Posts

Showing posts from December, 2022

Normalising attitudes

 Why don’t we normalise crying ?  Be it tears  of joy  or pain  I want to cry out loud while working, driving or cooking  But I’m surrounded by people and it raises question marks  And I don’t post my weeping stories on social media too  So im glad you will never know what im going through  Those who don’t care should not have right to know

پروین

دعا کا ٹوٹا ہوا حرف سرد آہ میں ہے  تری جدائی کا منظر ابھی نگاہ میں ہے  ترے بدلنے کے با وصف تجھ کو چاہا ہے  یہ اعتراف بھی شامل مرے گناہ میں ہے 

چپ

 کسی روز کوئ عجیب صبح کا آغاز ہوتا ہے  جیسے آج ہوا  میں جاگی تو کسی اجنبی احساس تلے دل دبا ہوا محسوس ہوا  میں سب فراموش کر چکی تھی  یہ بات بھی کہ اس وقت کس دنیا میں کس مقام پر کس وقت میں موجود ہوں  میرے اندر کوئ خالی پن شور مچا رہا تھا  مجھے صرف یہ یاد تھا کہ میں نے تم کو خواب میں دیکھا  مگر تمہاری شبیہ واضح نہیں تھی  کہیں کوئ احساس بھی نہیں تھا  صرف دور سے ایک جھلک  اور تمہاری موجودگی کا خیال  تم اجنبیت کی سرحد کے اس پار کھڑے تھے جہاں میں کم سے کم تمہیں جاتا نہیں دیکھ سکتی تھی  لیکن میں نے دیکھا  تم جا چکے تھے  صرف دھند باقی تھی  یہی فنا ہے  جس نے زندگی بھر ہاتھ تھام نے کا وعدہ کیا ہو  وہ ہاتھ چھڑاکر ، دھتکار کر چکے بھی جاتے ہی جیسے تم جا چکے ہو  اور میں بے یقینی کی کیفیت سے خود کو نکال کر  اس خواب کو حقیقت کے روپ میں ڈھلتا دیکھ رہی ہوں  اور چپ ہوں  کہ اب چپ ہی مقدر ہے