Posts

فراق

فراق وہ شب جس کو تم نے گلے سے لگا کر مقدس لبوں کی حسیں لوریوں میں سُلایا تھا سینے پہ ہر روز لمبی کہانی سنا کر وہ شب جس کی عادت بگاڑی تھی تم نے وہ شب آج بستر پہ اوندھی پڑی رو رہی ہے ۔۔۔۔۔ گلزار 

Breathlessness

When you can't breathe In this Pandemic  Its alarming  But you may not know When you can't breathe  Because your breaths were  Linked to someone you love.  And you lose that link Your every breath hurts And it's more grave than a pandemic. 

Effect of your words

If you knew now, how your words effect me you would break down and cry. If you only knew, The day it all commenced The day your voice stunned me The day your words overtook my heart The way it was all, since the very beginning It never lost its influence, it never stopped for once. And now, as of today, it's your words which, brings me alive, wakes me up from darkness put me to sleep in the middle of the night, like a lullaby glow me like a mud lamp, constantly desire you to kindle that one small hope, which is easily wounded when I could not access your vibes. But if you knew now, If you only knew - my love how your words effect me you would break down and cry.

ڈر لگتا ہے

اس قدر خاموشی ہے ،ڈر لگتا ہے  من میں سوۓ شور سے ڈر لگتا ہے تیرے آ کر پھر جانے کا وہ جاں کن لمحہ  تیرے آ کر پھر جانے سے ڈر لگتا ہے  رت جگوں کے رنگ ہیں پھیلے  آنکھوں میں  خشک آنکھوں کے در کھلنے سے ڈر لگتا ہے  وہ  جو ہونے اور نہ ہونے کے درمیان ہے   شہر میں پھیلی ایسی  وبا سے ڈر لگتا ہے   ڈاکٹرنازش امین  

کورونا

مجھے خوشخبری سنا دو مجھے ہنسنا کھلکھلانا ہے مجھے اس حبس زدہ الجھے ہوئے، سہمے ہوئے  دشت سے کہیں دور جانا ہے  جہاں پر پھول ہوں اور ان کی خوشبو سہمی ہوئ نہ ہو جہاں سر سبز وادیوں میں جھرنے  تنہائ کے گیت گائیں تو  وصل کا پیغام لے کر  ہوائیں گنگناتی ہوں ہمیں آواز دیتی ہوں وفا کے گیت گاتی ہوں جہاں پتوں کی سرسراہٹ میں  کوئ وحشت نہاں نہ ہو جہاں سانس لینے میں  کوئ دہشت زدہ نہ ہو ملن کے خوش نوا گیتوں کی بازگشت میں ںں  جدائ کی جلن کی نوحہ خوانی نہ ہو جہاں پر لمس ایک مقدس امانت ہو اور اس میں کسی خوف کی خیانت نہ ہو  جہاں ہم ہوں، میں اور تم اور درمیاں کوئ ستم آشنا کورونا نہ ہو  مجھے خوشخبری سنا دو مجھے ہنسنا کھلکھلانا ہے  نازش امین 

زہرہ نگاہ

کس قدر رنگ آسماں پر ہے جیسے وہ ان دنوں یہاں پر ہے کوئی رت ہاتھ ہی نہیں آتی بے قراری کہاں کہاں پر ہے اسکی مرضی کا دھیان رہتا ہے بھول جاتی ہوں وہ کہاں پر ہے #زہرہ نگاہ 

غزل

غزل تشنگی کی حدتیں رہیں باقی عشق کی حجتیں تمام ہوئیں چاند ٹھہرا رہا تحیر زدہ شب کی کروٹیں تمام ہوئیں اس کی یادوں کے ذائقے محفوظ  اور سب لذّتیں تمام ہوئیں   ان  لفظوں کی خامشی پڑھ کر دل کی وحشتیں تمام ہوئیں نازش امین