، صبح پھر مورننگ میٹنگ اور راؤنڈ  بھی لینا ہوگا آپ کو"

"اسٹاف بہت شکریہ آپ کا ، مگر یہ آپ بھی جانتی ہیں کہ ایک ڈاکٹر کو اسے سے بھی زیادہ مشکل ڈیو ٹیز  کرنا پرتی  ہیں ا. میں اس سب کا عادی ہوں ، آپ پریشان  نہ ہوں. " 
پھر کچھ ٹھہر کر وہ دوبارہ گویا ہوا 
"ایک مہربانی اور کر دیں ، میرے لیے ایک کافی منگوا دیں پلیز."

"سر کہنا تو نہیں چاہیے مگر آپ خود سمجھتے ہیں بغیر کچھ کھا ے  یہ آپ کی پانچویں کافی ہے. آپ کی گیسٹرک لائننگ کو
 نقصان پہنچ رہا ہے "
وہ دھیمے سے مسکرا دیا " یہ سٹاف اگنس ہی تھیں جو ڈاکٹر عمر سے اس حد تک ذاتی گفتگو کر سکتی تھیں "
"میں بیڈ  ٢١٥ کو دیکھ لوں، آپ بلیک کافی بھجوا دیں پلیز." 
سٹاف اگنس انہیں وارڈ  کی طرف جاتا دیکھتی رہیں 

==========================================================

عجیب بے کلی سی تھی. یہی ہسپتال تھا جس سے وہ کئی  برسوں سے منسلک تھا، یہی کوریڈور ، یہی دیواریں، یہی وارڈز ، یہی آئ  سی یو  تھا جہاں وہ دن کا بیشتر وقت مریضوں، نرسنگ سٹاف اور ساتھی ڈاکٹرز کے ساتھ گزارتا  تھا . آج یہی جگہ اجنبی لگ رہی تھی، آج اسے جتنی بے بسی محسوس ہو رہی تھی، پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی. 
 ٹھیک ہی کہتے ہیں لوگ ، دوسروں کا علاج آسان ہوتا ہے ، اپنوں کا علاج کرنا وہ بھی کسی بہت قریبی شخص کا ، ایک  critical thinking ڈاکٹر کے لیے بہت مشکل ہے ، کیوں کہ جب جذباتیت شامل ہو جاتے  سوچوں میں تو 
پس پشت چلی جاتی ہے . آپ ٹھیک سے بلکل وہ فیصل نہیں کر پا تے جو وقت کا تقاضا ہوتا ہے . 

وہ بھی فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ اگلا قدم کیا ہونا چاہیے . 
کیوں کہ وہ بھی کسی اپنے کا علاج کرتے ہوے جذباتیت کا شکار تھا 
"اپنا" وہ کب اپنی تھی؟ یا کب اپنی بن گئی تھی؟، اور کیا واقعی اس سے کوئی قریبی رشتہ تھا؟ کوئی جذباتی تعلّق تھا؟
 lost love     وہ تو اب تک اپنے     
کا سوگ منا  رہی تھی   . خود پر طاری  ہوتے غصّے کو روکنے کے لیے اس نے مٹھیاں بھینچی تھیں 
کون ہے یہ علی  زبیری ؟ " اسے شدید  بے چینی ہوئی . گوگل نے اچھے دوست کی طرح بر وقت   مدد کی اور اب وہ اسے دیکھ  بھی رہا تھا اور اس کے باری میں معلومات بھی حاصل کر رہا تھا 
اور سب کچھ جان لینے کے بعد اسے صرف اس احساس سے الجھن ہو رہی تھی کہ زینیا شاہ ، ڈاکٹر زینیا شاہ اس انسان سے محبّت کر سکتی تھی؟

============================================================= 

سٹاف اگنس  اپنی ڈیو ٹی  سے  فارغ ہونے سے پہلے مورننگ فالو اپ کر رہی تھیں. آی  سی یو میں موجود ایک عمر رسیدہ  مریض کی چادر درست کرتے ہوے انہیں کسی غیر معمولی بات کا احساس ہوا . انہوں نے مڑ کر دیکھا .کچھ بھی نہیں تھا ، مگر انہیں کوئی شک سا ہو رہا تھا . . اس مریض سے فارغ  ہونے کے بعد  وہ خاص طور پر ڈاکٹر عمر  کی مریضہ خاص کی جانب آئیں . ان کا شک غلط نہیں تھا ، ڈاکٹر زینیا کے جسم میں ہلکی سی حرکت ہوئی تھی، اس نے اپنا کنولا لگا ہاتھ اٹھا کر پھر واپس نیچے رکھا تھا . ان کی ماہر نظروں نے فورا یہ جانچنے کی کوشش کی کہ کنولا لگے ہاتھ میں سوجن تو نہی ہے ، مگر اس سے بھی پہلے ان کا ذھن انہیں ڈاکٹر عمر کو وہاں بلانے  کی ہدایت دے رہا تھا ، انہوں نے اگلے ہی لمحے میں ڈاکٹر عمر کو فون کر کے آئ  سی یو  آنے کو کہا  اور دوسرے لمحے زینیا شاہ کو نام لے کر پکارا.. وہاں کوئی حرکت نہیں تھی 
چند ثانیوں میں ڈاکٹر عمر وہاں موجود تھے 
سٹاف اگنس نے ساری روداد کہ سنائی ، اور ٹھیک اس لمحے انہوں نے ڈاکٹر عمر کی آنکھوں کو روشن ہوتا دیکھا تھا 
پھر وہ جھک کر اس کے کنولا لگے ہاتھ کا موا عنہ کرنے لگیں جب کہ عمر نےاس کا دوسرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام کر اسے پکارا 
"زینیا" تم مجھے سن رہی ہو نہ؟

زینیا ، مجھے پتا ہے  تم جاگ رہی ہو ، ایک بار آنکھیں کھول کر دیکھو "

کوئی حرکت نہیں تھی، کوئی جواب نہیں تھا 
انہوں نے پالت کر اس کی دھڑکن اور سانس سے جڑے آلات کو دیکھا، سب کچھ بلکل مناسب تھا ، صرف اس کا ذہن کہیں کھویا ہوا تھا \عمر نے اس کے ہاتھ پر کچھ اور دباؤ بڑھایا ، وہ درد دے جانے کے جواب میں اس کے دماغ کا  رسپانس دیکھنا چاہ رہے تھے . مگر ایک بار پھر انہیں مایوسی ہوئی ، وہ اسی خاموشی سے سو رہی تھی 

"ہنی " پہلی بار شاید پہلی ہی بار تھی جب انہوں نے اسے اس نام سے پکارا جس نام سے  اسے ہمیشہ سے جانتے آے  تھے. اپنی فیملی، اور دوستوں کے درمیان وہ اسی نام سے جانی جاتی تھی 

سٹاف اگنس  کے لیے یہ کسی اچھنبے سے کم نہیں تھا . وہ ڈاکٹر عمر کے اس خوبصورت مریضہ کے ساتھ کسی گہرے  
تعلق  کے بارے میں اب کسی شک کا شکار نہیں رہی تھیں 

====================================================================












Tangible moments

One can not deny the significance of separation
The feelings that can not be expressed
are penned and saved
and then , in the moonlit nights
as the memories arise 
They can be re opened
as tangible moments

Sunday, April 3, 2016

Interview

Making history

Those who are lost
not easily found
those ,easily found,
not easily stay.
those do not love, may
find exuberance
those suffer in love
would seek indulgence
The feelings and missings
the tellings and hearings
the comings and goings
are not ordinary,
when and if, penned down,
would be making history.