Featured Post

Something else

No its not writer's block Its something else Just wondering why am I not writing much these days!

Sunday, June 18, 2017

دھند 36

کیا ہو رہا ہے ؟
وہ لان میں خاموشی سے بیٹھی آسمان پر دوڑتے بھاگتے بادلوں کو دیکھ رہی تھی  ک داور چلا آیا 
اس کی کوشش ہوتی اور یہ عمر کی ہدایت بھی تھی کہ زینیا کو زیادہ تنہا نہ رہنے دیا جاے 
آج وہ کچھ دیر کو گھر سے باہر رہا اور اب واپسی پر وہ تنہا دکھائی دے رہی تھی 

" کچھ خاص نہیں . تم کہاں تھے؟"
"کچھ دوستوں سے ضروری ملنا تھا . اب واپسی میں دن بھی کم ہیں نہ."
"تم جا رہے ہو  داور ؟" 
وہ بولی تو اس کے لہجے میں ان کہے خدشے تھے 
داور  نے آگے بڑھ کے اس کے ہاتھ تھامے 
"جانا تو ہے نہ  ہنی . تم بھی چلو نہ میرے ساتھ 
"میں؟ نہیں میں کیا کروں گی وہاں. یہاں میری جاب ہے، میری روٹین ہے میں یہ سب چھوڑ نہی سکتی." 
"یہ مت کہنا کہ تم نتھیا گلی واپس جو گی."
"کیوں نہیں.  میں جوں گی. وہاں کے لوگوں کو میری ضرورت ہے 
"اور یہاں اس گھر کے لوگوں کو؟ ان کو بھی تمہاری ضرورت ہے ہنی. مما، ڈیڈی مجھے ہم سب کو 
"نہیں یہاں میری ضرورت نہیں ہے. سب کی اپنی زندگی ہے اور سب اس میں خوش ہیں " وہ سنگدلی سے بولی. دور 
داور کو اس کا لہجہ دکھی کر گیا 
" ایسا نہی ہے ہنی. تم نہی جان تین ک کوئی بھی خوش نہیں ہے ، ہم میں سے کوئی بھی نہیں.  ہم ایک بروکن فیملی  نہ ہوتے ہوے بھی بروکن فیملی ہی ہیں "
زینیا نے اس کی آنکھوں میں تیرتی نامی دیکھی تھی.
"تم مت جو ہنی. تم اور مما میرے پاس آ جو وہاں ، ڈیڈ بھی چکر لگا لیں گے، سب بہتر ہو جے گا
وہ چپ رہی اس بار. کچھ نہیں بولی. کچھ کہنے کو  تھا بھی نہیں 
"اچھا یہ سب چھوڑو . یہ بتاؤ شاپنگ کب چلنا ہے. حیات انکل کے گھر ڈنر پر کیا پہننا ہے.
" مجھے کوئی شاپنگ نہیں کرنی. .بہت کپڑے ہیں میرے پاس کچھ بھی پہن لوں گی "
وہ بے زاری سے بولی. وہ کون سا جانا چاہتی تھی مگر کیوں ک یہ ڈنر اس کی صحت یابی کی خوشی میں تھا وہ انکار نہی کر سکتی تھی 
" اب یہ مت کہنا ک تم وہاں اپنی فڈڈ جینز اور ٹاپ میں چلی جاؤ گی !" داور نے آنکھیں گھمائیں 
"کیوں نہیں. میں کچھ بھی پہنوں میری مرضی  " وہ اپنی زینیا شاہ والی مخصوص  ٹون میں بولی 
" حیات انکل کے گھر کا رکھ رکھاؤ تم جانتی ہو ناں . اچھا نہیں لگے ک تم وہاں جینز پہنو. تمھیں کوئی روایتی لباس پہننا چاہیے. " وہ پیار سے سمجھانے لگا 
"کیوں وہ بھی تو وہاں ٹھہری ہوئی ہے اتنے دنو سے عمر کی امریکن دوست. وہ جینز نہی پہنتی ہوگی کیا؟ "  وہ تنک کربولی 
اس کے لہجے میں کوئی چبھن تھی جو داور سے چھپ نہ سکی اور وہ زیر لب مسکرانے لگا.
" ارے تمہارا مطلب شیرل؟ شے اس سچ ا سویت ہارٹ. ملین تم اس سے؟  " 
 " میں  نے ایک کونفرنس میں دیکھا تھا اسے "  منہ کا ذائقہ اب بھی برا ہی تھا 
"تمھیں کس نے بتایا وہ انکل کے ہاں ٹھہری ہوئی ہے؟
" سٹاف اگنس نے وہ بے ساختہ بولی اور پھر اسے لگا وہ کچھ غلط کہ گئی ہے. " 
بڑی اپ ٹو ڈیٹ ہیں یہ سٹاف اگنس " داور  کھلکھلایا 
تم عمر سے مت کہنا. مجھے سٹاف نے منع کیا تھا. وہ ناراض ہوتا ہے ک اس کو ڈسکس کیا جاے " 
اچھا اب سمجھ آیا کہ سٹاف اگنس سے اتنی دوستی کیوں ہو گئی. وہ تم سے عمر کی باتیں ڈسکس کرتی تھی 
زینیا شاہ کو لگا کسی نے اس کی چوری پکڑ لی ہٹ، اس کا چہرہ گلابی ہونے لگا. 
" مجھے کیا ضرورت ہے " عمر کو ڈسکسس کرنے کی. وہ خود ہی مجھے سری باتیں بتاتی رہتی تھی، دوسرے لوگوں کے بارے میں بی، شیرل کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ  وہ عمر کی وائف ہے " 
" کیا؟" اب یہ انکشاف  داور کو ہلا گیا تھا 
" کچھ تو سچ ہوگا نہ اس میں ورنہ سارا سٹاف ایسی باتیں کیوں کرتا؟" ہنی کے لہجے میں ڈھیروں شکایتیں تھیں 
" نہیں ہنی.. وہ دونوں صرف دوست ہیں. بہت اچھے دوست. ہم اکثر وہاں ساتھ ہوتے ہیں.. ایسا کچھ نہیں . شاید  عمر  اب سنجیدہ  ہو رہا ہو  شادی کے سلسلے میں مگر ابھی تک ایسا کچھ نہیں ہے. " 
داور  اب کچھ  فکرمند ہوا تھا. ایک طرف امر تھا اس کبچپن کا دوست جس کی ہنی شاہ کے لیے فیلنگس سے واقف تھا دوسری جانب ہنی تھی اس کی بہن جو بہت سے خدشات میں گھری تھی. وہ عمر کی جانب سے اس کا دل صاف کرنا چاہتا تھا. وہ جانتا تھا کہ اس مچ میکنگ کے لیے اسے بہت محنت کرنا ہوگی 
اور وہ اپنی بہن لے لیے اس سے بہت زیادہ کر سکتا تھا. 
اس نے گفتگو کا موضوع تبدیل کر دیا تھا 


Thursday, June 15, 2017

دھند 35

ٹھنڈ  میں ٹھٹھرتی ایک اور شام تھی جن اپنی بلکونی میں لگے جھولے میں جھولا جھولتے ٹھنڈ  کو اپنی جلد پر محسوس کرتے ہوے  وہ آج کچھ وقت اپنے ساتھ صرف کر رہا تھا 
کبھی کبھی اپنے اندر کی سرگوشیوں کو سننے کے لیے چند لمحوں کے لیے رکنا پڑتا ہے 
کیوں ک اس تیزی سے بھاگتی  تھکا دینے والی دوڑ کی حامل زندگی میں  اگر وقت نہی نکل پاتا  تو صرف اپنی ذات کے لیے.
  اسے کچھ اہم فیصلے کرنے تھے، اور ان فیصلوں سے قبل اسے ادراک کے ان لمحوں کے رو با رو  ہونا تھا جن لمحوں کو گرفت میں لانے کے لیے اسے ایک ٹھہراؤ کی ضرورت تھی 
ہسپتال، او پی  ڈی ، شیرل ، والدین، احباب، ، اور آن لائن اکٹھے ہونے والی ڈھیر  سری ضروری ای میل ، ان سب سے چپ چھپا کر، اپنے ساتھ وقت  گزارنے  کی لیے وہ اپنے فلیٹ کی بالکونی میں لگے جھولے پر آ بیٹھا تھا . فون کہیں دور پیرا تھا 
آج اس نے ہر توجہ کھینچ لینے والی شے سے پیچھا چھڑایا ہوا تھا. 
اور یہی شاید ایک غلط فہمی تھی 
ایک شدید توجہ کھینچ لینے والی ہستی یہاں تلک اس کے ساتھ چلی آئ تھی 
یوں بھی اسے  جو فیصلے کر لین
ے تھے ان کا ربط کہیں نہ کہیں جا کر زینیا شاہ سے ملتا تھا. 
آج ہسپتال میں اس کا آخری دن تھا. آج کسی  پہر  اسے ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا کیا ہوگا. وہ خود کسی اہم میٹنگ میں مصروف ہونے کی وجہ سے وارد  میں موجود نہ تھا. 
پچھلی شام جب وہ راؤنڈ  ک لیے  ڈاکٹر حیدر  کے ہمراہ اس کے کمرے تک پنہچا تو وہاں ایک میلہ لگا تگا. زینیا کے والدین، داور سمیت موجود  تھے خود عمر حیات خان کے والدین بھی وہیں برا جمان تھے بلکہ عمر کی امی تو زینیا کے ساتھ لگ کر بیٹھی اسے پھل کھلا رہی تھیں. داور  حسب معمول شور مچا رہا تھا اور ساتھ ساتھ ان لمحوں کو کیمرے  میں قید کرتا جاتا تھا 
سسٹر اگنس وہیں زینیا کے ہاتھ سے کنولا باہر نکل رہی تھیں اور زینیا نے درد کی وجہ سے برا سا منہ بنایا ہوا تھا.
وہ خاموشی سے کھڑا اتنا زندہ جاگتا منظر اپنے اندر سمو رہا تھا 
زینیا بہتر تھی اب گو کافی کمزور  لگ رہی تھی 

اس نے صرف ایک بار نظر اٹھا کر عمر کو دیکھا تھا اور اس کے بعد خوب نظرانداز کرنے کا سلسلہ جاری تھی.
وہ سمجھ گیا تگا ، وہ عمر سے ناراض تھی، کیوں؟ یہ عمر کو معلوم کرنا تھا 
. ڈاکٹر حیدر کو دیکھ کر زینیا کا موڈ سخت خراب ہوا تھامگر وہ خاموش رہی تھی.
حیدر خود ڈرتا تھا ک مادام  غصّے میں کچھ اٹھا کر اسے دے نہ ماریں. وہ  کچھ کچھ ڈاکٹر عمر کے اونچے قد کے سائے  میں چھپتا پھرتا تھا 
عمر کی امی نے زینیا کی صحت یبھی کی خوشی میں دعوت کا اہتمام کرنے کا اعلان کیا. 
شاہ صاحب انکار کرتے رہے مگر انہوں نی ایک نہ سنی. 
بقول ان کے زینیا  ان کی اپنی بیٹی تھی.  اور وہ اس کی گھر واپسی اور صحت یابی دونوں کو سلیبرٹ کرنا چاہتی تھیں. . حیات الله خان بھی ان کے اس فیصلے میں ان کے ساتھ تھے اس لیے شاہ صاحب کے پاس ماننے کے علاوہ کوئی چارہ  نہیں تھا. 
داور  نے سٹاف اگنس کو کیمرے پکڑایا اور سب کو زینیا کے بستر کے ارد گرد  جمع  ہونے کا اشارہ دیا. وہ ایک خوبصورت گروپ فوٹو چاہتا تھا. 
عمر دور کھڑے دیکھ رہا تھا  دور داور  نے بازو سے پکڑ کر عین زینیا کے سرہانے لا کھڑا کیا اور خود بھی اس کے برابر کھڑا ہو گیا. 
سب لوگ زینیا کو گھیرے میں لئے بیٹھے تھے اور مسکرا رہے تھے 
بلا  شبہ  یہ زینیا کی زندگی کا اک خوبصورت لمحہ تھا 


---------------------------------------------------




وہ اپنا وہ جھولا جھولتے ہوے وہی لمحہ یاد کر رہا تھا 
اسے اپنی امی کی خوشی کی وجہ کا بھی ادرک تھا 
آخر یہ ان کی اور بابا کی بہت دیرینہ خواہش تھی ک زینیا ان کی بہو بنے عمر کی اس وقت کی ہٹ دھرمی جب وہ ڈاکٹر بننے امریکا جا رہا تھا ، اوربہت کم عمر تھا،  اور اس مرحلے پر کسی رشتے کی زنجیر میں قید ہونا نہیں چاہتا تھا.
جب  اس کی پوسٹ گراجواشن شروع ہوئی ٹیب زینیا  پاکستان میں ڈاکٹر بننے کے مرحلوں میں تھی 
وہ اس سے شاید  کبھی بچپن میں ملا تھا 
مگر اس کا نام جیسے  گھر کے کسی فرد کی طرح لیا جاتا تھا.
جب اس کی منگنی کی خبر ملی تب بھی اسے کچھ خاص فرق محسوس نہ ہو سکا. ہاں اس کے والدین کافی دکھی ہوے تھے 
وہ سمجھ سکتا تھا کہ اس کی امی کیوں اس قدر خوش تھیں 
شاید وہ پھر سے خواب بن رہی تھیں.
وہ خواب جو عمر نہی دیکھنا چاہتا تھا 
وہ اب کوئی فیصلہ کرنا چاہتا تھا 
یہ محض اتفاق تھا ک چند مہینوں قبل اگر زینیا اسے یوں نہ ملی ہوتی تو وہ شیرل کو لے کر اپنی زندگی کا کوئی برا فیصلہ کر چکا ہوتا 
اسی لیے اس نی شیرل کو پاکستان انے اور اپنے گھر والوں کے ساتھ ٹھہرنے کی دعوت دی تھی 
گو ابھی سب کچھ ان کہا تھا 
ابھی دونوں جانب خاموشی تھی 
چند دنوں  میں شیرل کی واپسی تھی. عمر اور وہ دونوں ایک ہی فلائٹ سے بالٹی مور واپس جا رہے تھے. 
مگر جانے کیوں 
عمر  گم صم  تھا 
اسے الجھاؤ پسند نہیں تھے.
اسے  خود سے اور سب سے ناراض زینیا بہت عزیز ہو گئی تھی 
وہ جانے سے پہلے ایک بار اسے سے ملنا چاہتا تھا 
اس کے سامنے اقرار کرنا چاہتا تھا ک اس کی موجودگی نے اس کے سارے پلانز الٹ پلٹ کر دیا ہیں اور اب وہی اس کی زندگی کی ترتے  درست کر سکتی تھی 
عمر جانتا تھا یہ سب کتنا مشکل تھا، زینیا کوئی عام لڑکی نہیں تھی

اسے زندگی میں سخت خدشات لاحق تھے 
وہ شاید اس بات پر عمر کی پٹائی بھی کر سکتی تھی مگر عمر حیات خان نے ارادہ بندہ لیتا تھا 
وہ دل میں بسی اس بے چینی کا خاتمہ چاہتا تھا  . شاید وہ یہ نہی جانتا تھا کے یہ بے چینی ایک بار لگ جے تو جینا آسان نہی ہوتا یہ سلگن
تو ہر پل کی ہوتی ہے اس سے مفر ممکن نہی ہوتا.


























Monday, June 12, 2017

Ramzan 2017

I dunno why but this time around sehri has been a thoughtful and creative fragment all over the month.
Another blessing of Ramzan.

Saturday, June 10, 2017

Nostalgia

شام  گہری  ہو رہی تھی 
وہ دھند میں ڈھکے جنگل میں اپنا واپسی کا رستہ بھول چکی تھی 
بھٹک رہی تھی 
جیسے کوئی بے چین روح 

اندھیرا پھیل  رہا تھا اور وہ خوف زدہ تھی 
بے آواز سی صدا میں جیسے اس نے  مدد کے لیے کسی کو  پکارا تھا
پتوں کی چڑ چڑ آہٹ پر اس کی سانس تھم  گئی 
کوئی پاس  ہی تھا 
کوئی اس کا پیچھا کر رہا تھا 
دھند میں  ڈھکے ہوے  جنگل کی اس گہری  ہوتی شام میں


Sometimes reading your own writings can take you back in a 
 zone of  emotional nostalgia 

Wednesday, June 7, 2017

Sacredness

Something is pulling me back
Towards - words
My long-lost companion
Words which helped me heal
Words which when deserted me, left me shredded
Words which I need to pull me together
In this zone of polluted loneliness
I wait for sacred feelings entwined with words

Sunday, June 4, 2017

Forbidden moments

It's true
Some change of routines
Some days and nights
Take you back into
The world of forbidden moments
And then you come to know
A part of you
Was left behind there

Tuesday, May 30, 2017

Mata e alfaaz


یہ جو تم ! مجھ سے گریزاں ہو ! میری بات سنو !
ہم اسی چھوٹی سی دنیا کے ، کسی رستے پر
 اتفاقا" ، کبھی بھولے سے ، کہیں مل جائیں !
کیا ہی اچھا ہو ! کہ ہم دوسرے لوگوں کی طرح

  •  کچھ تکلف سے سہی ! ٹہر کہ کچھ بات کریں !

اور اس عرصہء اخلاق و مروت میں ، کبھی
 ایک پل کے لئیے ، وہ ساعت نازک ، آ جاۓ !
ناخن لفظ ، کسی یاد کے زخموں کو چھوۓ !
ایک جھجھکتا ہوا جملہ ، کوئی دکھ دے جاۓ !
کون جانے گا ؟ کہ ہم دونوں پہ ، کیا بیتی ہے ؟
 اس خامشی کے اندھیروں سے ، نکل آئیں ، چلو !
کسی سلگتے ہوۓ لہجے سے ، چراغاں کر لیں !
چن لیں ! پھولوں کی طرح ، ہم بھی ! متاع الفاظ
 اپنے اجڑے ہوۓ دامن کو ، گلستاں کر لیں !
دولت درد ، بڑی چیز ہے ! اقرار کرو !
نعمت غم ، بڑی نعمت ہے ، یہ اظہار کرو !
لفظ ، پیماں بھی ! اقرار بھی ! اظہار بھی ہیں !
طاقت صبر ، اگر ہو ! تو یہ ، غم خوار بھی ہیں !
ہاتھ خالی ہوں ! تو یہ جنس گراں بار ، بھی ہیں !
پاس کوئی بھی نہ ہو ، پھر تو یہ ، دلدار بھی ہیں
 یہ جو تم ! مجھ سے گریزاں ہو ! میری بات سنو !
یہ جو تم ! مجھ سے گریزاں ہو ! میری بات سنو ۔۔۔!!!

 زہرہ نگاہ