Featured Post

Something else

No its not writer's block Its something else Just wondering why am I not writing much these days!

Sunday, May 29, 2016

دھند 33

کچھ لوگوں کے آنسو ہم سہ   نہیں سکتے ، یوں لگتا ہے جیسے وہ ہمیں بھگو رہے ہوں 
ڈاکٹر عمر حیات خان نے بیشتر مریضوں کے گھر والوں کو ہسپتال  کی  دیواروں  کے اندر روتے ہوے دیکھا تھا مگر ان   کے آنسو  ان پر اثر انداز نہیں ہوتے تھے، مگر زینیا شاہ کو داور کے ساتھ لگ کر  یوں روتا  ہوا دیکھنا اس کے  بس سے باہر تھا  وہ  کچھ فاصلے  پر موجود  ایک اور مریض کا موا ینا کرنے میں مصروف ہو گیا ، مگر توجہ کا باٹنا اتنا آسان ہوتا تو پھر مشکل کیا تھی 
 پتہ  نہیں کتنے ہی لمحے یوں ہی بیت گئے ، وہ اسٹاف  پیٹر  کے ساتھ  ان  عمر رسیدہ مریض کی  دوا  میں ردو بدل کی بات  طے  کر رہا تھا جب اس نے  زینیا کو کہتے سنا 
"کیا میں بالٹی مور میں ہوں؟" 
اس کا ذہن ابھی اپنے ارد گرد  سے مکمل طور پر شناسا نہیں ہو  پایا تھا ، دوسرے داور  اور عمر کی بہ یک وقت مجودگی بھی اس کے لیے اچھنبے  کی بات تھی 
عمر نے اس کی آواز سن لی تھی اور اسے خوشی تھی کہ اس کا ذہن  اب آہستہ آہستہ ہوش کی سرحد کے قریب ہوتا جا رہا تھا 
وہ دونوں کو باتیں کرتا ہوا چھوڑ کر  احسن شاہ بخاری کو بلانے چل دیا ، 
=====================================================
عجیب  بات تھی  کہ جب وہ  ہوش و خرد سے  بیگانہ تھی  تب وہ  بے چین روح کی  مانند اس کے  گرد منڈلاتا پھرتا تھا   اور اب  جب وہ ائی  سی یو سے کمرے میں منتقل  کر دی گئی تھی تو وہ بے فکر ہو کر اپنے دیگر کاموں میں مصروف ہو چکا تھا ، ڈاکٹر حیدر  اب زینیا شاہ  کے  فالو اپس لے رہے تھے اور عمر  کو  مستقل  اپ ڈٹ بھی   کر رہے تھے

اگلا سارا دن بھی او پی ڈی  نپٹا تے گزر گیا تھا ، وہ اس وقت فریسغ ہوا جب شام ، شب کی دہلیز پر قدم رکھ چکی تھی، وہ  سٹاف کو کافی آرڈر کرنے کی لیے نرسنگ کاونٹر پر آیا تھا جب ڈاکٹر حیدر اسے ملے تھے

" سر آپ مصروف نہ ہوں تو مجھے ڈاکٹر زینیا  کا کیس ڈسکس کرنا تھا " حیدر حالاں کہ  عمر سے کافی جونیئر تھا مگر  وہ اتنا قبل تھا کہ  ڈاکٹر عمر اسے زینیا کا کیس سونپ کر بے فکر ہو چکا تھا

"سر ڈاکٹر صاحبہ  ڈسچارج ہو کر گھر جانا چاہتی ہیں ، وہ کہ رہی ہیں میں بلکل ٹھیک ہوں  ہسپتال میں روکنے کا کوئی جواز نہیں بنتا " میں نے انہیں سمجھانے  کی کافی کوشسش کر لی ہی مگر  وہ مجھے لاما ہو جانے کی دھمکی بھی دے چکی ہیں ، میں تو سخت پریشان ہون سر، پلیز آپ ان کو خود سمجھا لیں ، آپ کی بات ماں لیں گی وہ، ابھی وہ اس اسٹیٹ میں نہیں کہ ہم انہیں گھر جانے دے سکیں "

عمر مسکرا دیا " تم پریشان  نہ ہو حیدر ، میں دیکھ لیتا ہوں ، ویسے کوئی بھروسا  نہیں کہ مادام  اس وقت تک لاما ہو بھی چکی ہوں "

"سر  وہ ایک ڈاکٹر ہوتے ہوے ایسا کیسے کر سکتی ہیں؟"

"وہ سب کچھ کر سکتی ہیں " عمر کا قہقہہ بہت بے ساختہ تھا


======================================

اس نے    دھیمی سی دستک دی، ایک بار اور  دوسری بار ، تیسری بار وہ اندر داخل ہو چکا تھا ،
سامنے وہ آنکھوں پر با یاں بازو رکھے خاموش لیتی تھی، یا شاید سو رہی تھی ، کمرنے  میں انتہائی مدھم روشنی تھی  ، انی کہ اس میں عمر حیات کے لیے  اس کو غور سے دیکھنا بھی مشکل تھا
ہاتھ بڑھا کر اس نے ، اس کے سرہانے کچھ اونچائی پر نسب  بلب روشن کر دیا ،   اسی سمے زینیا نے بازو آنکھوں سے ہٹا کر اسے دیکھا تھا

ہسپتال کے مخصوص مریضوں والے لباس میں وہ  کوئی بھی مریضہ لگ رہی تھی مگر وہ زینیا شاہ نہیں لگ رہی تھی جس نے پہلی ملاقات میں ڈاکٹر عمر کو  شدید متاثر کر دیا تھا

"کسی ہو؟"

" بہت اچھے معالج  ہیں آپ ،  کتنے گھٹوں بعد راؤنڈ  لیتے ہیں وارڈ  کا؟ :

لہجے میں اتنی تپش ضرور تھی  کہ وہ سیدھی عمر کے دل تک پنہچی تھی

" مجھے علم تھا کہ آپ  ریکور کر رہی ہیں ، اس لیے کہ آپ کو  ذمے دار لوگوں کے حوالے کیا ہوا تھا "
"  اور جن ذمے دار لوگوں کے آپ نے مجھے حوالے  کیا  ہوا تھا ان لوگوں کے پاس  اتھارٹی بھی نہیں ہے  کہ مجھے ڈسچارج سکیں " 

سچ تھا ، کسی  ذہین خاتون جو کہ با علم بھی ہو  اور طرح دار بھی، ، سے بحث  کرنا بلکل آسان نہیں ہوتا ، عمر حیات خان بری طرح پھنس چکا تھا 

مجبوراً  اسے اپنی  پروفیشنل زبان  کا  سہارا لینا پڑا 

"ڈاکٹر زینیا ابھی آپ کی صحت اس مرحلے  پنہچی کہ ہم آپ کو  گھر جانے کی اجازت دے سکیں، ابھی کچھ  تفصیلی  مواینہ  اور مزید لیب ٹیسٹ ضروری ہیں  جن کے بعد ہی ہم  فیصلہ لے سکیں گے ، آپ بہتر گھنٹوں کی بے ہوشی کے بعد جاگی ہیں  اور آپ کے نیورونس ابھی  مکمّل طور پر صحتیاب نہیں ہوے ہیں "

"مجھے اپنی فائل دیکھنا ہے " اگلا سوال اس سے بھی مشکل  تھا "
اب پریشان  ہونے کی باری  عمر کی تھی 

" کیا دیکھنا چاہتی ہو فائل میں، مجھ سے پوچھ لو  زینیا " عمر نے اس کے سرہانے بیٹھتے ہوے  رساں سے کہا 

میں اپنی فائل کیوں نہیں دیکھ سکتی ڈاکٹر عمر؟" میں ایک ڈاکٹر ہوں آپ شاید بھول رہے ہیں "

اگر آپ ڈاکٹر نہیں ہوتیں تو شاید میں فائل آپ کے ہاتھ میں دے دیتا ، اس وقت میں کسی بھی قسم کے ذہنی دباؤ سے محفوظ رکھنا چاہتا ہوں تمھیں زینیا "

" مجھے آپ کی لاجک سمجھ نہیں آ رہی ڈاکٹر عمر، میں گھر جانا چاہتی ہوں پلیز "

اس کے لہجے کی بیزاری صاف عیاں  تھی 

ٹھیک ہے  مجھے چند لمحے چاہیے اس فیصلے کے لیے ، لیکن شرط یہ ہے کہ تم خاموشی سے میری بات مانو گی اور جو کہوں گا   وہ کرتی  جاؤ  گی " زینیا نے جواب میں کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا مگر عمر کے چہرے پر موجود تاثرات دیکھ کر خاموش ہو گئی 

عمر  بستر سے اٹھ کر اس کے دائیں  جانب آ گیا اور ایک ماہرنیورو لوجست کی طرح اس کو ہدایت دینے لگا وہ خاموشی سے سارے  ٹیسٹ کرتی چلی گئی ، کبھی انگلی سے ناک کو چھوا، کبھی آنکھوں کو گول گول گھمایا ، وہ ڈاکٹر تھی اور اس کے پاس ایعترض   کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی 

 "اٹھو "
"جی ؟

"بستر سے نیچے پیر رکھو اور کھڑی ہو جاؤ "
وہ اب صرف ایک ڈاکٹر تھا ، اور زینیا ایک مریضہ  ، وہ اٹھ کر بیٹھی اور آہستگی سے بستر سے نیچے اترنے  لگی 

اسے ایک دم آنکھوں کے آگے  اندھیرا سا محسوس ہوا تو اس نے نزدیک موجود میز کا سہارا لیا ، عمر صرف خاموشی سے 
اسے دیکھتا رہا، اس نے اسے سہارا دینے کی کوئی کوشش بھی نہیں کی 

وہ  ڈاکڑ تھی اور وہ جو کچھ  اس پر ثابت  کرنا  چاہ  رہا تھا وہ اتنا آسان بھی نہیں تھا 

اس نے  سلیپپرز میں پیر ڈالے اور دھیرے سے بستر کا سہارا چھوڑ کر آگے کو قدم بڑھاے 
عمر وہیں اس کے نزدیک    دونوں بازو سینے پر باندھے  کھڑا اسے دیکھ رہا تھا 
چوتھے قدم کے بعد وہ یک دم ٹھہر گئی ، عمر کی سانس ایک لمحے کو ٹھہری ، مگر وہ بھی زینیا شاہ  تھی ، اور وہ ڈاکٹر عمر پر یہ ثابت  کرنا چاہتی تھی کہ وہ بلکل  نارمل ہے، اس لیے  چند لمحوں بعد پھر آگے کو بڑھنے لگی 

مگر وہ غلط تھی، اس  کا ذھن ابھی مکمّل م طور پر اس کے   جسم  کو سنبھالنے میں ناکام ہو رہا تھا اور یہی وہ بات تھی جو عمر  اسے سمجھانے  کو کوشش کر رہا تھا 

اس  کی آنکھوں کے اگے ایک بار پھر اندھیرا پھیلا تھا اور اس نے سہارے کی لیے اپنا ایک بازو آگے کو بڑھایا تھا، وہ گرنے کو تھی  مگر عمر اس صورت حال کے لیے ذہنی طور پر تیار تھا، اس نے فورا  آگے بڑھ کر اسے تھام لیا ورنہ اگر وہ گرتی تو بہت بری طرح زخمی ہو سکتی تھی 

وہ آہستگی سے اسے تھام کر بستر تک لے آیا اور اور اسے لٹانے کے بعد وہیں اس کے سرہانے بیٹھ گیا تھا 

"تم ٹھیک ہو زینیا؟: وہ اس  کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر پوچھنے لگا 

"ٹھیک ہوں "

"یہی بات تم بغیر بحث  کے بھی مان  سکتی تھیں  نان "  اب پتا لگا  کیوں کیہ  رہا ہوں  کہ  گھر نہیں جا سکتی ہو ابھی ؟"
 عمر کو لگا وہ    رو دے گی 

" میں یہاں  نہیں رہ سکتی  عمر، پلیز ، یہاں سب اتنا ڈپرسسنگ  ہے ، اور میں اتنی اکیلی ہوں، مجھے گھر جانا ہے "

اس کی آنکھوں سے آنسو بیہ  رہے تھے اور یہ وہ نہیں دیکھ سکتا تھا 

"او کے زینیا، کل تک کا وقت دو مجھے ، لیکن تم روو  گی نہیں اب، اور اگر روئیں  تو ایک ہفتہ مزید یہاں ٹھہرنا ہوگا " وہ اس  کے چہرے پر آے  بالوں کو پیچھے کرتا ہوا کہ رہا تھا  اور زینیا اپنے آنسوؤں پر قابو پانے کو کوشش کرنے لگی "

==========================================


A single tear

It wasn't a tear
that ran down
to my lips,
It was a dream
where you said
Good bye.

Tuesday, May 24, 2016

Remoteness

I dread the morning
The night of which
Shows you all along
So near, so close
Like olden days
Yet on opening eyes
The morning arises
With scorching heat
Of reality, of
Remoteness.

Monday, May 23, 2016

Tuesday, May 17, 2016

بس اک ہی نام

رات سن رہی تھی 
اندھیرے کی چلمن  کے اس  پار  
سانس کی تسبیح  پر 
ورد کیا جانے  والا 
وہ بس اک ہی نام   
جو لہو   کی خلوتوں میں 
مانند طواف  گھومتا تھا 
کہ آنکھ  غافل  ہو بھی جاے 
نہ سانس رکتی  ہے 
نہ لہو تھمتا ہے 
اور رات 
وہ پھر لوٹ آتی ہے 
اور سنتی رہتی ہے 
اندھیرے کی چلمن کے اس پار 
وہ بس اک ہی نام 

نازش امین 

Monday, May 16, 2016

Moods

And how I hate this silent, unknown, unexplained gloomy mood of mine.

Nothing could cheer me up, not for the rest of the day, I know.

It wasn't

Once or may twice, we go through times which get adjusted with our body clock and then we follow them as routines
Like waiting

Waiting for a particular dial on the clock
Waiting for some stranger to come along
Waiting for times which do not meant to last longer

And then suddenly that waiting abruptly ends

Your mind and body resists to come out of that time frame but eventually that happens too.

And then those times feel strange too, so strange that you may wonder if they ever existed in this lifetime.

May be it was just a dream and was wishfully transformed into reality.

May be it was nothing and only imagination made it looks so beautiful.

May be it wasn't,  what it was.


Thursday, May 12, 2016

Strange!

It's strange
how little you had shared together
how enormous you have to recall

Monday, May 9, 2016

High tides

It was a smooth sailing
on the waves of emotions
until after
the passing of
many moons
There reflected
your image
enough to bring up
high tides of desire

Fragmentation

Who says it's easy to bear
detachment and broken-ness
for once we are broken
we have to gather
all those pieces
bit by bit, all
shreds and crumbs
slowly and gradually
with bleeding fingers
and wounded spirit
to form, what it had been once
and yet some marks
of detachment remain
some scars would remind
us of fragmentation
  

This makes me write

And there are some melodies that make you feel
and make you react, in one way or other
This is one of them!

https://soundcloud.com/hindisongsvideoslyrics/awari


Main ny dhoonda buhat per
kaheen na mila.......


Tuesday, May 3, 2016

اک خاموشی



خلوت جاں  میں گونجتی 
اک خاموشی 
بہت شور کرتی ہے
دل آباد   کرتی ہے 
تمھیں یاد کرتی ہے 


Monday, May 2, 2016

Those moments

I wonder why
They keep coming back
to me
those moments.
I wonder how
after such length of time
that drifted us apart
for so long
they keep coming back
to me
those moments
which took
so long to
shed off.